• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » کینیڈا اور امریکہ کی تجارتی جنگ⁦:⁩کس کی جیت، کس کی ہار؟
امریکہ

کینیڈا اور امریکہ کی تجارتی جنگ⁦:⁩کس کی جیت، کس کی ہار؟

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 26, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
بین الاقوامی معیشت

کینیڈا اور امریکہ کی تجارتی جنگ⁦:⁩کس کی جیت، کس کی ہار؟

احمد نعیم خان

تحریر: احمد نعیم خان

کینیڈا اور امریکہ کے درمیان جاری ٹیرف جنگ نے دونوں ملکوں کی معیشت، سپلائی چینز اور عوامی جذبات کو متاثر کر دیا ہے؛ تجارتی ماہرین کے مطابق اس کشمکش میں کسی ایک فریق کی واضح فتح مشکل دکھائی دیتی ہے۔

کینیڈا اور امریکہ کے درمیان گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری تجارتی تنازع اس ہفتے اس وقت شدید تر ہو گیا جب دونوں حکومتوں نے ٹیرف⁦(⁩محصولات⁦)⁩کے معاملے پر ایک دوسرے کے خلاف تادیبی کارروائی کی۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تعطل سے دونوں معیشتوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

22 اگست کو کینیڈا کی وسیع پیمانے پر مصنوعات پر⁦50⁩فیصد امریکی ٹیرف نافذ العمل ہوا، جن میں ڈیری، الکحل، الیکٹرانکس، تعمیری سامان، ملبوسات اور زرعی مصنوعات شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس اقدام کو کینیڈا کی جانب سے امریکی ڈیری، الکحل اور گاڑیوں کی برآمدات کے ساتھ مبینہ ”امتیازی سلوک“ کے جواب میں انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ ٹیرف ان اشیاء پر بھی لاگو ہوتے ہیں جو کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے درمیان موجود تجارتی معاہدے⁦CUSMA⁩کے مطابق ہیں، جبکہ امریکی حکام نے ان اقدامات کی کوئی اختتامی تاریخ بھی مقرر نہیں کی۔

کینیڈا کا جوابی وار

کینیڈا نے جواب دینے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔ منگل کے روز وزیر اعظم مارک کارنی نے سینکڑوں امریکی مصنوعات پر⁦50⁩فیصد تک کے جوابی ٹیرف کا اعلان کیا، جو⁦8⁩ستمبر سے نافذ العمل ہوں گے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں امریکی اسٹیل اور ایلومینیم پر کینیڈین ٹیرف دگنا ہو کر⁦50⁩فیصد ہو جائے گا، جبکہ اس کا دائرہ الیکٹرانکس، ڈیری اور دیگر اشیاء تک بھی پھیلایا جائے گا۔ کارنی کے مطابق یہ پیکیج ”واشنگٹن کے نئے ٹیرف کا برابر کا جواب“ ہوگا۔

”کینیڈا اس تنازع میں اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔“

اوٹاوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارک کارنی کا یہ بیان واضح اشارہ دیتا ہے کہ کینیڈین حکومت امریکی دباؤ کے سامنے فوری طور پر پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

تنازع کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟

موجودہ تجارتی کشمکش کا آغاز فروری⁦2025⁩میں ہوا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد ہونے والی اشیاء پر تقریباً عالمگیر ٹیرف عائد کیے۔ زیادہ تر اشیاء پر⁦25⁩فیصد محصولات عائد کیے گئے، جبکہ کینیڈین توانائی کے لیے⁦10⁩فیصد ٹیرف رکھا گیا۔

کینیڈا نے بھی جوابی ٹیرف عائد کیے جو بالآخر تقریباً⁦155⁩ارب کینیڈین ڈالر مالیت کی امریکی اشیاء تک پھیل گئے۔ اس کے بعد تنازع اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور صارفین کی اشیاء تک وسیع ہوتا چلا گیا۔

نتیجتاً دہائیوں سے نسبتاً ہموار انداز میں چلنے والی دونوں ملکوں کی سپلائی چینز متاثر ہوئیں۔ یکم جولائی کی توسیع کی آخری تاریخ بھی کسی معاہدے کے بغیر گزر گئی، جس کے بعد⁦CUSMA⁩کی تجدید کے لیے مذاکرات ناکام ہوئے اور معاہدہ ایک غیر یقینی سالانہ جائزے کے عمل میں داخل ہو گیا۔

