ایران سے روابط کے الزام پر امریکا کا مصری بینک بانق مصر کی متحدہ عرب امارات شاخوں پر پابندیوں کا اقدام
امریکا نے مصر کے معروف سرکاری بینک بانق مصر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ان شاخوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کو امریکی ڈالر تک رسائی فراہم کرنے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر کام کرتی رہی ہیں اور تہران کے مبینہ ’’شیڈو بینکنگ نیٹ ورکس‘‘ سے منسلک کروڑوں ڈالر کے لین دین کی پروسیسنگ میں شامل رہی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ یہ اقدام وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی مہم ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے تحت کیا جا رہا ہے اور اس کا ہدف Banque Misr UAE ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مالیاتی جرائم سے متعلق ادارے FinCEN نے ایک ایسا ضابطہ تجویز کیا ہے جس کے تحت بانق مصر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں کی امریکی مالیاتی اداروں کے ساتھ کورسپونڈنٹ بینکنگ تک رسائی ختم کر دی جائے گی۔ اس اقدام کے نتیجے میں ان شاخوں کی امریکی ڈالر میں لین دین کلیئر کرنے کی صلاحیت شدید طور پر محدود ہو سکتی ہے۔
مجوزہ اقدام کے نافذ العمل ہونے سے قبل اسے 30 روزہ عوامی رائے اور تبصروں کی مدت سے گزرنا ہوگا۔
امریکی حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات میں قائم بانق مصر کی شاخیں ایرانی حکومت کے لیے امریکی ڈالر تک رسائی کے حوالے سے ایک ’’اہم مرکز‘‘ کے طور پر کام کر رہی تھیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کا الزام ہے کہ ان شاخوں کے بعض صارفین میں ایسی فرنٹ کمپنیاں شامل تھیں جنہیں مبینہ طور پر ایران کی وزارت دفاع اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا۔ امریکی حکام نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعض ادارے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے مبینہ طور پر رقوم کی منی لانڈرنگ میں شامل تھے۔
اسکاٹ بیسنٹ کا سخت بیان
امریکی محکمہ خزانہ نے تہران کے باقی ماندہ ہر معاشی ذریعے کو منقطع کرنے اور ایرانی حکومت کے خطرے کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی معاونت کرنے والے ادارے امریکی ڈالر اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی سے مسلسل فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
بیسنٹ نے کہا کہ بانق مصر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں نے مبینہ طور پر ایران کی معاونت جاری رکھنے کا راستہ اختیار کیا، جس کے بعد امریکا نے انہیں ان کے اقدامات کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے پہلا قدم اٹھایا ہے۔
پابندیاں صرف متحدہ عرب امارات کی شاخوں تک محدود
امریکی اقدامات صرف بانق مصر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں پر لاگو ہوں گے اور ان کا اطلاق قاہرہ میں واقع بینک کے مرکزی دفتر یا دیگر ممالک میں قائم اس کی شاخوں پر نہیں ہوگا۔
بینک کی دیگر بیرون ملک سرگرمیوں، جن میں پیرس، فرینکفرٹ، ریاض، بیروت اور جبوتی میں قائم دفاتر شامل ہیں، کو بھی اس مجوزہ امریکی اقدام سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
مرکزی بینک مصر نے بھی اقدام کے محدود دائرہ کار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اثر صرف متحدہ عرب امارات میں قائم بانق مصر کی شاخوں کے امریکی ڈالر سے متعلق ترسیلات پر پڑے گا۔ مصری مرکزی بینک نے بتایا کہ مصری حکام اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
دیگر ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس پر بھی پابندیاں
اسی سلسلے میں امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) نے ایران کے بینک ملی کی دبئی شاخ کے جنرل منیجر رضا محمد تائیدی پر انسدادِ دہشت گردی اختیارات کے تحت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق بینک ملی کا نام طویل عرصے سے IRGC-Qods Force اور دیگر پابندیوں کا شکار ایرانی اداروں کی مالی معاونت سے جوڑا جاتا رہا ہے۔
OFAC نے ہانگ کانگ میں قائم Kameng Trading Limited کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ کمپنی نے پابندیوں کا شکار ایک ایرانی ایکسچینج ہاؤس کے لیے رقوم کی مبینہ منی لانڈرنگ میں مدد فراہم کی۔
امریکی اقدامات ایران کو معاشی طور پر مزید تنہا کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت واشنگٹن تیسرے ممالک اور مالیاتی اداروں پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ اپنے باقی ماندہ مالی اور کاروباری روابط ختم کریں۔
یہ اقدامات امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تقریباً چھ ماہ بعد سامنے آئے ہیں اور انہیں ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھانے کی امریکی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر کے مطابق Banque Misr UAE نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

