سفارتی ری سیٹ یا بیانیوں کا نیا ٹکراؤ؟

اسلام آباد میں قومی دفاعی یونیورسٹی(NDU)کے دالان میں منعقد ہونے والی ایک حالیہ تقریب محض ایک روایتی سفارتی نشست نہیں تھی، بلکہ یہ ایک واضح اسٹریٹجک سگنل تھا—پاکستان کی جانب سے بھی اور افغانستان کی جانب سے بھی۔
تمام تر کشیدگی، بارڈر کے تنازعات اور سکیورٹی خدشات کے باوجود، پاکستان کی طرف سے افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب کو اپنے اعلیٰ ترین دفاعی و اسٹریٹجک ادارے میں مدعو کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام آباد کابل کے ساتھ تمام راستے بند کرنے کا خواہش مند نہیں۔
پاکستان کی اس دعوت کے پیچھے ایک روشن اور واضح پیغام چھپا تھا۔ دوسری طرف افغان سفیر کا خطاب بھی اسی شدت اور صراحت کا حامل تھا، جنہوں نے پاکستان کے مؤقف کے جواب میں کہا:
’’ہم ہمسائے ہیں، مگر ماتحت نہیں۔ تعلقات برابری پر ہوں گے، دباؤ پر نہیں!‘‘
یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے پاک افغان تعلقات کی موجودہ صورتِ حال اور مستقبل کے خد و خال کا تجزیہ شروع ہوتا ہے۔
تاریخی بوجھ اور نئے بیانیے کی کشمکش
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ سے تاریخی بیانیوں، سکیورٹی خدشات اور جغرافیائی حقیقتوں کے درمیان جھولتے رہے ہیں۔ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو تین بنیادی حقائق سامنے آتے ہیں:
دونوں ممالک کی جغرافیائی اور سماجی ساخت ایک دوسرے سے گہرائی میں جڑی ہوئی ہے۔
سکیورٹی کا بحران کبھی ایک طرفہ نہیں رہا بلکہ ہمیشہ دو طرفہ اثرات کا حامل رہا ہے۔
دونوں کے درمیان اعتماد ہمیشہ کم رہا ہے، مگر ایک دوسرے پر انحصار ہمیشہ زیادہ۔
این ڈی یو میں افغان سفیر نے اسی تاریخی بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا:
’’آج کا افغانستان نہ سرد جنگ کا افغانستان ہے، نہ1990ء کی دہائی کا، اور نہ ہی2001ء کے بعد کا۔‘‘
افغان سفیر کا یہ جملہ پاکستان کے لیے ایک اہم پیغام تھا کہ افغانستان اب اپنے آپ کو ایک نئے سیاسی وجود کے طور پر پیش کر رہا ہے، اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو بھی اپنے پرانے اور روایتی بیانیے پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔
دو بیانیے:سکیورٹی بمقابلہ خودمختاری
موجودہ تناظر میں دونوں ممالک اپنے اپنے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پاکستان کا بیانیہ:سکیورٹی
پاکستان کا بنیادی بیانیہ اور سب سے بڑا مسئلہ ’’تحریکِ طالبان پاکستان‘‘ (TTP) ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغان حکومتTTPکے مخصوص نیٹ ورکس کی نشاندہی کرے، ان کے خلاف ٹھوس اور یکسو کارروائی کرے اور بارڈر کو محفوظ بنائے۔
این ڈی یو میں افغان سفیر کی موجودگی اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان سکیورٹی بحران کو سفارتی ٹکراؤ میں بدلنے کے بجائے، افغانستان کے بیانیے کو سننے اور تعلقات کو محض ’’سکیورٹی فریم‘‘ سے نکال کر ’’پالیسی ڈائیلاگ‘‘ کی طرف لانے کے لیے تیار ہے۔
افغانستان کا بیانیہ:خودمختاری
دوسری طرف افغان حکومت کا بیانیہ اپنی خودمختاری، برابری اور دباؤ کی نفی پر مبنی ہے۔ افغان سفیر نے یہ تو باور کرایا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن ساتھ ہی یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کی سکیورٹی تشویش کو افغان سرزمین پر کسی یکطرفہ کارروائی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