تجارتی جنگ کا عوامی ردِعمل

اس معاشی کشمکش نے دونوں ملکوں کے عوامی جذبات کو بھی متاثر کیا ہے۔ امریکی مصنوعات اور سفر کے بائیکاٹ کا رجحان، جو⁦2025⁩کے اوائل میں کینیڈا میں شروع ہوا تھا، مزید مضبوط ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ کے بار بار اس بیان نے بھی کینیڈین عوام میں ناراضی کو بڑھایا کہ کینیڈا مستقبل میں ”51 ویں ریاست“ بن سکتا ہے۔ سرحد پار سفر میں کمی آئی ہے، جبکہ بعض صوبائی حکومتوں نے معاشی قوم پرستی کے اظہار کے طور پر امریکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے منسوخ کیے ہیں۔

کیا اس جنگ میں کوئی فاتح ہے؟

تجارتی تجزیہ کار بڑی حد تک ایک بات پر متفق ہیں⁦:⁩اس تنازع میں کسی ایک ملک کی واضح فتح ممکن نہیں۔ البتہ کینیڈا کے لیے خطرات نسبتاً زیادہ نمایاں ہیں۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کینیڈا کی برآمدات کا تقریباً تین چوتھائی حصہ جنوبی سرحد عبور کرکے امریکہ جاتا ہے، جبکہ امریکی برآمدات کا نسبتاً چھوٹا حصہ کینیڈا کی منڈی پر منحصر ہے۔

اس عدم توازن کے باعث اسٹیل، ایلومینیم، آٹو اور توانائی سمیت متعدد کینیڈین صنعتوں کو طویل مدتی ٹیرف نظام سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ امریکی منڈی تک رسائی میں رکاوٹ کینیڈین صنعتوں، کارکنوں اور کاروباری اداروں کے لیے بھاری قیمت ثابت ہو سکتی ہے۔

امریکہ بھی نقصان سے محفوظ نہیں

تاہم امریکہ بھی اس تجارتی جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ امریکی صارفین کو کینیڈین ڈیری، الکحل، لکڑی اور توانائی سمیت متعدد مصنوعات کے لیے زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑ سکتی ہیں۔

دوسری جانب امریکی اسٹیل، زراعت اور آٹو سیکٹر کے برآمد کنندگان کو کینیڈا کے جوابی ٹیرف کے ساتھ ساتھ کینیڈین خریداروں کے غیر رسمی بائیکاٹ کا بھی سامنا ہے۔

”تجارتی جنگ سے دونوں ممالک کو نقصان ہوگا، کیونکہ کاروباری لاگت اور صارفین کی قیمتوں میں اضافہ دونوں جانب جوابی کارروائیوں کا ناگزیر نتیجہ ہے۔“

مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے؟

کینیڈا کے جوابی اقدامات⁦8⁩ستمبر سے لاگو ہونے والے ہیں، جبکہ دوبارہ مذاکرات کے فوری امکانات بھی واضح نہیں۔ اس صورتحال میں تجارتی تنازع کے جلد ختم ہونے کی امید کم دکھائی دیتی ہے۔

حالیہ امریکی ٹیرف کی غیر معین مدت اور⁦CUSMA⁩کے جائزے کا عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں اتحادی ممالک فوری سمجھوتے کے بجائے ایک طویل تجارتی کشمکش کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔

فی الحال سرحد کے دونوں اطراف کاروباری ادارے، کارکنان اور صارفین اس تنازع کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ یہ وہ دو معیشتیں ہیں جو حال ہی تک دنیا میں سب سے زیادہ باہم مربوط تجارتی شراکت داروں میں شمار ہوتی تھیں۔

اگر یہ تجارتی جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کا نقصان صرف حکومتوں یا بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عام صارف، مزدور، کسان اور چھوٹا کاروبار بھی اس کی زد میں آئے گا۔ چنانچہ اس صورتِ حال پر یہ ضرب المثل بالکل صادق آتی ہے: سانڈوں کی لڑائی میں گھاس کچلی جاتی ہے۔

احمد نعیم خان
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleایران کے خلاف امریکی ’اقتصادی ڈی ڈے‘؛ ٹرمپ نے دباؤ مزید بڑھا دیا
Next Article موت کا اکھاڑہ⁦:⁩پاکستان میں باڈی بلڈنگ کے پردے کے پیچھے چھپا خطرناک کھیل
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.