"`html
موت کا اکھاڑہ:پاکستان میں باڈی بلڈنگ کے پردے کے پیچھے چھپا خطرناک کھیل
جم کے شیشوں میں چمکتے پٹھے، اسٹیج پر تالیوں کی گونج اور مسٹر پاکستان کا خواب — مگر اس چمک دمک کے پیچھے ایک ایسی حقیقت بھی موجود ہے جو نوجوان کھلاڑیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
پاکستان بھر کے جموں میں جسمانی ساخت بہتر بنانے اور مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے بعض نوجوان ایسے کیمیکلز اور ادویات کا استعمال کرتے ہیں جن کے بارے میں طبی ماہرین طویل مدتی صحت کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ تمغوں اور جسمانی نمائش کے پیچھے صحت کی قیمت ادا کرنے کا یہ رجحان اب محض انفرادی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک بڑے نظام کی خامیوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔
شوق یا سلو پوائزن؟
مسٹر پاکستان اور جونیئر مسٹر پاکستان جیسے مقابلوں میں شرکت کا خواب دیکھنے والے نوجوان بعض اوقات لاکھوں روپے تربیت، خوراک، سپلیمنٹس اور ادویات پر خرچ کرتے ہیں۔ باضابطہ مقابلے، ججز اور اسکورنگ سسٹم بظاہر ایک منظم کھیل کا تاثر دیتے ہیں، مگر بعض ایتھلیٹس کے مطابق اسٹیج کے پیچھے انجکشنز، گولیاں اور مختلف کیمیائی مادوں کا استعمال بھی موجود ہے۔
این وائی اردو سے خصوصی گفتگو میں ایک سابق باڈی بلڈر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، ایسے دعوے بیان کیے جن کے مطابق بعض نوجوان جسمانی حجم اور کارکردگی بڑھانے کے لیے ایسی ادویات استعمال کرتے ہیں جن کے ممکنہ نقصانات سے وہ مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتے۔
دل بڑھانے والا ’’زہر‘‘
سابق باڈی بلڈر کے مطابق جنوٹرپن جیسےHGHپر مبنی انجکشنز کے غلط یا غیر طبی استعمال سے جسم کے مختلف اعضا پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ طبی لٹریچر میں گروتھ ہارمون کے غیر ضروری استعمال کو دل اور دیگر جسمانی نظاموں پر ممکنہ اثرات سے جوڑا گیا ہے۔ اسی طرحIGF-1سے متعلق بھی طبی نگرانی کے بغیر استعمال کے حوالے سے احتیاط ضروری ہے۔
اسٹیرائیڈز کی دنیا — جہاں ہر ڈوز ایک جوا ہے
سابق باڈی بلڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ کراچی اور لاہور کے بعض جموں میں نئے ممبران کو ’’شارٹ کٹ‘‘ کے نام پر مختلف انجکشنز اور ادویات استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق ضروری ہے، تاہم اگر ایسی صورتحال موجود ہے تو یہ کھلاڑیوں کی صحت اور جم انڈسٹری کی نگرانی دونوں کے لیے سنجیدہ سوال ہے۔
2016: جب اسٹیج ماتم کدہ بن گیا
2016 میں پنجاب کے چار نمایاں باڈی بلڈرز کی مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ اسٹیرائیڈز کے استعمال سے اموات کی خبریں سامنے آئیں، جس کے بعد ملک میں تشویش پیدا ہوئی اور مقابلوں کے انتظام و نگرانی پر سوالات اٹھے۔ تاہم ایسے واقعات کے حقیقی اسباب کا تعین طبی اور فرانزک تحقیقات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اس مسئلے کا ایک بنیادی پہلو قابلِ اعتماد اعداد و شمار کی کمی بھی ہے۔ باڈی بلڈنگ سے متعلق اموات میں پوسٹ مارٹم، ٹاکسیکولوجی اور مرکزی ریکارڈ کی عدم موجودگی کی صورت میں یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ کسی موت میں ادویات، پہلے سے موجود بیماری یا دیگر عوامل کا کتنا کردار تھا۔
