کولمبیا یونیورسٹی میں9/11سے ایک روز قبل محسن مہداوی کا انٹرویو، نئی رپورٹ کے بعد تنازع
"`
کولمبیا یونیورسٹی کے نائٹ فرسٹ امینڈمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے9/11کی25ویں برسی کے موقع پر منعقد کیے جانے والے ایک سیمپوزیم میں فلسطینی طلبہ رہنما محسن مہداوی کا انٹرویو شامل کیے جانے پر تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسی نئی تحقیق کے بعد سامنے آئی ہے جس میں مہداوی کے ماضی کے مبینہ بیانات اور حماس سمیت مسلح تنظیموں کے بارے میں ان کے سابقہ مؤقف کا حوالہ دیا گیا ہے۔
9/11 سے ایک روز قبل انٹرویو
رپورٹ کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی کے نائٹ فرسٹ امینڈمنٹ انسٹی ٹیوٹ اگلے ہفتے ایک سیمپوزیم منعقد کرنے والا ہے، جس میں ’’محسن مہداوی کے ساتھ ایک انٹرویو‘‘ بھی شامل ہوگا۔ مہداوی کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینی طلبہ احتجاجی تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
آن لائن پروگرام کے مطابق مہداوی کا انٹرویو جمعرات10ستمبر کو، یعنی11ستمبر کے دہشت گرد حملوں کی برسی سے ایک روز قبل، کولمبیا ڈیلی اسپیکٹیٹر کی رپورٹر دکشا پلائی کریں گی۔
سیمپوزیم کا موضوع کیا ہے؟
آن لائن دعوت نامے کے مطابق یہ تقریب9/11کے25سال مکمل ہونے اور شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ، جنوبی و وسطی ایشیا اور امریکا میں جاری طویل جنگوں کے اثرات پر غور کے لیے منعقد کی جا رہی ہے۔
مقررین اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ’’فاریور وار‘‘ یا ’’وار آن ٹیرر‘‘ نے جمہوری حقوق، بالخصوص آزادیِ اظہار اور آزادیٔ صحافت کو کس طرح متاثر کیا۔
آزادیِ اظہار بمقابلہ تنازع
مہداوی کی شرکت نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آزادیِ اظہار کے اصول کے تحت متنازع سیاسی شخصیات کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کی حدود کیا ہونی چاہئیں، خصوصاً اس وقت جب ان کے ماضی کے مبینہ بیانات پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہوں۔
مہداوی کے خلاف نئی رپورٹ میں کیا دعوے کیے گئے؟
خبر کے مطابق دو تحقیقاتی صحافیوں ڈیوڈ کولئیر اور ریچل فیلڈمین کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً100صفحات پر مشتمل تحقیق میں مہداوی کے بعض ایسے سابقہ بیانات پیش کیے گئے ہیں جنہیں رپورٹ کے مصنفین نے دہشت گرد تنظیموں، مسلح تشدد اور اس میں ملوث افراد کی حمایت سے تعبیر کیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مہداوی نے ماضی میں حماس کی تعریف کی، ہلاک ہونے والے مسلح افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا اور فلسطینیوں کے پاس ’’مزاحمت، قتل اور زخمی کرنے‘‘ کی صلاحیت اور عزم ہونے کی بات کی۔
ان دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہداوی نے یہودیوں کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کی۔ تاہم خبر میں درج الزام کو مہداوی کی جانب سے تسلیم شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
2014ء میں امریکا آمد کے بعد کے بیانات
تحقیق کے مطابق مہداوی جولائی2014ء میں امریکا آنے کے کچھ عرصے بعد ورمونٹ سے کی گئی ایک فیس بک پوسٹ میں حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے حق میں اظہارِ خیال کرتے دکھائی دیے۔
رپورٹ میں ان کے ایک پرانے بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں انہوں نے قسام، السرايا اور الکتائب کے جنگجوؤں اور غزہ میں ہلاک ہونے والے افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔
دسمبر2024ء کی ایک فیس بک ویڈیو، جو مبینہ طور پر صرف دوستوں تک محدود تھی، کے حوالے سے بھی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہداوی نے مغربی کنارے کے جنین پناہ گزین کیمپ میں فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو ’’مزاحمت کے لیے طمانچہ‘‘ قرار دیا اور مسلح افراد کو ’’مزاحمت کار‘‘ قرار دینے کا مؤقف اپنایا۔
گن شاپ سے متعلق الزام
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ2015ء میں مہداوی نے ورمونٹ میں ایک گن شاپ پر ملازمت کے لیے درخواست دی تھی، جہاں پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ان کے بارے میں تحقیقات کی گئیں۔
تحقیق میں ایک الزام یہ بھی شامل ہے کہ انہوں نے عملے کو بتایا کہ فلسطین میں انہیں مشین گنیں استعمال کرنے کی تربیت دی گئی تھی تاکہ یہودیوں کو قتل کیا جا سکے۔ ایک دوسرے گواہ نے بعد میں مبینہ طور پر انہیں یہ کہتے ہوئے یاد کیا کہ ’’مجھے یہودیوں کو قتل کرنا پسند ہے‘‘۔ تاہم خبر کے مطابق مہداوی نے اس گفتگو کے وقوع پذیر ہونے سے انکار کیا ہے۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق مہداوی نے گن شاپ میں مذکورہ گفتگو ہونے کے الزام کی تردید کی ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے احتجاج اور امیگریشن کیس
34 سالہ مہداوی کولمبیا یونیورسٹی میں7اکتوبر کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے ابتدائی نمایاں رہنماؤں میں شامل ہوئے۔ خبر کے مطابق گزشتہ سال انہیں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، یعنیICE، کے اہلکاروں نے امریکی شہریت حاصل کرنے سے متعلق ایک ملاقات کے دوران حراست میں لیا، جس کے بعد ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی شروع ہوئی۔
فراہم کردہ متن کے مطابق ایک امیگریشن جج نے رواں سال3جون کو انہیں امریکا سے نکالنے کا حکم دیا۔ تاہم ان کا مقدمہ اپیل کے مرحلے میں ہے اور وہ اس دوران امریکا میں موجود ہیں۔ وہ کولمبیا یونیورسٹی میں گریجویٹ طالب علم بھی ہیں۔
کولمبیا یونیورسٹی پہلے ہی تنقید کی زد میں
خبر کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی پہلے ہی یہودی طلبہ کے لیے مبینہ طور پر خطرناک ماحول سے متعلق الزامات کے باعث وفاقی حکومت کی جانب سے نگرانی اور تنقید کا سامنا کر چکی ہے۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی نے گزشتہ سال وفاقی حکومت کے ساتھ220ملین ڈالر کے تصفیے میں داخل ہونے پر اتفاق کیا تھا۔
دوسری جانب نائٹ فرسٹ امینڈمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے سیمپوزیم کے شرکا کی فہرست میں متعدد ایسے صحافی اور کارکن بھی شامل ہیں جنہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا ہے یا اسرائیل کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔
فراہم کردہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پروگرام میں اسرائیل کی غزہ میں فوجی مہم کی حمایت کرنے والا کوئی نمایاں مقرر شامل نہیں ہے۔ یہ بات بھی خبر کے مصنف کی جانب سے شرکا کے سیاسی مؤقف کے جائزے کے طور پر پیش کی گئی ہے۔
آزادیِ اظہار کی بحث پھر مرکز میں
مہداوی کی شرکت نے ایک مرتبہ پھر اس بنیادی سوال کو نمایاں کر دیا ہے کہ یونیورسٹیوں میں آزادیِ اظہار کے تحفظ اور ایسے سیاسی بیانات کے حوالے سے ادارہ جاتی ذمہ داری کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے جنہیں بعض حلقے نفرت یا دہشت گردی کی حمایت سے تعبیر کرتے ہیں۔
نائٹ انسٹی ٹیوٹ، کولمبیا یونیورسٹی اور کولمبیا ڈیلی اسپیکٹیٹر کی جانب سے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب ملنے کا ذکر فراہم کردہ خبر میں نہیں کیا گیا۔
اصل تنازع کیا ہے؟
ایک طرف یونیورسٹیوں کی جانب سے آزادیِ اظہار، صحافت اور ’’وار آن ٹیرر‘‘ کے اثرات پر بحث کی ضرورت ہے؛ دوسری طرف ایسے مقررین کو پلیٹ فارم دینے پر سوال اٹھ رہے ہیں جن کے ماضی کے بیانات کے بارے میں سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
یہی کشمکش10ستمبر کو ہونے والے متوقع انٹرویو کو محض ایک تعلیمی یا صحافتی نشست سے آگے ایک بڑے سیاسی اور اخلاقی مباحثے کا حصہ بنا رہی ہے۔
امریکا، عالمی سیاست اور اہم بین الاقوامی امور کی اردو کوریج

