ضیاء الحق زندہ ہے
سترہ اگست1988ء کی سہ پہر، تین بج کر اکاون منٹ پر، بہاولپور کے قریب ستلج کے کنارے ایک سی-130طیارہ زمین سے ٹکرایا اور پرزے پرزے ہو گیا۔ اس روز جنرل محمد ضیاء الحق مر گئے۔ اڑتیس برس بعد آج یہ لکھنا پڑتا ہے کہ وہ صرف مرے تھے، پاکستان سے گئے نہیں۔ جو شخص گیارہ سال حکومت کرے اور اڑتیس سال بعد بھی آپ کی عدالتوں، آپ کے تھانوں، آپ کے نصاب، آپ کے بینک فارم اور آپ کی مسجد کے منبر پر بیٹھا ہو، اسے تاریخ کا ایک کردار نہیں کہتے۔ اسے ایک مستقل بندوبست کہتے ہیں۔
شروع وہیں سے کیجیے جہاں سے سب کچھ شروع ہوا۔4جولائی1977ء کو حکومت اور پاکستان قومی اتحاد نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔5جولائی کو معاہدے پر دستخط ہونے تھے۔ اسی5جولائی کی رات جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ اس ایک تاریخ کو ذہن میں رکھیے، کیونکہ یہی اُس پورے بیانیے کی قبر ہے جو کہتا ہے کہ فوج انتشار روکنے آئی تھی۔ قومی اتحاد کا انتشار رُک رہا تھا۔ مگر جو چیز نہیں رُکنے والی تھی، وہ ضیاء الحق کا اقتدار کا حرص اور اس موقع کی تلاش تھی۔ موقع ملا، نوے دن میں انتخابات کا وعدہ کیا گیا۔ لیکن گیارہ برس گزر گئے۔ حرص ختم نہیں ہوا۔
پھر وہ ہوا جسے پاکستان کی عدالتی تاریخ آج تک اپنے گلے سے نہیں اتار سکی۔ ایک منتخب وزیرِاعظم پر قتل کا مقدمہ سیشن عدالت کے بجائے براہِ راست لاہور ہائی کورٹ میں چلایا گیا، مولوی مشتاق حسین کی سربراہی میں6فروری1979ء کو سپریم کورٹ نے چار کے مقابلے میں تین ووٹوں سے اپیل مسترد کر دی۔ ایک ووٹ کے فرق سے ایک منتخب وزیرِاعظم تختۂ دار پر گیا۔ سماعت کے دوران بینچ نو ججوں سے گھٹ کر سات رہ گیا۔ اکثریتی فیصلہ لکھنے والے چیف جسٹس انوار الحق وہی صاحب تھے جو ضیاء الحق کی غیر حاضری میں قائم مقام صدر کے فرائض انجام دے چکے تھے۔ جسٹس دوراب پٹیل، جسٹس صفدر شاہ اور جسٹس محمد حلیم نے اختلاف کیا؛ جسٹس صفدر شاہ کا اکتالیس صفحات سے زائد پھیلا ہوا اختلافی نوٹ اس نتیجے پر پہنچا کہ وعدہ معاف گواہ کا بیان ناقابلِ اعتبار اور بڑی حد تک سنی سنائی بات تھی۔ صدر کارٹر، بریژنیف، جیمز کیلاہن اور پوپ جان پال دوم تک نے رحم کی اپیل کی۔4اپریل1979ء کی صبح راولپنڈی جیل میں خاموشی سے پھانسی دے دی گئی۔2024ء میں سپریم کورٹ نے خود تسلیم کیا کہ اس مقدمے میں شفاف سماعت کے تقاضے پورے نہیں ہوئے تھے۔
24 مارچ1981ء کو عبوری آئینی حکم(پی سی او)جاری ہوا اور ججوں سے نئے حلف کا تقاضا کیا گیا۔ دراب پٹیل اور فخر الدین جی ابراہیم جیسے لوگ گھر چلے گئے۔ جو رہ گئے، انہوں نے وہ روایت قائم کی جو پھر عدالتوں میں بارہا دہرائی گئی۔ ضیاء الحق نے عدالت توڑی نہیں، اُس نے عدالت کو یہ سکھا دیا کہ وہ ہر نئے آقا کے سامنے دوبارہ حلف اٹھا سکتی ہے۔ یہ اُس کا سب سے کامیاب سبق تھا۔
13 مئی1978ء کو گیارہ صحافیوں کو فوجی عدالتوں نے سزا سنائی۔ ناصر زیدی، مسعود اللہ خان، اقبال جعفری اور خاور نعیم ہاشمی کو ایک نوجوان میجر کی سربراہی میں قائم سمری فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، منٹوں میں سزا سنائی گئی، اور ایک گھنٹے کے اندر کوٹ لکھپت جیل میں کمر تک برہنہ کر کے تیل میں بھگوئے ہوئے چمڑے کے کوڑے مارے گئے۔ یہ صرف چار صحافیوں کی پیٹھ پر کوڑے نہیں تھے۔ یہ اُس معاہدے پر کوڑے تھے جس کے تحت ریاست اور شہری ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔19دسمبر1980ء کو مارشل لا ریگولیشن نمبر49جاری ہوا:کوئی بھی ایسی بات چھاپنے پر دس سال قید، پچیس کوڑے اور جرمانہ جسے حکام ’’ملکی سالمیت یا اخلاقیات کے منافی‘‘ قرار دے دیں۔
10 فروری1979ء کو حدود آرڈیننس نافذ ہوئے۔ زنا آرڈیننس نے زیادتی اور بدکاری کو ایک ہی خانے میں ڈال دیا، اور اس ایک تکنیکی سطر نے ہزاروں عورتوں کی زندگی برباد کر دی۔ صفیہ بی بی، جو نابینا نوعمر ملازمہ تھی اور جسے1982ء میں اس کے آجر کے بیٹے نے زیادتی کا نشانہ بنایا، جب زیادتی ثابت نہ کر سکی تو24جولائی1983ء کو خود زنا کی مرتکب قرار پا کر تین سال قید، پندرہ کوڑوں اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا پا گئی۔ اس کا حمل اسی کے خلاف شہادت مان لیا گیا۔ قانونی امداد کے اداروں کے اندازوں کے مطابق1979ء میں پاکستان بھر کی جیلوں میں تقریباً ستر خواتین تھیں؛1988ء تک یہ تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی تھی۔ یہ محض ایک بد قانون نہیں تھا۔ یہ ریاست کا باقاعدہ اعلان تھا کہ ثبوت کا بوجھ مظلوم پر ہے اور خاموشی کا حق ظالم کے پاس۔1983ء میں جب لاہور میں عورتوں نے قانونِ شہادت کے خلاف احتجاج کیا تو ان پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں۔ وہ تصویریں آج بھی موجود ہیں۔
1980ء میں مذہبی شخصیات کے بارے میں توہین آمیز کلمات پر تین سال قید کا قانون آیا۔ اور1986ء میں دفعہ295-Cکے ذریعے توہینِ رسالت کو قابلِ دست اندازی جرم بنا کر اس کی سزا میں موت شامل کر دی گئی۔ اُس کے بعد پاکستان میں جتنے لوگ الزام لگنے پر ہجوم کے ہاتھوں مارے گئے، جتنی بستیاں جلیں، جتنے ذاتی جھگڑے اور جائیداد کے تنازعے مذہبی مقدمے بن کر عدالتوں میں پہنچے، ان سب کی قانونی جڑ ایک ہی جگہ ہے، اور اس جگہ پر ایک ہی آدمی کے دستخط ہیں۔