2019 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں پاکستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے باڈی بلڈرز میں اینابولک اینڈروجینک اسٹیرائیڈز کے استعمال کا جائزہ لیا گیا تھا، جس سے اس مسئلے کی موجودگی پر مزید بحث سامنے آئی۔
کوچز کی ’’کمیشن اکانومی‘‘
بعض کھلاڑیوں کے مطابق سپلیمنٹس اور نیوٹریشن کے نام پر غیر منظور شدہ ادویات فروخت کرنے کا ایک غیر رسمی کاروبار بھی موجود ہے۔ بعض اوقات نئے کھلاڑیوں کو یہ کہہ کر ادویات دی جاتی ہیں کہ یہ صرف ’’وٹامن‘‘ یا عام سپلیمنٹ ہے۔
تاہم یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ تمام کوچز یا جم مالکان کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں۔ متعدد معتبر جم، سرٹیفائیڈ ٹرینرز اور کوچز طبی نگرانی کے بغیر ادویات کے استعمال کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے، خصوصاً کم عمر کھلاڑیوں کے معاملے میں۔
جسم پر تباہی، ذہن پر حملہ
طبی ماہرین کے مطابق اینابولک اسٹیرائیڈز اور دیگر کارکردگی بڑھانے والی ادویات کے غیر طبی استعمال سے متعدد جسمانی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
- بلڈ پریشر میں اضافہ اور قلبی بیماریوں کا خطرہ
- جگر کو نقصان اور بعض صورتوں میں سنگین پیچیدگیاں
- گردوں پر اضافی دباؤ اور گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے کا امکان
- مردوں میں ہارمونل عدم توازن، بانجھ پن اور خصیوں کے سکڑنے کا خطرہ
- خواتین میں آواز بھاری ہونے اور دیگر مردانہ خصوصیات کے نمودار ہونے کا امکان
- مزاج میں شدید تبدیلیاں، غصہ، اضطراب اور ڈپریشن
- ادویات بند کرنے کے بعد ہارمونل اور نفسیاتی مسائل
- جسمانی ساخت کے بارے میں غیر حقیقی تصور اور مزید خطرناک ڈوز لینے کا دباؤ
طبی احتیاط: کسی مخصوص دوا کے استعمال، بانجھ پن، اولاد میں پیدائشی مسائل یا کسی موت کو براہِ راست اسٹیرائیڈز سے منسوب کرنے کے لیے فرداً فرداً طبی، ٹاکسیکولوجی اور فرانزک شواہد ضروری ہوتے ہیں۔ محض دعوے یا مشاہدات کو حتمی طبی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
کیا باڈی بلڈنگ واقعی ’’کھیل‘‘ ہے؟
عالمی سطح پر بھی باڈی بلڈنگ کی نوعیت پر بحث جاری رہی ہے۔ اس میں مقابلہ، ججز اور اسکورنگ کا نظام موجود ہے، تاہم فیصلہ بنیادی طور پر جسمانی ساخت، مسلز کی نشوونما، تناسب اور اسٹیج پریزنٹیشن جیسے عوامل پر کیا جاتا ہے۔ اسی لیے بعض حلقے اسے روایتی کھیلوں سے مختلف فٹنس یا فزیک کمپٹیشن کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ڈوپنگ کے حوالے سے بین الاقوامی باڈی بلڈنگ کے مختلف اداروں کی حیثیت اور ٹیسٹنگ نظام بھی طویل عرصے سے بحث کا موضوع رہے ہیں۔ یہی پیچیدگیاں اس سوال کو جنم دیتی ہیں کہ اعلیٰ سطح کی باڈی بلڈنگ میں محفوظ اور مؤثر اینٹی ڈوپنگ نگرانی کس طرح یقینی بنائی جائے۔
نتیجہ:پیسے کا کھیل، جان کی قیمت پر
ماہرین کے نزدیک مسئلہ صرف حکومتی بے حسی تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسے نظام کی نشاندہی کرتا ہے جہاں مؤثر نگرانی، قابلِ اعتماد ڈیٹا، کوچز کی پیشہ ورانہ تربیت، ادویات کی فروخت پر کنٹرول اور کھلاڑیوں کی طبی اسکریننگ میں خلا موجود ہو سکتا ہے۔
اگر باڈی بلڈنگ کو صحت مند کھیل کے طور پر آگے بڑھانا ہے تو صرف بڑے پٹھے اور اسٹیج کی چمک کافی نہیں۔ کھلاڑی کی زندگی، طبی سلامتی اور ذمہ دارانہ تربیت کو بھی کامیابی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ ورنہ تالیوں اور تمغوں کے پیچھے چھپا یہ خاموش خطرہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔

