• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » سندھ سے بگ ایپل، نیویارک تک
امریکہ

سندھ سے بگ ایپل، نیویارک تک

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 2, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔16 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

رائے⁦/⁩سفرنامہ

سندھ سے بگ ایپل، نیویارک تک

ایک خواب، ایک جستجو — ایک فنکار کا اپنی تہذیبی شناخت، فن اور خوابوں کے ساتھ دنیا کے بڑے اسٹیج تک پہنچنے کا سفر
تحریر⁦:⁩تاشفین رضوان
قسط اول

زندگی میں کچھ فیصلے عقل اور شعور سے نہیں، بلکہ جذباتی کیفیت کے تحت ہوتے ہیں۔ جب اپنی شناخت کا سوال ہو تو دنیا سے ہم کلام ہونا ہی پڑتا ہے۔ امریکہ جانے کا میرا فیصلہ بھی کچھ ایسا ہی تھا—اپنے فن کو دنیا کے بڑے اسٹیج تک رسائی دینے اور آرٹ کے افق پر پہنچنے کی ایک ضد۔

ہمارے معاشرے میں فنونِ لطیفہ کو سراہا تو جاتا ہے، مگر تب ہی جب اس پر روایت کا رنگ چڑھا ہو۔ کوئی آرٹسٹ اگر اپنا الگ انداز اور نیا فکری زاویہ لے کر آئے تو بہت سوں کے لیے اسے سمجھنا کٹھن ہو جاتا ہے۔

"اگر اپنی پہچان چاہیے تو دنیا کو مخاطب کرنا ہی ہوگا۔”

میری دیرینہ خواہش رہی ہے کہ میرے فن کو بھی ویسی ہی عالمی پذیرائی نصیب ہو، جیسی اسپینش مصور پابلو پکاسو کے حصے میں آئی۔ یہ خواب مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن ہرگز نہیں۔

میری تخلیق کردہ تصویریں، مجسمے اور میری سوچ، سب کے سب وادیٔ سندھ اور موئن جو دڑو کی تہذیب سے وابستہ ہیں۔ میں اپنے تہذیبی ورثے کو دنیا کے سامنے اس لیے پیش کرتا ہوں تاکہ دنیا یہ جان سکے کہ یہ دھرتی محض تاریخ کا کوئی فراموش شدہ باب نہیں، بلکہ آج بھی میرے فن کی وساطت سے اپنی آفاقی تہذیب کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

اسی عزمِ صمیم کے ساتھ میں نے نیویارک کی بین الاقوامی نمائش آرٹ ایکسپو نیویارک کے لیے درخواست دی، اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میرا انتخاب عمل میں آگیا۔

"یہ محض ایک انتخاب نہیں، میری منزل کی جانب پہلا قدم تھا۔”

مگر میرے پاس پاسپورٹ تک نہ تھا۔

بس پھر کیا تھا، جلدی جلدی پاسپورٹ بنوایا۔ امریکی ویزے کی فیس بھری، تب جا کر انٹرویو کی تاریخ آئی۔ کئی خیرخواہوں نے تو مجھے یہاں تک مشورہ دیا:

"نئے پاسپورٹ پر امریکی ویزا ملنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پہلے تھائی لینڈ، ملائیشیا یا دبئی کا چکر لگا آؤ، پھر امریکہ کی طرف قدم بڑھانا۔”

میں مسکرایا اور کہا:

"میں تاریخ رقم کرنے نکلا ہوں، تاریخ دہرانے نہیں۔”

میں روایتی ڈگر پر چلنے کا قائل ہی نہیں۔ شاید یہی انجانی راہیں ہیں جو مجھے خود کو پرکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ ویزا انٹرویو کی گھڑی جیسے جیسے قریب آتی گئی، میرا اعتماد اور بھی پختہ ہوتا گیا۔

