• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » امریکی سیاست میں سوشلزم کے بڑھتے اثرات پر⁦63⁩فیصد شہری تشویش میں مبتلا، سروے
امریکہ

امریکی سیاست میں سوشلزم کے بڑھتے اثرات پر⁦63⁩فیصد شہری تشویش میں مبتلا، سروے

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 28, 2026Updated:اگست 28, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

امریکی سیاست میں سوشلزم کے بڑھتے اثرات پر⁦63⁩فیصد شہری تشویش میں مبتلا، سروے

NY
نیوز ڈیسک
امریکی سیاست

ایک نئے عوامی سروے کے مطابق ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدواروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے امریکی ووٹرز کی اکثریت میں سوشلزم اور کمیونزم کے امریکی سیاست میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔

دی سینٹر اسکوائر کے ’’ووٹرز وائس پول‘‘ کے مطابق⁦63⁩فیصد امریکی شہری امریکی سیاست میں سوشلزم یا کمیونزم کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش رکھتے ہیں، جبکہ⁦29⁩فیصد نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی تشویش نہیں۔

63%
امریکی شہری سوشلزم یا کمیونزم کے بڑھتے سیاسی اثرات پر تشویش رکھتے ہیں

سروے میں تشویش ظاہر کرنے والے⁦63⁩فیصد افراد میں سے⁦36⁩فیصد نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بہت زیادہ تشویش رکھتے ہیں، جبکہ⁦27⁩فیصد نے اسے کسی حد تک تشویش کا باعث قرار دیا۔

دوسری جانب صرف⁦13⁩فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ انہیں امریکی سیاست میں سوشلزم کے بڑھتے رجحان پر بالکل تشویش نہیں، جبکہ⁦16⁩فیصد نے کہا کہ وہ اس معاملے پر زیادہ فکرمند نہیں ہیں۔

سروے کیسے کیا گیا؟

دی سینٹر اسکوائر کا ووٹرز وائس پول Noble Predictive Insights نے⁦12⁩سے⁦16⁩اگست کے دوران کیا۔ اس میں ملک بھر کے رجسٹرڈ ووٹرز کو آن لائن آپٹ اِن پینل اور موبائل فون کے ٹیکسٹ ٹو ویب پیغامات کے ذریعے شامل کیا گیا۔

سروے میں مجموعی طور پر 2,533 افراد نے حصہ لیا، جن میں⁦930⁩ری پبلکن،⁦930⁩ڈیموکریٹس اور⁦673⁩آزاد ووٹرز شامل تھے۔ آزاد ووٹرز میں سے⁦330⁩افراد ایسے تھے جنہیں حقیقی معنوں میں آزاد ووٹر قرار دیا گیا، یعنی وہ کسی بھی بڑے سیاسی جماعتی امیدوار کی طرف جھکاؤ نہیں رکھتے۔

وسط مدتی انتخابات سے قبل سوشلزم پر بحث تیز

نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ری پبلکنز اور ڈیموکریٹک پارٹی کے بعض رہنما بھی ملک بھر میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدواروں کے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافے کے خلاف خبردار کر رہے ہیں۔ ان امیدواروں کو امریکی سینیٹر برنی سینڈرز اور نیویارک سے رکنِ ایوانِ نمائندگان الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے رہنماؤں کی حمایت حاصل ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں کمیونزم کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کی انتظامیہ انتخابی موسم کے مکمل طور پر گرم ہونے کے ساتھ امریکی عوام کے سامنے کمیونزم کے خطرے کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

ٹرمپ کا مؤقف
صدر ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے ایک ریلی میں کہا کہ کمیونزم امریکی تاریخ میں ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

جولائی میں ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اپنے دورے کے دوران بھی ٹرمپ نے کمیونزم کو ’’تباہی‘‘ قرار دیا تھا۔

صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیونزم مختلف ناموں سے ہزاروں سال تک موجود رہا ہے لیکن اس کی بنیادی نوعیت ایک جیسی رہی ہے۔ ان کے مطابق ریڈیکل سوشلسٹ اور کمیونسٹ کہنے میں زیادہ فرق نہیں، اگرچہ دونوں اصطلاحات میں کچھ معمولی فرق موجود ہے۔

ٹرمپ نے مزید خبردار کیا کہ کمیونزم سے نکل کر دوبارہ معمول کی صورتحال کی طرف واپس آنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور اس نظام کے نتیجے میں معاشرہ بدحالی اور سخت حالات کا شکار ہو سکتا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر سے بھی مخالفت

سوشلزم اور کمیونزم کے خلاف آواز صرف ری پبلکن پارٹی تک محدود نہیں۔ پنسلوانیا سے ڈیموکریٹک سینیٹر جان فیٹرمن بھی ڈیموکریٹک پارٹی میں خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ قرار دینے والے بعض امیدواروں کی بڑھتی مقبولیت پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں فیٹرمن نے CBS News کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ تقریباً⁦60⁩فیصد ڈیموکریٹس سوشلزم کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔

فیٹرمن نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی سوشلزم کی جماعت بنتی جا رہی ہے،⁦58⁩فیصد افراد سوشلزم کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں جبکہ⁦50⁩فیصد سرمایہ داری کو منفی نظر سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے خود کو آزاد منڈی پر مبنی سرمایہ داری کا فخریہ حامی قرار دیتے ہوئے اس رجحان کو انتہائی غیر معقول قرار دیا۔

فیٹرمن واحد ڈیموکریٹ نہیں جو پارٹی میں بڑھتے ہوئے سوشلسٹ رجحان پر تنقید کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے تجربہ کار سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر جیمز کارویل نے بھی ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے نام سے لفظ ’’ڈیموکریٹک‘‘ ہٹا دیں تاکہ خود کو بائیں بازو کی پالیسیوں سے الگ ظاہر کیا جا سکے۔

ڈیموکریٹک ووٹرز میں بھی واضح تقسیم

تاہم⁦CBS⁩کے سروے کے برعکس دی سینٹر اسکوائر کے ووٹرز وائس پول میں سامنے آیا کہ 49 فیصد ڈیموکریٹک ووٹرز امریکی سیاست میں سوشلزم یا کمیونزم کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش رکھتے ہیں، جبکہ⁦40⁩فیصد نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی تشویش نہیں۔

یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک، کولوراڈو، مشی گن، کیلیفورنیا اور حتیٰ کہ فلوریڈا سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں متعدد ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدواروں نے ڈیموکریٹک ووٹرز کی حمایت حاصل کرکے نومبر کے انتخابات میں شرکت کے لیے پیش قدمی کی ہے۔

سروے کی غلطی کی حد: پلس یا مائنس⁦2.0⁩فیصد۔

الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز امریکا امریکی انتخابات امریکی سیاست برنی سینڈرز جان فیٹرمن جیمز کارویل ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹک پارٹی ڈیموکریٹک سوشلسٹ ری پبلکن پارٹی سوشلزم سیاسی سروے کمیونزم وسط مدتی انتخابات ووٹرز وائس پول
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleامریکا نے فلسطین ایکشن کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا
Next Article ایران سے مبینہ مالی روابط پر امریکا کا بانق مصر کی⁦UAE⁩شاخوں کے خلاف بڑا اقدام
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
مقبول ترین

ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.