"`
ISGAP کی نئی رپورٹ میں کینیڈا کے تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی میں اسلام پسند نیٹ ورکس اور قطری اثر و رسوخ پر سوالات
انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف گلوبل اینٹی سیمیٹزم اینڈ پالیسی(ISGAP)کی ایک نئی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کینیڈا کی سول سوسائٹی، انتخابی سیاست، وفاقی اداروں اور جامعات میں بعض اسلام پسند نیٹ ورکس، خصوصاً اخوان المسلمون سے مبینہ طور پر وابستہ حلقوں، کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ میں قطر کی مالی معاونت اور کینیڈین جامعات کے ساتھ تعلقات کو بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
ٹورنٹو/واشنگٹن: انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف گلوبل اینٹی سیمیٹزم اینڈ پالیسی (ISGAP) کی ایک نئی بڑی رپورٹ، جو تقریباً24اگست2026کے آس پاس جاری کی گئی، میں کینیڈا کی سول سوسائٹی، انتخابی سیاست، وفاقی اداروں اور اعلیٰ تعلیمی شعبے میں اسلام پسند اثر و رسوخ کے حوالے سے تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
تقریباً200صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کا عنوان قریب قریب “کینیڈین جمہوری اقدار اور اصولوں پر حملہ:اسلام پسند ادارہ جاتی دراندازی کس طرح کینیڈا میں سول سوسائٹی اور اعلیٰ تعلیم کو کمزور کرتی ہے” کے مفہوم پر مبنی ہے۔
رپورٹ،ISGAPکی جون2025میں جاری ہونے والی ایک سابقہ تحقیق کا تسلسل ہے، جس میں ایسے نیٹ ورکس سے پیدا ہونے والے قومی سلامتی کے ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔
قطر کو اہم مالی معاون اور ادارہ جاتی شراکت دار قرار دیا گیا
نئی رپورٹ میں قطر کو متعدد معاملات میں ایک اہم مالی معاون، ادارہ جاتی شراکت دار اور بیانیہ تشکیل دینے والے ملک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ISGAP کے مطابق کینیڈا کی متعدد جامعات میں قطری اداروں سے منسلک تحقیقی فنڈنگ، تعلیمی شراکت داری، اسکالرشپس اور طلبہ کی سرپرستی موجود ہے، جن میں سے بعض پروگرام حساس یا دوہرے استعمال (Dual-Use) والی ٹیکنالوجیز سے متعلق شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں جن شعبوں کا ذکر کیا گیا
- توانائی کے بنیادی ڈھانچے
- اسمارٹ گرڈز
- محفوظ مواصلاتی نظام
- کاربن ٹیکنالوجیز
- شمسی توانائی
- جدید مواد اور انجینئرنگ
- کمپیوٹر سائنس اور جدید تکنیکی تحقیق
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کینیڈا میں غیر ملکی یونیورسٹی فنڈنگ کے لیے امریکا کے Section 117 جیسے جامع قومی انکشافاتی قوانین موجود نہیں، جس کے باعث بعض معاہدوں کی مکمل شرائط، دانشورانہ املاک (IP Rights) اور تحقیق تک رسائی کے معاملات واضح طور پر عوام کے سامنے نہیں آتے۔
یونیورسٹی آف واٹرلو سے متعلق رپورٹ کے دعوے
رپورٹ میں یونیورسٹی آف واٹرلو کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسے قطر سے منسلک ریاستی تحقیقی اداروں، جن میں قطر نیشنل ریسرچ فنڈ (QNRF) اور قطر یونیورسٹی شامل ہیں، کے ذریعے38لاکھ کینیڈین ڈالر سے زائد کی تحقیقی فنڈنگ حاصل ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق اسکالرشپس اور کم از کم35قطری حکومت کے زیرِ سرپرستی طلبہ، جو انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس اور دیگر شعبوں میں زیرِ تعلیم رہے، کو شامل کیا جائے تو مجموعی سرمایہ کاری کا تخمینہ ایک کروڑ پانچ لاکھ کینیڈین ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔
ISGAP نے اس تعلق کا موازنہ یونیورسٹی آف واٹرلو کے اسرائیل کے معروف تکنیکی ادارے ٹیکنیون کے ساتھ تعلقات میں کمی یا شراکت داری کی تجدید نہ ہونے سے بھی کیا، جسے رپورٹ نے کیمپس سرگرمیوں اور سیاسی دباؤ کے وسیع تر پس منظر میں دیکھا۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو اور دیگر اداروں کا ذکر
رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں کم از کم چھ ایسے تحقیقی منصوبوں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہیںQNRFکی معاونت حاصل ہوئی۔ ان منصوبوں کی مجموعی مالی مالیت تقریباً27لاکھ سے42لاکھ کینیڈین ڈالر کے درمیان بتائی گئی ہے۔
ان منصوبوں میں محفوظ مواصلات، توانائی کی ٹیکنالوجی، شمسی خلیات، دھاتوں کے زنگ سے متعلق ماڈلنگ اور کاربن سسٹمز جیسے شعبے شامل بتائے گئے ہیں۔
ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی (TMU) کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نے قطر کی ملکیت والی یونیورسٹی آف دوحہ فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس میں مشترکہ تعلیمی پروگراموں، تحقیق اورTMUکے ڈیجیٹل میڈیا زون سے منسلک کاروباری سرگرمیوں کی گنجائش شامل ہے۔
رپورٹ میں میک گل، کنکورڈیا، یارک یونیورسٹی، یونیورسٹی آف کیلگری، ڈلہوزی یونیورسٹی، کالج آف دی نارتھ اٹلانٹک اور دیگر اداروں کے قطری اداروں کے ساتھ مختلف تعلقات اور سابقہ مالی تعاون کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
’ادارہ جاتی دراندازی‘ کا مؤقف
ISGAP نے ان تعلقات کو ایک وسیع تر حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا ہے، جسے رپورٹ میں “انٹری ازم” یا اداروں میں بتدریج اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ تاہم رپورٹ یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ ہر تعلیمی یا تحقیقی تعاون بذاتِ خود غیر قانونی یا نامناسب ہے۔
رپورٹ کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ بعض غیر ملکی فنڈنگ، حساس ٹیکنالوجیز، نظریاتی اثر و رسوخ اور ادارہ جاتی شفافیت کے معاملات پر زیادہ تفصیلی نگرانی ضروری ہے۔
قطر سے منسلک خیراتی فنڈنگ اور اسلامی اداروں کا معاملہ
ISGAP کی سابقہ تحقیقات اور دیگر رپورٹوں میں قطر چیریٹی اور عید چیریٹی سمیت بعض قطری اداروں کی کینیڈا میں موجود اسلامی مراکز اور تنظیموں کو دی جانے والی مالی معاونت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ان تحقیقات میں مختلف تنظیموں کے حوالے سے ماضی کی فنڈنگ اور نیٹ ورکس کا جائزہ لیا گیا، جن میں مسلم ایسوسی ایشن آف کینیڈا (MAC) سمیت بعض دیگر اسلامی مراکز شامل ہیں۔
رپورٹوں میں بعض تنظیموں کے مالی ذرائع اور ان کے بین الاقوامی نیٹ ورکس سے ممکنہ روابط کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم ایسے تعلقات سے متعلق مختلف دعوے سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع رہے ہیں اور ان کا ہر پہلو یکساں طور پر عدالتی یا سرکاری طور پر ثابت شدہ نہیں ہے۔
کیمپس سرگرمیوں اور انتہا پسندی سے متعلق خدشات
ISGAP کی رپورٹوں میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بعض مالی اور نظریاتی نیٹ ورکس یونیورسٹی کیمپسز میں سیاسی انتہا پسندی، یہود دشمنی اور اسرائیل مخالف سرگرمیوں کے فروغ میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں7اکتوبر کے بعد ہونے والے بعض احتجاجی مظاہروں کو بھی زیرِ بحث لاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بعض سرگرمیاں محض خودبخود ابھرنے والی عوامی تحریکیں نہیں بلکہ منظم اور مالی وسائل رکھنے والے نیٹ ورکس سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ میں بعض طلبہ گروپوں اور کیمپس سرگرمیوں کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، تاہم اس حوالے سے مختلف سیاسی حلقوں اور انسانی حقوق کے اداروں کے درمیان رائے کا واضح اختلاف موجود ہے۔