امریکی ویزا اور خواب کی پہلی منزل

صبح سویرے کراچی میں کڑاکے کی ٹھنڈ اور دھند کی چادر تنی ہوئی تھی، جب میں امریکی سفارت خانے کی طرف نکل پڑا۔ مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ قبل ہی وہاں جا پہنچا۔ چیک اِن کے بعد اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔

مختلف رنگوں کے لباس میں ملبوس لوگوں کو دیکھتا رہا؛ کوئی بزنس مین تھا، کوئی امریکہ میں رہنے والے رشتہ دار سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا اور کوئی سیر و تفریح کی غرض سے فیملی کے ساتھ بیٹھا تھا، لیکن اطمینان کسی کے چہرے پر نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں بہت پُراعتماد اور اطمینان کے ساتھ بیٹھا تھا۔

سیکیورٹی کے مراحل طے کرنے کے بعد میں آگے بڑھا، یہاں تک کہ اپنی تمام اشیاء جمع کرانا پڑیں، جن میں ایک بیلٹ، گھڑی اور ہاتھ میں وکٹر فرینکل کی کتاب Man’s Search for Meaning شامل تھی۔

پر وہ لمحہ دل تھم سا گیا جب کتاب کے بیچ رکھا گلاب کا پھول ریزہ ریزہ ہو کر نیچے فرش پر گر گیا، اور تب تک کتاب اسکینر میں جا چکی تھی۔

پھر کیا تھا، دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ زندگی بھی کبھی ایسے خوبصورت یادیں پیروں تلے روند دیے جاتے ہیں تو دل سہم سا جاتا ہے۔

اندر قونصل خانے میں طویل قطاریں لگی تھیں۔ ہر چہرے پر تشویش کی پرچھائیاں تھیں۔ لوگ چپ چاپ قدم بڑھا رہے تھے اور بھیڑ چال جاری تھی۔ میں اپنے خوابوں میں مگن تھا۔

سامنے شیشے کی کھڑکی کے اُس پار بیٹھا ویزا افسر یکے بعد دیگرے سوالات داغ رہا تھا اور ایک ایک کر کے کئی لوگوں کو ناک آؤٹ کر رہا تھا۔ محض چند جملوں کے بعد ہی یہ جملہ بار بار سنائی دیتا:

"اگلی بار کوشش کیجیے۔”

اور قطار میں کھڑے کئی افراد کے چہروں کی رنگت اڑ جاتی۔

میں نے سوچا کہ یہ امریکہ کی خوش قسمتی ہوگی کہ مستقبل کا پکاسو اپنے فنی سفر کی شروعات نیویارک سے کرتا ہے، کیونکہ دوسری بار تو میں اپلائی کرنے سے رہا۔ لیکن مجھے یقین تھا کہ مجھے ویزا مل جائے گا۔

"تو یہ شاید میری ذات کی کامیابی نہیں ہوگی، بلکہ سندھ دھرتی کا ایک آرٹسٹ دنیا کے بڑے آرٹ اسٹیج تک پہنچ کر اپنی تہذیب کا سفیر بنے گا۔”

آخرکار جب میرا نمبر آیا، شیشے کے پار ایک خاتون افسر مسکراتے ہوئے کرسی پر براجمان تھیں۔

"امریکہ جانے کا کیا مقصد ہے؟”

میں نے بے ساختہ جواب دیا:

"آرٹسٹ ہوں⁦!⁩نیویارک میں منعقد ہونے والی آرٹ ایکسپو میں اپنے فن پارے نمائش کے لیے پیش کرنے جا رہا ہوں۔”

انہوں نے کچھ کاغذات الٹ پلٹ کر دیکھے۔

"کیا آپ کی شرکت پکی ہے، کوئی لیٹر ہے؟”

میں نے نمائش سے متعلق تمام دستاویزات ان کے حوالے کر دیں۔ چند لمحوں کے لیے سناٹا چھا گیا۔ پھر انہوں نے میرے مالی وسائل کے بارے میں استفسار کیا۔ میں نے تمام تفصیلات بتا دیں۔

پھر انہوں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ دریافت کیا:

"آپ کس اسٹائل کے آرٹسٹ ہیں؟”

میں نے بھی مسکراتے ہوئے پُراعتماد انداز میں کہا:

"میں Neo Expressionism اور⁦Cubism⁩میں کام کرتا ہوں۔ آپ میرا نام، تاشفین رضوان، گوگل پر سرچ کر کے دیکھ سکتی ہیں۔”

انہوں نے کچھ دیر کے لیے اپنی کمپیوٹر اسکرین پر نظریں گاڑ دیں۔ یکایک ان کے ہونٹوں پر ایک دل آویز مسکان ابھری:

"مبارک ہو⁦…⁩آپ کا ویزا منظور کر لیا گیا ہے۔”

انہوں نے میرا پاسپورٹ اپنے پاس رکھ لیا اور سبز رنگ کی ایک پرچی میرے ہاتھ میں تھما دی۔

جب میں سفارت خانے سے باہر نکلا تو میرا دل کیفِ سرور اور خود اعتمادی سے سرشار تھا۔ سب سے پہلے میں نے اپنی اماں کو فون کیا۔

"اماں، آپ کی دعائیں رنگ لے آئیں⁦…⁩ویزا مل گیا ہے۔”

فون کے اُس پار مجھے اماں کی لرزتی ہوئی آواز میں بے پناہ شکرگزاری اور خوشی کی نمی محسوس ہوئی۔

اگلے دن جب پاسپورٹ پر امریکی ویزا پر نظر پڑی، تب مجھے محسوس ہوا کہ اب زندگی کا اصل سفر شروع ہونے کو ہے۔

نیویارک، خوابوں اور شناخت کا شہر

میرے دل میں نیویارک کا تصور ایک ایسے شہر کا ہے جہاں فن کی قدر کی جاتی ہے۔ نیویارک میں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں؛ کوئی سیاحت کے لیے، کوئی تجارت کے لیے اور کوئی اپنی قسمت آزمانے کے لیے۔ لیکن نیویارک نہ صرف مواقع دیتا ہے، بلکہ نئی پہچان تلاش کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ شہر نسل، زبان، مذہب یا قومیت سے بڑھ کر صلاحیت پر یقین رکھتا ہے۔

جب میں کراچی سے روانگی کی تیاری کر رہا تھا تو میرے دل میں یہ یقین تھا کہ میرے آرٹ کو اگر کوئی شہر پوری گہرائی کے ساتھ محسوس کر سکتا ہے تو وہ نیویارک ہے۔

مجھے دنیا کے تین بڑے آرٹ ایونٹس کے وی آئی پی پریویو دعوت نامے ملے⁦:⁩فریز آرٹ ایکسپو شکاگو، دی آرموری شو نیویارک اور آرٹ باسل سوئٹزرلینڈ۔

ایک آرٹسٹ کے لیے ایسی دعوت اور تقریب میں شرکت کسی اعزاز سے کم نہیں ہوتی۔ میری سوچ میں اس وقت یہی خیالات گھوم رہے تھے کہ میں وہاں جا کر اپنے ملک اور سندھ دھرتی کی نمائندگی کروں گا۔

مزے کی بات یہ کہ عین اسی لمحے، جب سفر کے آخری مراحل میں تھا، میرے دوست فرینک کا موبائل پر پیغام آیا:

"تاشفین، ایک اہم نمائش کا افتتاح ہے۔ ضرور آنا۔ تمہیں کئی آرٹسٹوں اور کیوریٹرز سے ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوگا۔”

پیغام پڑھ کر لگا کہ شاید یہ سفر صرف سفر نہیں رہا، بلکہ میری زندگی کے نئے باب کی شروعات بننے جا رہا ہے۔

جنگ کے سائے اور سفر کی ضد

اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے خوفناک ماحول کی وجہ سے میری دو فلائٹس کینسل ہو گئیں۔ ہر طرف یہی آوازیں تھیں:

"اس وقت سفر نہ کرو۔ جنگ چل رہی ہے۔ خطرہ ہے۔ کچھ انتظار کرو۔”

میں دل میں انہیں جواب دے رہا تھا:

"باہر کی جنگ سے زیادہ جو ہلچل میرے اندر چل رہی ہے، اسے کیسے خاموش کروں؟ میرا خود پر اعتماد ہے۔ جو کچھ ہوگا، دیکھا جائے گا۔ میں توکل پر یقین رکھتا ہوں۔”

ایئرلائن کے آفس میں طویل بحث کے بعد آخرکار ایک فلائٹ مل گئی۔ ٹکٹ ہاتھ میں آئی تو جان میں جان آئی:

"اب جو بھی ہوگا، دیکھا جائے گا۔”

چوبیس گھنٹوں کا سفر

کراچی ایئرپورٹ سے استنبول اور نیویارک کی طرف…

صبح سویرے ٹرالی دھکیلتے ہوئے کراچی ایئرپورٹ سے روانہ ہوا۔ سفر کے دوران چاروں طرف نظر دوڑائی تو ہر مسافر کے چہرے پر منزل تک پہنچنے کی بے چینی تھی۔ کسی کی آنکھوں میں خوشی کی لہر تو کسی کے چہرے پر اپنوں سے بچھڑنے کا غم جھلک رہا تھا۔

استنبول تک سفر خوشگوار گزرا۔ ہوائی جہاز کی کھڑکی سے نیچے دیکھا تو جہاز بادلوں کے اوپر اڑ رہا تھا اور دلفریب مناظر نظر آ رہے تھے۔

"شاید انسان کے خواب بھی ایسے ہی ہوتے ہیں⁦…⁩زمین سے دیکھنے میں دھندلے، پر آسمان سے دیکھنے میں بے حد حسین۔”

استنبول ایئرپورٹ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر قوم، ہر زبان، ہر رنگ⁦…⁩ایسا لگا جیسے پوری دنیا ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہوگئی ہو۔

کافی کا کپ ہاتھ میں تھا، لیکن نیند آنکھوں میں لیے جا رہی تھی۔ تقریباً چوبیس گھنٹوں کا سفر⁦!⁩جسم تھک کر چور ہو چکا تھا، لیکن ذہن جاگ رہا تھا۔

آخرکار ہوائی جہاز نیویارک کے جے ایف کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا۔

کھڑکی سے باہر دیکھا۔

یہ وہی شہر تھا جسے میں ہالی ووڈ کی فلموں میں دیکھتا آ رہا تھا۔ اب فائنل انٹری کا وقت آنے کو تھا۔

میں امیگریشن کی قطار میں کھڑا تھا۔ ایک افسر نے میرا پاسپورٹ اٹھا کر دیکھا:

"Purpose of your visit?”

میں نے جواب دیا:

"I am an artist visiting for art exhibitions.”

اس نے پھر پوچھا:

"What brings you to the United States?”

میں نے کچھ سیکنڈ خاموش رہ کر جواب دیا:

"I have come to share the spirit of the Indus Valley Civilization and Mohenjo-Daro through my art.”

افسر کچھ گھڑیاں میری طرف دیکھتا رہا، پھر بولا:

"That’s beautiful. Welcome to the United States.”

کوئینز، نیویارک اور پردیس کی اپنائیت

امیگریشن سے نکلتے ہی میں نے اپنے دوست ذیشان کو فون کیا:

"السلام علیکم، میں جے ایف کے، نیویارک پہنچ گیا ہوں۔”

ذیشان نے جواب دیا:

"مبارک ہو⁦!⁩عارف مکدا گاڑی لے کر آ رہا ہے۔ ساتھ سہیل کویار، رؤف خان اور اسلم ملک بھی موجود ہیں۔”

تھوڑی دیر بعد ٹرمینل ون سے باہر نکلا۔ ایک گاڑی آ کر رکی۔ دروازہ کھلا اور ایک مسکراتا ہوا چہرہ آگے بڑھا:

"تاشفین بھائی؟”

"ہاں۔”

اس نے مجھے گلے لگایا:

"خوش آمدید۔”

پیچھے کھڑے تینوں نے آگے بڑھ کر گلے لگایا۔ اسلم ملک نے مسکرا کر کہا:

"چیوش⁦!⁩آخرکار آپ آ گئے!”