جون1980ء میں زکوٰۃ و عشر آرڈیننس کے تحت بینک کھاتوں سے ڈھائی فیصد کٹوتی شروع ہوئی۔ اہلِ تشیع نے اعتراض کیا کہ انہیں حنفی فقہ کے تابع نہیں کیا جا سکتا، اور جولائی1980ء میں تحریکِ نفاذِ فقہ جعفریہ کے زیرِ اہتمام اسلام آباد پر جو اجتماع ہوا اس نے حکومت کو استثنیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ ظاہری طور پر یہ ایک انتظامی رعایت تھی۔ حقیقت میں یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن تھا:اُس روز سے ریاست کے کاغذ پر ہر شہری کا فرقہ درج ہونا شروع ہوا۔ جو ملک اپنے شہریوں کو بینک فارم پر فرقوں میں تقسیم کرے، وہ خانہ جنگی کی فائل تیار کر رہا ہوتا ہے۔ اسی دہائی میں مدارس کو پہلی بار ریاستی سرپرستی اور زکوٰۃ فنڈ سے مالی وسائل ملے اور ان کی تعداد ایک اندازے کے مطابق آٹھ سو ترانوے سے بڑھ کر اٹھائیس سو سے تجاوز کر گئی۔ فرقہ واریت پاکستان میں آسمان سے نہیں اتری۔ اسے بجٹ ملا، دفتر ملا اور تحفظ ملا۔
پھر افغانستان۔ امریکہ کی وہ جنگ جس کے لئے ضیاء الحق کو اقتدار دلوایا گیا تھا۔ ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو طوالت بخشی لیکن اس جنگ کی قیمت آنے والی نسلوں کے لاکھوں بے گناہ انسانوں نے دی۔ امریکہ سے تین ارب بیس کروڑ ڈالر کی امداد آئی، اور اس کے علاوہ پانچ سے سات ارب ڈالر مجاہدین کے لیے پاکستان کے راستے گزرے۔ ان کے ساتھ کیا آیا؟ کلاشنکوف اور ہیروئن۔1987ء تک ’’کلاشنکوف کلچر‘‘ اخبارات کی اصطلاح بن چکا تھا، اور معیشت کا شعبۂ خدمات منشیات کی تجارت سے سہارا لے رہا تھا۔ کیمپس، صحافت اور دانش گاہوں سے بائیں بازو کو صاف کرنے کا کام باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت ہوا۔ آج ہم جس دہشت گردی پر ماتم کرتے ہیں، اُس کی پہلی اینٹ اسی دہائی میں رکھی گئی تھی۔
14 اگست1983ء کو تحریکِ بحالیِ جمہوریت شروع ہوئی۔ پنجاب خاموش رہا لیکن سندھ اٹھ کھڑا ہوا۔ ریاست کا جواب سیاسی نہیں تھا۔ پینتالیس ہزار فوجی سندھ بھیجے گئے، تین ڈویژن حرکت میں آئے، اور گن شپ ہیلی کاپٹروں نے دیہاتوں پر فائرنگ کی۔ لوگ صوفی درگاہوں اور مورو و دادو کے جنگلوں سے تحریک چلاتے رہے۔ کتنے مارے گئے؟ ریاست نے آج تک کوئی عدد شائع نہیں کیا۔ یہی خاموشی اُس زخم کا اصل حجم ہے۔
فروری1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کو ہم آج تک ایک انتظامی تفصیل سمجھتے ہیں۔ وہ ایک سماجی دھماکہ تھا۔ جب نظریہ ممنوع ہو تو برادری، زبان اور نسل باقی رہ جاتی ہے۔15اپریل1985ء کو کراچی میں ایک بس حادثے میں طالبہ بشریٰ زیدی کی موت ہوئی، اور شہر جل اٹھا۔ اُسی سال کراچی پولیس نے فسادات کے چھ سو آٹھ مقدمات درج کیے جن میں چھپن اموات ہوئیں۔ کراچی اُس کے بعد کبھی وہ شہر نہ رہا جو اس سے پہلے تھا۔