افغان نقطۂ نظر کے مطابق دباؤ، بارڈر کی بندش یا اجتماعی سزا جیسے اقدامات اب قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔ یہ بیانیہ پاکستان کو ایک نئی حقیقت بتاتا ہے کہ افغانستان اب برابری کی سطح پر تعلقات چاہتا ہے، انحصار یا دباؤ کی بنیاد پر نہیں۔
مستقبل کے تین ممکنہ راستے
اس تمام صورتِ حال کا اگر گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو مستقبل میں دونوں ممالک کے سامنے تین ممکنہ راستے یا پالیسی آپشنز نظر آتے ہیں:
اسٹریٹجک ری سیٹ
اگر دونوں ممالک اس خطاب اور دعوت کو ایک نئے آغاز کے طور پر لیتے ہیں، تو سکیورٹی تعاون ’’کیس بیسڈ‘‘ ہو سکتا ہے، بارڈر مینجمنٹ میں بہتری آ سکتی ہے، اور تجارت و ٹرانزٹ بحال ہونے سے عوامی آمدورفت میں نرمی ممکن ہے۔ یہ راستہ تعلقات کو ڈی ایسکلیشن، یعنی تناؤ کی کمی، کی طرف لے جائے گا۔
پاکستان کے لیے یہ اس لیے فائدہ مند ہے کیونکہ افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی اسلام آباد کو علاقائی سطح پر سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
بیانیوں کی ٹکراؤ پر مبنی پالیسی
اگر دونوں ممالک اپنے اپنے سخت بیانیے پر قائم رہے تو پاکستان کی جانب سے بارڈر پر مزید سختی دیکھی جائے گی، افغانستان کی طرف سے پاکستان پر دباؤ اور مداخلت کے الزامات لگیں گے،TTPکا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوگا اور تجارت و عوام کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوگی۔
یہ راستہ دونوں ملکوں کے لیے خطرناک ہے، بالخصوص پاکستان کے لیے، کیونکہ افغانستان متبادل علاقائی پارٹنرز کی تلاش تیز کر دے گا۔
نیا ہمسائیگی ماڈل
یہ وہ راستہ ہے جس کی طرف افغان سفیر نے اشارہ کیا۔ اس ماڈل کی بنیاد برابری، ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام، دباؤ کے بجائے مسلسل مکالمے، اور تجارتی و سفارتی روابط کو سکیورٹی مسائل کا یرغمال نہ بنانے پر ہے۔
اگرچہ اس ماڈل میں سکیورٹی تعاون مشروط ہوگا، لیکن یہ خطے میں پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو مضبوط اور پائیدار بنا سکتا ہے۔
اصل سوال:تعلقات کیسے ہوں گے؟
افغان سفیر نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی فکر انگیز بات کی:
’’اصل سوال یہ نہیں کہ تعلقات ہوں گے یا نہیں،
بلکہ یہ ہے کہ ہم اچھے ہمسائے کیسے بن سکتے ہیں؟‘‘
یہ جملہ پاکستان کے لیے ایک دعوت بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔ افغانستان نے اپنے تحفظات اور انتخاب واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ یا انحصار کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
اب فیصلہ پاکستان کو کرنا ہے کہ وہ تعلقات کو پرانے دباؤ کے ماڈل پر چلانا چاہتا ہے یا برابری اور سفارتی دانشمندی کے ایک نئے فریم ورک پر۔
حاصلِ کلام
این ڈی یو میں افغان سفیر کی آمد اور خطاب ایک سفارتی ’’ری سیٹ‘‘ کا پتہ دیتا ہے۔ اس پیش رفت سے یہ سچائی واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات نہ تو بالکل ختم ہو سکتے ہیں اور نہ ہی پرانے روایتی ماڈل پر واپس جا سکتے ہیں۔
+
خودمختاری کا احترام
+
براہِ راست مکالمہ
ایک نیا فریم ورک شکل اختیار کر رہا ہے—اور اس نئے فریم ورک کی بنیاد ’’سکیورٹی تعاون+خودمختاری کا احترام+براہِ راست مکالمہ‘‘ پر ہی رکھی جا سکتی ہے۔

