ناروے کے اصلاحات پسند کنگ ہیرالڈ پنجم89برس کی عمر میں انتقال کر گئے
ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم، جو یورپ کے سب سے عمر رسیدہ حکمران بادشاہ تھے اور جنہوں نے اپنے35سالہ دورِ حکومت میں قدیم نورڈک بادشاہت کو جدید خطوط پر استوار کیا، جمعے کے روز89برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ناروے کے شاہی محل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بادشاہ ہیرالڈ پنجم مقامی وقت کے مطابق صبح6بج کر35منٹ پر اوسلو یونیورسٹی ہسپتال میں پُرسکون انداز میں دنیا سے رخصت ہوئے، جہاں وہ خون میں بیکٹیریا کے انفیکشن کے باعث زیرِ علاج تھے۔
طویل عرصے سے صحت کے مسائل کا سامنا
بادشاہ ہیرالڈ17اگست سے ہسپتال میں داخل تھے، جہاں انہیں ہیمولائٹک اینیمیا کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ ایک ایسی طبی کیفیت ہے جس میں خون کے سرخ خلیے غیر معمولی رفتار سے ٹوٹنے لگتے ہیں۔
بعد ازاں ان کی صحت خون میں بیکٹیریا کے انفیکشن کے باعث مزید بگڑ گئی۔ حالیہ برسوں میں بادشاہ کو متعدد طبی مسائل کا سامنا رہا، جن میں2024میں پیس میکر لگایا جانا بھی شامل تھا۔
تاہم صحت کے مسلسل مسائل کے باوجود بادشاہ ہیرالڈ پنجم نے کبھی تخت سے دستبردار ہونے کا امکان قبول نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارلیمان کے سامنے زندگی بھر بادشاہت کی ذمہ داری نبھانے کا حلف اٹھایا ہے۔
ناروے کے وزیراعظم یوناس گار اسٹورے نے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک پوری قوم سوگ میں ڈوب گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بادشاہ ہیرالڈ نے ان مواقع پر قوم کو متحد کرنے والے الفاظ فراہم کیے جب ناروے کے عوام کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔
بادشاہ کے انتقال کے بعد ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں کر دیے گئے، دوپہر کے وقت گرجا گھروں کی گھنٹیاں بجائی گئیں جبکہ اوسلو میں شاہی محل کے باہر بڑی تعداد میں شہری جمع ہوئے اور پھول، قومی پرچم اور تعزیتی پیغامات پیش کیے۔
ناروے میں سرکاری طور پر قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جو شاہی جنازے تک جاری رہے گا۔
ولی عہد ہاکون نئے بادشاہ بن گئے
بادشاہ ہیرالڈ پنجم کے53سالہ صاحبزادے ولی عہد شہزادہ ہاکون خودکار طور پر تخت کے وارث بن گئے ہیں اور اب وہ بادشاہ ہاکون ہشتم کے نام سے ناروے کے نئے بادشاہ ہوں گے۔
نئے بادشاہ کی بیٹی شہزادی انگرڈ الیگزینڈرا اب ناروے کے تخت کی وارث قرار پائیں گی۔
بادشاہ ہاکون ہشتم نے جمعے کے روز حکومت کے ساتھ ریاستی کونسل کا ایک غیر معمولی اجلاس بھی منعقد کیا اور ناروے کے شاہی خاندان کا روایتی نعرہ ’’سب کچھ ناروے کے لیے‘‘ اختیار کیا۔
ایک جدید بادشاہت کی تشکیل
بادشاہ ہیرالڈ پنجم21فروری1937کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ14ویں صدی کے بعد ناروے کی سرزمین پر پیدا ہونے والے پہلے نارویجین شہزادے تھے۔
بچپن میں نازی جرمنی کے ناروے پر قبضے کے دوران وہ اپنی والدہ اور بہنوں کے ہمراہ امریکا منتقل ہو گئے تھے۔
انہوں نے1991میں اپنے والد بادشاہ اولاو پنجم کے انتقال کے بعد ناروے کا تخت سنبھالا۔
اپنے دورِ حکومت کے دوران بادشاہ ہیرالڈ پنجم نے ناروے کی بادشاہت کو جدید بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کا ایک نمایاں فیصلہ1968میں عام شہری خاندان سے تعلق رکھنے والی سونیا ہیرالڈسن سے شادی تھا، جسے اس وقت کئی برسوں تک سیاسی اور سماجی تنازع کا سامنا رہا۔
بعد ازاں انہوں نے اپنے بچوں کی غیر شاہی خاندانوں سے شادیوں کی بھی منظوری دی، جسے ناروے کی جدید بادشاہت کی سمت ایک اہم قدم سمجھا گیا۔
بادشاہ ہیرالڈ اپنی سادہ مزاج شخصیت، کشتی رانی سے محبت اور جدید جمہوری معاشرے میں بادشاہت کے رسمی ادارے کو عوام کے قریب اور متعلقہ رکھنے کی کوششوں کے لیے مشہور تھے۔
دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات
بادشاہ ہیرالڈ پنجم کے انتقال پر دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات موصول ہوئے۔
برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے اپنے ’’عزیز کزن‘‘ کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ سویڈن کے بادشاہ کارل گستاف شانزدہم نے بادشاہ ہیرالڈ کو اپنا ایک اچھا دوست قرار دیتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے بھی ناروے کے مرحوم بادشاہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ناروے کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر ارلنگ ہالینڈ سمیت متعدد معروف شخصیات نے بھی بادشاہ ہیرالڈ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔
شاہی خاندان اور آخری رسومات
بادشاہ ہیرالڈ پنجم اپنے پیچھے تقریباً58سالہ شریکِ حیات ملکہ سونیا، اپنے بچوں بادشاہ ہاکون اور شہزادی مارتھا لوئس کے علاوہ متعدد پوتے اور نواسے چھوڑ گئے ہیں۔
بعد ازاں ان کا تابوت اوسلو یونیورسٹی ہسپتال سے شاہی محل منتقل کر دیا گیا، جہاں اسے عوام کے لیے رکھا جائے گا تاکہ شہری سرکاری جنازے سے قبل اپنے مرحوم بادشاہ کو آخری خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔
ناروے کے شاہی خاندان کی جانب سے سرکاری جنازے کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا، تاہم ملک بھر میں قومی سوگ جاری ہے۔