اسرائیلی روابط اور قطری تعلقات کے درمیان مبینہ عدم توازن
رپورٹ کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ کینیڈین جامعات میں اسرائیلی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعلقات کو شدید سیاسی دباؤ، بائیکاٹ کی مہمات اور بعض صورتوں میں شراکت داری کے خاتمے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ قطری اداروں کے ساتھ مالی اور تحقیقی روابط نسبتاً کم عوامی اور سیاسی نگرانی کے ساتھ جاری رہے۔
ISGAP نے اس صورتحال کو ایک “غیر متوازن معیار” کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی فنڈنگ اور بین الاقوامی شراکت داری کے لیے یکساں شفافیت اور نگرانی کے اصول ہونے چاہئیں۔
کینیڈا کے لیے قومی سلامتی کا سوال
رپورٹ میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ غیر ملکی فنڈنگ، حساس ٹیکنالوجیز، سیاسی اثر و رسوخ اور نظریاتی نیٹ ورکس کے درمیان ممکنہ تعلقات کینیڈا کی قومی سلامتی کے لیے طویل المدتی سوالات پیدا کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بعض تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کینیڈا کو ایسے اثر و رسوخ کے حوالے سے برطانیہ، فرانس اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے مقابلے میں زیادہ حساس صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ISGAP اور دیگر تحقیقات کے مطابق بعض تنظیموں کو کینیڈین سرکاری فنڈنگ بھی حاصل ہوئی، جن کے بارے میں رپورٹوں نے انتہا پسند نیٹ ورکس سے ممکنہ روابط کے سوالات اٹھائے ہیں۔
سرکاری ردعمل اور جامعات کا مؤقف
دستیاب ابتدائی کوریج کے مطابقISGAPکی2026کی مخصوص رپورٹ میں شامل تمام تفصیلات پر کینیڈا کی وفاقی حکومت یا متعلقہ جامعات کے جامع اور تفصیلی سرکاری جوابات نمایاں طور پر سامنے نہیں آئے۔
دوسری جانب قطر اور کینیڈا کے درمیان سفارتی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے رسمی تعلقات موجود ہیں اور دونوں ممالک حالیہ برسوں میں مختلف شعبوں میں تعاون اور شراکت داری کے اعلانات بھی کرتے رہے ہیں۔
رپورٹ کیا کہتی ہے؟
مجموعی طور پرISGAPکی نئی تحقیق کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کینیڈا کو غیر ملکی فنڈنگ، اعلیٰ تعلیمی اداروں کے بین الاقوامی معاہدوں، حساس تحقیق، سیاسی اثر و رسوخ اور سول سوسائٹی کے نیٹ ورکس کے حوالے سے زیادہ شفافیت اور نگرانی کی ضرورت ہے۔
رپورٹ یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ ہر غیر ملکی تعلیمی شراکت داری کو مشکوک قرار دینا درست نہیں، تاہم حساس شعبوں میں سرمایہ کاری، تحقیق تک رسائی، دانشورانہ املاک کے حقوق اور نظریاتی اثر و رسوخ کے ممکنہ پہلوؤں کو نظر انداز کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔
کینیڈا میں اسلام پسندی، اخوان المسلمون سے مبینہ روابط، غیر ملکی فنڈنگ، مذہبی آزادی، سیاسی سرگرمیوں اور قومی سلامتی کے درمیان توازن کا سوال آئندہ عرصے میں مزید اہم سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بننے کا امکان ہے۔
ذرائع اور پس منظر
اس خبر میں زیرِ بحث نتائج اور دعوے بنیادی طور پر انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف گلوبل اینٹی سیمیٹزم اینڈ پالیسی(ISGAP)کی تحقیقات اور ان پر شائع ہونے والی مختلف رپورٹس سے منسوب ہیں۔ دیگر حوالوں میں The Hub، The Post Millennial، The Bureau،Ynetاور Middle East Forum کی کوریج شامل ہے۔
اس خبر میں شامل اخوان المسلمون سے مبینہ روابط، اسلام پسند اثر و رسوخ، غیر ملکی فنڈنگ اور ادارہ جاتی سرگرمیوں سے متعلق متعدد نکاتISGAPاور دیگر تحقیقی و میڈیا ذرائع کے دعووں اور تجزیوں پر مبنی ہیں۔