میں حیران رہ گیا:

"چیوش؟”

عارف نے ہنستے ہوئے کہا:

"حیدرآباد دکن میں عزت سے کسی کو بلانا ہو تو چیوش کہتے ہیں۔”

ہم سب ہنسنے لگے۔

"اس پل میں نے محسوس کیا کہ پردیس میں سب سے بڑی خوشی اپنائیت کا احساس ہوتی ہے۔”

گاڑی آہستہ آہستہ کوئینز کے ریگو پارک علاقے میں آسٹن اسٹریٹ کی طرف بڑھنے لگی۔ کھڑکی سے باہر نیویارک کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔

نیویارک میں روشنیاں اور چھپی ہوئی کہانیاں

اس رات فلیٹ پر حیدرآباد دکن کی اسپیشل مٹن بریانی اور کافی کے کپ پر گپ شپ کی محفل شروع ہوگئی۔

نیویارک میں روشنیاں اور چمک دمک تو بہت تھی، لیکن اندر سے ہر چہرہ اپنا اپنا درد چھپائے بیٹھا تھا۔ کپ کی چسکیوں اور ہلکے قہقہوں کے پیچھے ہر انسان کے پاس ایک ایسی کہانی تھی جسے شاید کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

"میں نے محسوس کیا کہ امریکہ میں ہر مسافر کا پاسپورٹ تو ایک جیسا ہوتا ہے، لیکن زندگی کے باب سب کے الگ الگ لکھے ہوتے ہیں۔”

عارف مکدا — ذمہ داریوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ایک مسافر

آدھی رات ہو چکی تھی۔ سب خاموش تھے۔ عارف کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا۔ باہر شہر کے اطراف کے نظارے تھے، لیکن اس کی آنکھیں گویا ہزاروں میل دور اپنے وطن، بھارت کے شہر بنگلورو کی طرف کھوئی ہوئی تھیں۔

میں نے پوچھا:

"عارف بھائی⁦…⁩کیا کبھی اپنے گھر کی یاد آتی ہے؟ دس سال سے گھر نہیں جا سکے ہو؟”

وہ مسکرایا، لیکن وہ مسکراہٹ آنکھوں تک نہ پہنچی۔

اس نے کہا:

"تاشفین⁦…⁩یاد تو ہر دن آتی ہے۔ گھر اور بچوں کے ساتھ جڑی یادیں جینے نہیں دیتیں، مگر یہاں محنت کر کے ان کی زندگی آسان بنائی جا سکتی ہے۔”

کچھ گھڑیاں خاموشی رہی، پھر چائے کا کپ ہاتھ میں لے کر وہ بولا:

"بنگلورو میں میری اچھی نوکری تھی، بڑا خاندان تھا، عزت بھی تھی۔ لیکن میں نے سوچا کہ بچوں کا مستقبل اور بہتر ہونا چاہیے۔ سب کچھ چھوڑ کر پہلے جنوبی افریقہ گیا۔ چار سال جدوجہد کی، پھر قسمت مجھے نیویارک لے آئی۔”

"اب تو دس سال ہو گئے ہیں⁦…⁩خوش ہو؟”

اس نے لمبا سانس بھرا:

"پیسے آ گئے، مگر زندگی کے خوبصورت پل چلے گئے۔”

وہ آگے بولا:

"میری بیٹی جب اسکول گئی، میں یہاں نیویارک میں تھا۔ جب وہ گریجویشن کر کے ڈاکٹر بنی، میں اس لمحے بھی اس کے پاس موجود نہیں تھا۔ ہر خوشی بھرا پل میں نے موبائل کی اسکرین پر ہی دیکھا ہے۔”

