امریکا کا ایران کے خلاف ’اقتصادی ڈی ڈے‘؛ تجارت اور آمدنی کے تمام راستے بند کرنے کی مہم
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو عالمی اقتصادی نظام سے مزید تنہا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر نئی پابندیوں اور ثانوی پابندیوں کا اعلان کردیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ میں بڑی شدت پیدا کرتے ہوئے ایک نئی مہم شروع کردی ہے، جسے
’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ اور
’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ قرار دیا جارہا ہے۔
واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ میں ایک نیا اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے تہران کے باقی ماندہ تجارتی اور آمدنی کے ذرائع کو نشانہ بنانے کی مہم شروع کردی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ایران کو عالمی معیشت میں موجود ان راستوں سے محروم کرنا ہے جن کے ذریعے وہ تجارت، تیل کی فروخت، مالی لین دین اور دیگر ذرائع سے آمدنی حاصل کررہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ جاری طویل امریکی و اسرائیلی تنازع نے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے اور فوجی کارروائیوں کے باوجود فوری اور فیصلہ کن نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی اقتصادی مہم کا مقصد تہران پر اس قدر دباؤ ڈالنا ہے کہ ایران کی حکومت کے لیے بیرونی مالی اور تجارتی روابط برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوجائے۔
’ہر اقتصادی زندگی کی لکیر کاٹ دیں گے‘
24 اگست2026کو امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے نئی مہم کا اعلان کرتے ہوئے اسے ایک غیر معمولی کوشش قرار دیا۔ ان کے مطابق مقصد ایرانی حکومت کو سہارا دینے والی
’’ہر اقتصادی زندگی کی لکیر کاٹ دینا‘‘
ہے تاکہ تہران بالآخر عالمی سطح پر تنہا رہ جائے۔
یہ اعلان مذاکرات میں تعطل کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ایران سے متعلق بعض معاملات، جن میں آبنائے ہرمز اور جوہری مسئلہ بھی شامل تھا، پر پیش رفت کے لیے60روزہ مدت سے وابستہ کوششیں کی گئی تھیں، تاہم وہ کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکیں۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل19اور20اگست کو اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹس میں ایران کے خلاف
’’اب تک کی سب سے تباہ کن اقتصادی کارروائی‘‘
اور
’’اقتصادی جنگ‘‘
کا عندیہ دے چکے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ جو ممالک ایران کو تیل کی اسمگلنگ، مالی منتقلی، جہاز رانی یا دیگر ذرائع سے اقتصادی سہارا فراہم کریں گے، انہیں
’’بہت بڑے اقتصادی نتائج‘‘
کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نئی پابندیوں کا دائرہ کن شعبوں تک پھیلایا گیا؟
نئی امریکی حکمت عملی میں ایران کے لیے آمدنی پیدا کرنے اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے کئی اہم شعبوں کو خصوصی ہدف بنایا گیا ہے۔
- ڈیجیٹل اثاثے اور کرپٹو کرنسی: ایران کے مالیاتی لین دین اور پابندیوں سے بچنے کے ممکنہ ذرائع پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔
- ٹیکنالوجی: ایسی ٹیکنالوجی اور نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جائے گا جو ایرانی حکومت یا اس سے منسلک اداروں کی مدد کرسکتے ہیں۔
- سونا: سونے کی تجارت اور مالی لین دین کے ذریعے آمدنی یا پابندیوں سے بچنے کے راستوں کو محدود کیا جائے گا۔
- ہوابازی: ایران سے متعلق فضائی اور تجارتی نیٹ ورکس پر مزید پابندیوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
- شپنگ: جہاز رانی، بروکریج، بنکرنگ اور تیل کی نقل و حمل سے وابستہ نیٹ ورکس کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔
تقریباً60ادارے، افراد اور بحری جہاز پابندیوں کی زد میں
امریکی حکومت نے دنیا کے مختلف حصوں میں موجود تقریباً60اداروں، افراد اور بحری جہازوں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں متحدہ عرب امارات، ہانگ کانگ اور چین، سنگاپور، سوئٹزرلینڈ اور دیگر مقامات سے وابستہ نیٹ ورکس شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ نیٹ ورکس ایرانی تیل کی فروخت، جوہری اور میزائل پروگرام کے لیے سامان کے حصول، سائبر سرگرمیوں اور دیگر متعلقہ کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔
ڈالر نظام سے اخراج کا خطرہ
واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے لیے منی لانڈرنگ یا امریکی پابندیوں سے بچنے کے انتظامات میں سہولت فراہم کرنے والے اداروں کو امریکی ڈالر کے مالیاتی نظام سے کاٹنے کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ مختلف ممالک اور کمپنیوں کو ایران سے اپنے تعلقات ختم کرنے کے لیے مقررہ وقت بھی دیا گیا ہے، بصورت دیگر یک طرفہ امریکی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چین سب سے اہم خریدار، مگر دباؤ میں
ایران کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں چین نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ چین ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور بعض اندازوں کے مطابق ایرانی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً90فیصد تک حصہ چین پہنچتا ہے۔ یہ تجارت ایران کے لیے سالانہ دسیوں ارب ڈالر کی آمدنی کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
ایرانی تیل کی تجارت میں بعض چینی آزاد ریفائنریاں، جنہیں عام طور پر
’’ٹی پاٹ ریفائنریز‘‘
کہا جاتا ہے، شامل رہی ہیں۔ تجارت کے لیے بعض اوقات شیڈو فلیٹس، مختلف ناموں سے تیل کی دوبارہ شناخت اور غیر ڈالر ادائیگیوں جیسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔
چینی حکام یک طرفہ امریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ تازہ امریکی کارروائی میں چین اور ہانگ کانگ سے منسلک بعض اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم بڑے چینی بینکوں کو اب تک بڑے پیمانے پر پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ چین کے ساتھ وسیع تر تعلقات کو بھی مدنظر رکھ رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے تجارت روکنے کا اعلان کردیا
متحدہ عرب امارات تاریخی طور پر ایران کے ساتھ تجارت اور ایرانی سامان کی ترسیل کا ایک اہم مرکز رہا ہے اور ماضی میں پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے نیٹ ورکس سے بھی اس کا نام جوڑا جاتا رہا ہے۔
تاہم حالیہ صورتحال میں متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی، کاروباری اور مالی لین دین روکنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ تہران پر عائد الزامات اور خطے میں میزائل سرگرمیوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
ترکی، عراق، بھارت اور پاکستان کے لیے مشکل انتخاب
ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں ترکی، عراق، بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ نئی امریکی ثانوی پابندیوں کے باعث ان ممالک کے لیے ایران کے ساتھ اقتصادی روابط برقرار رکھنا اور ساتھ ہی امریکی مالیاتی نظام تک رسائی محفوظ رکھنا ایک مشکل توازن بن سکتا ہے۔
ایران سے متعلق پابندیوں کا دائرہ سنگاپور، سوئٹزرلینڈ، ملائیشیا، یونان اور دیگر ممالک تک پھیلے ان نیٹ ورکس کو بھی متاثر کرسکتا ہے جو جہاز رانی، ایندھن کی فراہمی، بروکریج، مالی سہولت کاری اور ایرانی تیل کی نقل و حمل سے وابستہ ہیں۔
ایران کے لیے اقتصادی دباؤ
امریکا پہلے ہی ایران پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کرچکا ہے اور بحری ناکہ بندی سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے تہران کی اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایرانی تیل کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں، ملکی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی آئی ہے اور مہنگائی بلند سطح پر ہے۔ ان عوامل کے باعث ایرانی معیشت کے سکڑنے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
ٹرمپ کی عالمی سفارتی مہم
اقتصادی پابندیوں کے ساتھ صدر ٹرمپ نے دنیا کے مختلف رہنماؤں سے سفارتی رابطے بھی شروع کیے ہیں اور ان سے ایران کے ساتھ اقتصادی و تجارتی روابط ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔
واشنگٹن کا پیغام بظاہر واضح ہے کہ جو ممالک اور کمپنیاں امریکی پابندیوں کی تعمیل کریں گی انہیں امریکی تعاون اور شراکت داری کے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ روابط جاری رکھنے والے فریقوں کو تہران کے ساتھ بڑھتی ہوئی اقتصادی تنہائی میں شریک تصور کیا جاسکتا ہے۔
کیا یہ فوری پابندیاں ہیں یا سخت انتباہ؟
نئی مہم کے اعلان کے باوجود اس کی مکمل عملی تفصیلات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔ خاص طور پر بڑے چینی مالیاتی اداروں اور دیگر اہم عالمی معاشی کھلاڑیوں کے خلاف ثانوی پابندیوں کا حقیقی دائرہ مستقبل کے اقدامات سے واضح ہوگا۔
بعض تجزیوں کے مطابق واشنگٹن کا موجودہ اقدام ایک انتہائی سخت
’’وارننگ شاٹ‘‘
بھی ہوسکتا ہے، جس کے ذریعے امریکا پہلے عالمی کمپنیوں اور حکومتوں کو ایران سے تعلقات ختم کرنے کا موقع دے رہا ہے، جبکہ عدم تعاون کی صورت میں مزید سخت یک طرفہ پابندیوں کی دھمکی برقرار رکھی گئی ہے۔

