فرانس میں یہودی عبادت گاہوں کی سکیورٹی سخت، مذہبی تہواروں سے قبل ’انتہائی چوکس‘ رہنے کی ہدایت
روش ہشانہ، یومِ کپور اور سکّوت کے موقع پر سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ، گزشتہ برس فرانس میں یہود مخالف واقعات کی تعداد1,320رہی
مذہبی تہواروں سے قبل سکیورٹی بڑھانے کی ہدایت
فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز نے رواں ہفتے کے آغاز میں علاقائی حکام کو بھیجے گئے ایک خط میں ملک بھر میں یہودی مذہبی مقامات کے گرد سکیورٹی مزید مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔
خاص طور پر یہ اقدامات یہودیوں کے اہم مذہبی تہواروں کے دوران کیے جائیں گے، جن میں روش ہشانہ یعنی یہودی نیا سال، یومِ کپور یعنی یومِ کفارہ، اور سکّوت یعنی موسمِ خزاں کا ایک ہفتہ جاری رہنے والا مذہبی تہوار شامل ہیں۔
یہودی نیا سال — 11 ستمبر کی شام سے آغاز
یومِ کفارہ — 20 ستمبر کی شام سے آغاز
موسمِ خزاں کا مذہبی تہوار — 25 ستمبر کی شام سے آغاز
پولیس، نگرانی اور گشت میں اضافہ
وزیر داخلہ نے مقامی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ میونسپل حکام اور یہودی برادری کے رہنماؤں کے ساتھ رابطہ اور تعاون بڑھائیں تاکہ مذہبی مقامات کی حفاظت مزید مؤثر بنائی جا سکے۔
مجوزہ اقدامات میں میونسپل پولیس کی اضافی تعیناتی، ویڈیو نگرانی کے دائرہ کار میں توسیع اور عبادت گاہوں سمیت مذہبی اجتماعات کے گرد پولیس گشت بڑھانا شامل ہے۔ خاص طور پر عبادت کے لیے آنے والے افراد اور سروسز کے اختتام پر واپس جانے والے نمازیوں کے اوقات میں سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
آپریشن سینٹینیل بھی سکیورٹی میں شریک
فرانسیسی فوج کے انسدادِ دہشت گردی مشن آپریشن سینٹینیل کے ساتھ مل کر حکام ایسے یہودی مقامات کو اضافی تحفظ فراہم کریں گے جہاں خطرہ زیادہ سمجھا جاتا ہے۔
حکام مذہبی برادریوں اور اجتماعات کے خلاف ممکنہ دہشت گردانہ خطرات اور انتہا پسندانہ سرگرمیوں کی بھی قریبی نگرانی جاری رکھیں گے۔
گزشتہ برس1,320یہود مخالف واقعات رپورٹ
فرانسیسی وزارتِ داخلہ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ملک میں یہود مخالف واقعات کی تعداد تشویشناک حد تک بلند رہی اور ملک بھر میں 1,320 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ تعداد2024میں ریکارڈ کیے گئے 1,570 واقعات کے مقابلے میں16فیصد کم تھی، تاہم فرانس میں گزشتہ برس بھی روزانہ اوسطاً ساڑھے تین سے زیادہ یہود مخالف واقعات سامنے آئے۔
تین برسوں میں نمایاں اضافہ
فرانسیسی وزارتِ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ25برسوں کے دوران یہود مخالف کارروائیاں گزشتہ تین برسوں جتنی تعداد میں پہلے کبھی ریکارڈ نہیں ہوئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ7اکتوبر2023کو حماس کی قیادت میں جنوبی اسرائیل پر ہونے والے حملے اور قتلِ عام کے بعد یہود مخالف واقعات میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اعداد و شمار کے مطابق فرانس کی مجموعی آبادی میں یہودیوں کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، تاہم گزشتہ برس مذہبی بنیاد پر ہونے والے تمام جرائم میں سے 53 فیصد یہودیوں کے خلاف جرائم تھے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ2022کے مقابلے میں یہود مخالف کارروائیوں کی تعداد تقریباً تین گنا ہو چکی ہے، جس سے فرانس کی یہودی برادری کو درپیش خطرے کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔
مذہبی اجتماعات کے دوران خصوصی نگرانی
فرانسیسی حکومت کی جانب سے سکیورٹی میں اضافے کا مقصد یہودی عبادت گاہوں اور مذہبی اجتماعات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ حکام نے مقامی انتظامیہ، پولیس، فوج اور یہودی برادری کے نمائندوں کے درمیان رابطہ مزید مؤثر بنانے پر زور دیا ہے۔
مذہبی تہواروں کے دوران عبادت گاہوں کے اطراف اضافی پولیس گشت، نگرانی کے نظام اور ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی کو اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ خبر فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار اور فراہم کردہ رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ واقعات اور اعداد و شمار کو متعلقہ سرکاری رپورٹ کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔
اس خبر میں پیش کیے گئے اعداد و شمار، واقعات اور سکیورٹی سے متعلق تفصیلات متعلقہ فرانسیسی حکام کی رپورٹ اور فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ کسی بھی واقعے یا دعوے کو اسی نسبت اور تناظر میں سمجھا جائے۔

