”ہمارے ہیروز“ یا ”ہمارا تماشا“؟

فلیش لائٹس جلتی ہیں، اسٹیڈیم تالیوں سے گونج اٹھتا ہے، کمنٹیٹر پُرجوش لہجے میں اعلان کرتا ہے:
”خواتین و حضرات، پیش ہیں آج کے ’ہمارے ہیرو‘!“
ایک قومی چیمپئن، جس نے دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کیا، میدان میں لایا جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں دو لاکھ چالیس ہزار روپے کا ایک بڑا سا ڈمی چیک تھمایا جاتا ہے، تصویریں بنتی ہیں، تالیاں بجتی ہیں — اور پھر لائٹس بجھتے ہی وہ ہیرو اسٹیڈیم کی چکاچوند سے نکل کر ایک ایسی بھول بھلیاں میں کھو جاتا ہے جہاں سے نکلنے میں اسے مہینوں لگ جاتے ہیں۔
یہ ہے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے زیرِ اہتمام ”ہمارے ہیروز“ پروگرام کی اصل کہانی — ایک ایسی کہانی جو اسکرین پر جتنی شاندار دکھائی دیتی ہے، پردے کے پیچھے اتنی ہی افسوس ناک اور شرم ناک ہے۔
قومی وقار کا سودا، محض ایک فوٹو آپرچونٹی کے عوض
پاکستان کرکٹ بورڈ، ایچ بی ایل اور پی ایس ایل انتظامیہ نے ”ہمارے ہیروز“ کے نام سے یہ پروگرام اس دعوے کے ساتھ شروع کیا کہ یہ ملک کے گمنام قومی ہیروز — وہ ایتھلیٹس جنہوں نے بغیر کسی وسائل، بغیر کسی سرکاری سرپرستی کے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا — کو عزت اور پہچان دینے کا ذریعہ بنے گا۔
آن لائن نامزدگی کے ذریعے ایک ہیرو چنا جاتا ہے، میچ کے دوران اسٹیڈیم میں لایا جاتا ہے، کیمروں کی چکاچوند میں انعامی چیک اسے تھمایا جاتا ہے — اور بس۔ کہانی وہیں ختم ہو جاتی ہے، کم از کم اسکرین پر۔
مگر حقیقت میں کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے۔
وہی ہیرو جسے قوم کے سامنے عزت دی گئی، بینک اکاؤنٹ میں رقم دیکھنے کے لیے پانچ سے چھ ماہ انتظار پر مجبور ہوتا ہے۔ سوچیے، ایک ایسا کھلاڑی جو پہلے ہی بے وسیلہ اور بے توجہی کا شکار ہے، جس کے پاس روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے وسائل محدود ہیں، اسے اپنے ہی انعام کے لیے آدھا سال دفتروں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔
کٹوتی کا کھیل: ”گمنام ہیرو“ سے ”فائلر“ ہونے کی توقع؟
سب سے تشویش ناک پہلو وہ ٹیکس کٹوتی کا فارمولا ہے جو ان کھلاڑیوں پر لاگو کیا جاتا ہے۔ فائلر ہونے کی صورت میں20فیصد اور نان فائلر ہونے کی صورت میں40فیصد رقم انعام سے کاٹ لی جاتی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے:جن کھلاڑیوں کو خود پی سی بی اور پی ایس ایل ”گمنام ہیرو“ اور ”بے سرپرست“ قرار دیتے ہیں، ان سے فائلر ہونے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
ایک ایسا ایتھلیٹ جسے کبھی مالی معاونت، ٹیکس مشاورت یا ادارہ جاتی سہولت میسر ہی نہیں آئی، اسے فائلر نہ ہونے کی سزا کے طور پر اپنے ہی انعام کا40فیصد گنوانا پڑتا ہے۔
یہ صرف ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ایک اخلاقی سوال ہے:اگر انعام دینا ہی مقصد ہے تو پانچ ماہ ترسا کر، پھر اس میں سے کاٹ کر دینا کس طرح انصاف کہلائے گا؟
رقم دینی ہے تو مکمل اور بروقت دی جائے۔ عزت افزائی کے نام پر مہینوں انتظار کروانا اور پھر جیب سے بھی کاٹ لینا — یہ اعزاز نہیں، توہین ہے۔
دو کھلاڑی، دو دنیائیں:کرکٹ کا شاہانہ رعب اور باقی کھیلوں کی بے بسی
یہ دہرا معیار اس وقت مزید بھیانک شکل اختیار کر لیتا ہے جب ہم پی ایس ایل کے کرکٹرز کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا موازنہ دیگر کھیلوں کے قومی ہیروز سے کرتے ہیں۔
پی ایس ایل میں ڈرافٹ ہونے والے یا خریدے جانے والے کرکٹرز کا معاوضہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی ان کے کھاتوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے — بلا تاخیر، بلا رکاوٹ۔
کرکٹ کو ملک میں وہ تمام مراعات، تشہیر اور مالی تحفظ حاصل ہے جو کسی اور کھیل کے حصے میں نہیں آتا، چاہے کچھ کرکٹرز کا نام ماضی میں میچ فکسنگ جیسے سنگین الزامات سے ہی کیوں نہ جڑا رہا ہو اور ملک کی بدنامی کا سبب بنا ہو۔
دوسری جانب وہ ایتھلیٹس ہیں جو محدود وسائل، بغیر کوچنگ سہولیات اور محض اپنی ذاتی محنت کے بل بوتے پر عالمی مقابلوں میں پاکستان کا پرچم بلند کرتے ہیں۔
نہ انہیں مستقل اسپانسرشپ ملتی ہے، نہ تربیتی سہولیات، اور جب بالآخر انہیں ”ہیرو“ کا خطاب دے کر اسٹیج پر لایا جاتا ہے تو اس اعزاز کے بدلے بھی انہیں مہینوں کی ذلت اور کٹوتی جھیلنی پڑتی ہے۔
شفافیت کا فقدان، ذمہ داری کس پر؟
ایچ بی ایل بینک اور پی ایس ایل انتظامیہ کو اس رویے پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
ایک قومی ہیرو کو عزت دینے کا مطلب صرف کیمرے کے سامنے ایک ڈمی چیک پکڑانا نہیں، بلکہ اسے وقار کے ساتھ، بروقت اور بغیر کسی غیر ضروری کٹوتی کے، اس کا مکمل حق ادا کرنا ہے۔
جب تک ایسا نہیں ہوتا، ”ہمارے ہیروز“ جیسے پروگرام محض ادارتی تشہیر کا ذریعہ بنے رہیں گے — ایک ایسی مشہوری جس کی قیمت وہی لوگ چکاتے ہیں جنہیں یہ ”عزت“ دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
کیا پاکستان کرکٹ بورڈ اور ایچ بی ایل اس تلخ حقیقت کا نوٹس لیں گے، یا ”ہمارے ہیروز“ ہمیشہ کی طرح صرف اسٹیج تک محدود رہیں گے اور اصل زندگی میں تنہا رہ جائیں گے؟
فیصلہ اب انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے۔