اس کی آنکھوں میں آنسو تیر آئے۔

کمرے میں خاموشی چھا گئی تو میں نے کہا:

"اب واپس چلے جاؤ، باقی زندگی بچوں کے ساتھ گزارو۔”

وہ مسکرا کر بولا:

"تاشفین بھائی، پردیس میں رہنے والے انسان کی واپسی اس کی مرضی سے نہیں ہوتی، ذمہ داریاں جب اجازت دیتی ہیں، تب ہوتی ہے۔”

پھر ہنستے ہوئے بولا:

"ابھی بیٹی کی شادی کرنی ہے، پھر شاید اپنے لیے بھی کچھ وقت بچے۔”

"کبھی کبھی انسان اپنے خوابوں کو پورا کرتے کرتے خود ایک ادھوری داستان بن جاتا ہے۔”

وہ ساری رات ٹیکسی چلاتا تھا، دن کا تھکا ہوا جسم بستر پر ہوتا تھا۔ اسے نہ دن کی خبر ہوتی تھی، نہ رات کی۔ اس کے کیلنڈر پر صرف ایک لفظ لکھا ہوتا تھا:

"ذمہ داری اور ڈالر کی جمع پونجی۔”

سہیل کویار — خوابوں اور حقیقت کے درمیان کھڑا نوجوان

سہیل سب سے زیادہ مسکرانے والا تھا، لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس کے ہنسنے میں بھی کوئی اداسی چھپی ہوئی تھی۔

میں نے پوچھا:

"سہیل، زندگی کیسی گزر رہی ہے؟”

وہ ہنستے ہوئے بولا:

"نیویارک میں زندگی گزرتی نہیں ہے، زندگی کو دھکا دینا پڑتا ہے۔”

ہم سب ہنسنے لگے۔

وہ پھر سنجیدہ ہوگیا:

"حیدرآباد دکن میں آرکیٹیکچر پڑھتا تھا۔ دوسرے سال میں پڑھائی چھوڑ کر یہاں آ گیا۔ سوچا امریکہ قسمت بدل دے گا۔”

"پھر؟”

"امریکہ نے مجھے بدل دیا⁦…⁩وقت سے پہلے اندر سے توڑ بھی دیا ہے۔”

وہ صبح کے وقت موبائل کمپنی میں سیلز کرتا تھا، شام کو یونیورسٹی میں آئی ٹی پڑھتا تھا اور رات کو اسائنمنٹ لکھتا تھا۔

"مہینے کے آخر میں جیب میں کچھ نہیں بچتا، لیکن خواب ابھی تک باقی ہیں۔”

میں نے پوچھا:

"تھکتے نہیں ہو؟”

وہ مسکرا کر بولا:

"تھک جاتا ہوں⁦…⁩پر نیند نہیں آتی۔”

سہیل میرے آرٹ کو بڑی دلچسپی سے دیکھتا تھا اور اس سے بہت زیادہ متاثر تھا۔ وہ کہتا تھا:

"تاشفین بھائی، آپ کی پینٹنگز میں رنگ نہیں، احساس بولتے ہیں۔”

ہم آرٹ، فلسفے، وطن، تاریخ اور مستقبل پر باتیں کرتے رہے۔

"میں نے محسوس کیا کہ سہیل کی عمر تیس سال تھی، لیکن اس کے سوال صدیوں کے تھے۔”

رؤف خان — امیدوں سے بھرا ہوا ایک نوجوان

رؤف کمرے میں سب سے چھوٹا تھا۔ وہ نئے کاروباری خیالات، نئی ٹیکنالوجی اور نئے منصوبوں کے بارے میں بات کرتا رہتا تھا۔

میں نے اسے کہا:

"رؤف، تمہیں کبھی ڈر نہیں لگتا؟”

وہ ہنستے ہوئے بولا:

