• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ایران سے مبینہ مالی روابط پر امریکا کا بانق مصر کی⁦UAE⁩شاخوں کے خلاف بڑا اقدام
امریکہ

ایران سے مبینہ مالی روابط پر امریکا کا بانق مصر کی⁦UAE⁩شاخوں کے خلاف بڑا اقدام

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 29, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

ایران سے روابط کے الزام پر امریکا کا مصری بینک بانق مصر کی متحدہ عرب امارات شاخوں پر پابندیوں کا اقدام

NY
نیوز ڈیسک
بین الاقوامی معیشت و سیاست

امریکا نے مصر کے معروف سرکاری بینک بانق مصر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ان شاخوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کو امریکی ڈالر تک رسائی فراہم کرنے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر کام کرتی رہی ہیں اور تہران کے مبینہ ’’شیڈو بینکنگ نیٹ ورکس‘‘ سے منسلک کروڑوں ڈالر کے لین دین کی پروسیسنگ میں شامل رہی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ یہ اقدام وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی مہم ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے تحت کیا جا رہا ہے اور اس کا ہدف Banque Misr UAE ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مالیاتی جرائم سے متعلق ادارے FinCEN نے ایک ایسا ضابطہ تجویز کیا ہے جس کے تحت بانق مصر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں کی امریکی مالیاتی اداروں کے ساتھ کورسپونڈنٹ بینکنگ تک رسائی ختم کر دی جائے گی۔ اس اقدام کے نتیجے میں ان شاخوں کی امریکی ڈالر میں لین دین کلیئر کرنے کی صلاحیت شدید طور پر محدود ہو سکتی ہے۔

مجوزہ اقدام کے نافذ العمل ہونے سے قبل اسے 30 روزہ عوامی رائے اور تبصروں کی مدت سے گزرنا ہوگا۔

1.8 ارب ڈالر
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق جنوری⁦2024⁩سے جون⁦2026⁩کے درمیان بانق مصر⁦UAE⁩نے⁦103⁩کمپنیوں کے لیے تقریباً⁦1.8⁩ارب ڈالر کے لین دین کی پروسیسنگ کی، جنہیں ممکنہ طور پر ایران کے مبینہ شیڈو بینکنگ نیٹ ورکس کا حصہ قرار دیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات میں قائم بانق مصر کی شاخیں ایرانی حکومت کے لیے امریکی ڈالر تک رسائی کے حوالے سے ایک ’’اہم مرکز‘‘ کے طور پر کام کر رہی تھیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کا الزام ہے کہ ان شاخوں کے بعض صارفین میں ایسی فرنٹ کمپنیاں شامل تھیں جنہیں مبینہ طور پر ایران کی وزارت دفاع اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا۔ امریکی حکام نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعض ادارے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے مبینہ طور پر رقوم کی منی لانڈرنگ میں شامل تھے۔

اسکاٹ بیسنٹ کا سخت بیان

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا:
امریکی محکمہ خزانہ نے تہران کے باقی ماندہ ہر معاشی ذریعے کو منقطع کرنے اور ایرانی حکومت کے خطرے کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی معاونت کرنے والے ادارے امریکی ڈالر اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی سے مسلسل فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

بیسنٹ نے کہا کہ بانق مصر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں نے مبینہ طور پر ایران کی معاونت جاری رکھنے کا راستہ اختیار کیا، جس کے بعد امریکا نے انہیں ان کے اقدامات کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے پہلا قدم اٹھایا ہے۔

پابندیاں صرف متحدہ عرب امارات کی شاخوں تک محدود

امریکی اقدامات صرف بانق مصر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں پر لاگو ہوں گے اور ان کا اطلاق قاہرہ میں واقع بینک کے مرکزی دفتر یا دیگر ممالک میں قائم اس کی شاخوں پر نہیں ہوگا۔

بینک کی دیگر بیرون ملک سرگرمیوں، جن میں پیرس، فرینکفرٹ، ریاض، بیروت اور جبوتی میں قائم دفاتر شامل ہیں، کو بھی اس مجوزہ امریکی اقدام سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

مرکزی بینک مصر نے بھی اقدام کے محدود دائرہ کار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اثر صرف متحدہ عرب امارات میں قائم بانق مصر کی شاخوں کے امریکی ڈالر سے متعلق ترسیلات پر پڑے گا۔ مصری مرکزی بینک نے بتایا کہ مصری حکام اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

دیگر ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس پر بھی پابندیاں

اسی سلسلے میں امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) نے ایران کے بینک ملی کی دبئی شاخ کے جنرل منیجر رضا محمد تائیدی پر انسدادِ دہشت گردی اختیارات کے تحت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق بینک ملی کا نام طویل عرصے سے IRGC-Qods Force اور دیگر پابندیوں کا شکار ایرانی اداروں کی مالی معاونت سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

OFAC نے ہانگ کانگ میں قائم Kameng Trading Limited کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ کمپنی نے پابندیوں کا شکار ایک ایرانی ایکسچینج ہاؤس کے لیے رقوم کی مبینہ منی لانڈرنگ میں مدد فراہم کی۔

امریکی اقدامات ایران کو معاشی طور پر مزید تنہا کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت واشنگٹن تیسرے ممالک اور مالیاتی اداروں پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ اپنے باقی ماندہ مالی اور کاروباری روابط ختم کریں۔

یہ اقدامات امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تقریباً چھ ماہ بعد سامنے آئے ہیں اور انہیں ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھانے کی امریکی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر کے مطابق Banque Misr UAE نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

Banque Misr FinCEN IRGC OFAC اسکاٹ بیسنٹ امریکی پابندیاں امریکی ڈالر امریکی محکمہ خزانہ ایران ایران امریکا کشیدگی ایرانی معیشت بانق مصر بین الاقوامی مالیات بینک ملی ایران دبئی متحدہ عرب امارات مریکا مصر
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleامریکی سیاست میں سوشلزم کے بڑھتے اثرات پر⁦63⁩فیصد شہری تشویش میں مبتلا، سروے
Next Article ناروے کے اصلاحات پسند کنگ ہیرالڈ پنجم⁦89⁩برس کی عمر میں انتقال کر گئے
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
امریکہ

کیا امریکہ اسرائیل کی سالانہ امداد روک دے گا؟

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.