مگر ضیاء الحق کا سب سے پائیدار جرم بندوق نہیں، قلم تھا۔ دسمبر1984ء کے ریفرنڈم میں سوال اس طرح لکھا گیا کہ اسلام کے خلاف ووٹ دیے بغیر ضیاء الحق کے خلاف ووٹ دینا ممکن ہی نہ رہے؛ سرکاری نتیجہ ستانوے فیصد سے زائد حمایت کا آیا، جبکہ آزاد مبصرین کے نزدیک ایک تہائی ووٹر بھی باہر نہیں نکلا تھا۔2مارچ1985ء کو ’’بحالیِ آئین کا حکم‘‘ جاری ہوا جس نے پارلیمان کے بیٹھنے سے پہلے آئین کی تقریباً پینسٹھ شقوں کو بدل ڈالا۔ پھر آٹھویں ترمیم آئی، جس نے1977ء سے1985ء تک کے تمام مارشل لائی احکامات کو ماضی سے تحفظ دے دیا اور آرٹیکل58(2)(b)کے ذریعے صدر کو اسمبلی توڑنے اور وزیرِاعظم کو گھر بھیجنے کا اختیار سونپ دیا۔ یعنی جرم کو پہلے قانون بنایا گیا، پھر منتخب پارلیمان سے اس پر مہر لگوائی گئی۔ اسی ایک شق نے1988ء سے1996ء کے درمیان چار منتخب حکومتیں گرائیں۔ ضیاء الحق مر چکا تھا؛ اس کا قلم کام کرتا رہا۔
اور پھر10اپریل1988ء کو اوجڑی کیمپ کا اسلحہ ڈپو پھٹا اور راولپنڈی و اسلام آباد پر میزائل برسے۔ سو سے زائد افراد مارے گئے(تعداد پر آج تک اختلاف ہے)۔ ذخیرے میں تیس ہزار راکٹ، اسٹنگر میزائل اور دس کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ بتایا جاتا ہے۔ دھماکے نے ریکارڈ جلا دیا اور یہ اُسی دن ہوا جس دن ایک امریکی ٹیم اُسی اسلحے کا حساب لینے پہنچ رہی تھی۔ وزیرِاعظم محمد خان جونیجو نے تحقیقات کرائی تھی؛ اس کا انعام یہ ملا کہ29مئی1988ء کو ان کی حکومت برطرف کر دی گئی، اور الزام یہ لگا کہ وہ اسلام نافذ کرنے میں ناکام رہے۔ اڑتیس برس گزر گئے، رپورٹ آج بھی شائع نہیں ہوئی۔
اُس کے حامی ایک ہی دلیل رکھتے ہیں، اور وہ معاشی ہے:اسی کی دہائی میں شرحِ نمو اوسطاً ساڑھے چھ فیصد رہی اور1982-83ء میں ترسیلاتِ زر تین ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، یعنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً دسواں حصہ۔ لیکن اسی دلیل کے اندر اس کا جواب موجود ہے۔ انہی برسوں میں دفاعی بجٹ اوسطاً نو فیصد سالانہ بڑھا جبکہ ترقیاتی اخراجات حقیقی معنوں میں صرف تین فیصد؛1987-88ء تک دفاع ترقی سے آگے نکل چکا تھا۔ ضیاء الحق کوئی طویل مدتی معاشی حکمتِ عملی نہیں رکھتا تھا، اور اپنے پیچھے کوئی بڑا زیرِ تعمیر منصوبہ چھوڑ کر نہیں گیا۔ یہ ترقی نہیں تھی، یہ ادھار تھا۔ اُس نے ایک دہائی کی خوشحالی اگلی چار دہائیوں کے کھاتے سے لی، اور بل ہمیں بھیج دیا۔
یہ سب زندہ بچ گئے۔ اور تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ اُس کے بعد کے اڑتیس برسوں میں انہیں چلانے والے فوجی نہیں تھے:منتخب حکومتیں تھیں، سویلین عدالتیں تھیں، اور ہماری اپنی سہولت پسند خاموشی تھی۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ضیاء الحق کو کس نے مارا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اسے اڑتیس سال سے زندہ کون رکھے ہوئے ہے؟