"ڈر تو لگتا ہے، لیکن ڈر کے ساتھ زندگی آگے نہیں بڑھتی۔ ہمارا خاندان بھارت میں ٹرانسپورٹ کا بڑا کاروبار کرتا ہے، مگر میں نے چاہا کہ اپنی پہچان خود بناؤں۔”

وہ سی اے کی پڑھائی کر رہا تھا اور ہر دن نئی چیزیں سیکھتا تھا۔

"دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، جو سیکھنا چھوڑ دے گا وہ پیچھے رہ جائے گا۔”

سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی اور ثقافت پر ہماری گھنٹوں بحث چلتی رہتی تھی۔

میں نے اسے کہا:

"تمہاری آنکھوں میں بڑے خواب ہیں۔”

اس نے جواب دیا:

"خواب بڑے نہ ہوں تو نیویارک جیسے شہر میں انسان زندہ کیسے رہے؟”

اسلم ملک — ایک مسکراتا چہرہ

اسلم سب سے زیادہ خوش مزاج تھا۔ وہ ہر بات پر قہقہہ لگاتا تھا، لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس کے ہنسنے کے پیچھے کوئی بہت بڑا المیہ چھپا ہوا ہے۔

میں نے ایک رات پوچھا:

"اسلم، تم اتنا زیادہ ہنستے کیوں ہو؟”

وہ کچھ گھڑیاں خاموش رہا، پھر اپنا موبائل کھول کر ایک تصویر میری طرف بڑھائی:

"یہ میری بیوی ہے۔”

میں نے کہا:

"ماشاءاللہ⁦…⁩ساتھ کیوں نہیں ہو؟”

اس نے آہستہ سے کہا:

"چار سال پہلے آن لائن نکاح ہوا۔ پانچ بار ویزا مسترد ہو چکا ہے۔ میں بہت زیادہ دکھ اور کشمکش کا شکار ہوں۔ اگر بھارت میں حیدرآباد دکن گیا تو واپسی مشکل ہے۔ دن میں دو نوکریاں، رات میں پڑھائی⁦…⁩جاگ کر کام کرتے کرتے تھک گیا ہوں، مگر مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔”

میں نے کہا:

"امید مت چھوڑنا۔”

وہ بولا:

"امید ہی تو ہے جو ہر صبح مجھے دوبارہ اٹھاتی ہے۔”

اسلم میری بہت عزت کرتا تھا اور ہر بار کہتا تھا:

"تاشفین بھائی، آپ ہمارے مہمان نہیں، ہماری زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔”

ہم سب پانچ مسافر تھے

اس رات میں نے محسوس کیا کہ ہم پاکستان یا بھارت سے نہیں ہیں⁦…⁩ہم تو محض پانچ مسافر تھے۔

کسی کا وطن پیچھے رہ گیا تھا، کسی کے بچے، کسی کی بیوی، کسی کے خواب، اور کسی کی پہچان۔

میں نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

"ہم سب کچھ نہ کچھ ڈھونڈنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔”

عارف نے کہا:

"میں اپنے بچوں کا مستقبل۔”

سہیل نے کہا:

"میں اپنی پہچان۔”

رؤف نے مسکرا کر کہا:

"میں اپنا مستقبل۔”

اسلم نے آہستہ سے جواب دیا:

"میں اپنی محبت اور زندگی۔”

وہ سب میری طرف دیکھنے لگے۔

میں نے مسکرا کر کہا:

"اور میں⁦…⁩میں سندھو کی تہذیب کا پیغام دنیا تک پہنچانے آیا ہوں۔”

جاری ہے…


سندھ کی تہذیبی شناخت، ایک فنکار کے خواب اور نیویارک کے سفر کی یہ داستان ابھی اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہونا باقی ہے۔
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous ArticleISGAP رپورٹ⁦:⁩قطری فنڈنگ، کیمپس سیاست اور کینیڈا کی قومی سلامتی کے خدشات
Next Article جھرک، آغا خان محل سے جناح کی جائے پیدائش تک — ایک بھولی ہوئی تاریخ
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.