ایران اور یمن پر کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ اجلاس
ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ قومی سلامتی حکام نے جمعے کو کیمپ ڈیوڈ میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے ایک غیر اعلانیہ اجلاس میں ایران کے ساتھ جاری تنازع اور یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی کے اگلے مرحلے پر غور کیا۔ اجلاس کی اطلاع تین امریکی حکام کے حوالے سے دی گئی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بند کمرہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف شریک ہوئے۔
ایک امریکی عہدیدار نے اجلاس کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے بحرانوں سے متعلق بعض معاملات پر یا تو فیصلے کیے گئے یا کم از کم گہرائی سے غور کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے اجلاس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
غیر معمولی اور غیر اعلانیہ اجلاس
کیمپ ڈیوڈ میں اس نوعیت کا اجلاس غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اسے پہلے سے عوامی طور پر اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے قبل جون2025میں بھی اسی نوعیت کا ایک خفیہ اجلاس کیمپ ڈیوڈ میں ہوا تھا، جو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ سے چند روز پہلے منعقد ہوا تھا۔
موجودہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار بتائے جا رہے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔
ٹرمپ کا ایران کے بارے میں سخت مؤقف
جمعرات کو ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کہا تھا کہ اب انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ ایران معاہدے پر دستخط کرے گا یا پھر ’مزید موجود نہیں رہے گا‘۔ جمعے کو جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ کیمپ ڈیوڈ میں ان کے اعلیٰ مشیر اجلاس کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ اپنے اگلے اقدام کے بارے میں بتا دیں تو یہ ایک بڑی خبر بن جائے گی، تاہم انہوں نے کہا کہ معاملات ’بہت اچھے انداز میں‘ آگے بڑھ رہے ہیں اور ایران کی صورت حال اچھی نہیں۔
ان بیانات کے پس منظر میں ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں اور ممکنہ دوبارہ فوجی کارروائی دونوں زیر بحث ہیں۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق اجلاس میں یہ طے کرنے پر بھی غور کیا گیا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ موجودہ تنازع کے اگلے مرحلے میں کیا راستہ اختیار کرے گا۔
سعودی عرب اور حوثیوں کا محاذ
اجلاس کا دوسرا اہم موضوع یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری تنازع تھا۔ سعودی عرب ممکنہ طور پر حوثیوں کے خلاف ایک نئی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے اور ریاض نے واشنگٹن سے فضائی حملوں میں تعاون کی درخواست کی ہے۔
دستیاب رپورٹوں کے مطابق ٹرمپ اب تک یمن کے معاملے میں براہ راست امریکی مداخلت کے حوالے سے محتاط رہے ہیں، تاہم امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن اپنے مؤقف پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع ایک ایسے علاقائی ماحول کا حصہ ہے جس میں ایران، خلیجی ریاستیں اور امریکا مختلف سطحوں پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے سکیورٹی معاملات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ
کیمپ ڈیوڈ اجلاس کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون ایک تیسری ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور اضافی میرینز کے جہاز خطے میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے تقریباً9,000سے10,000اضافی امریکی اہلکار خطے میں پہنچ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان بحری اور فوجی وسائل کی خطے میں آمد نومبر کے اختتام تک متوقع ہے۔ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اور میرینز لے جانے والا یو ایس ایس میکن آئی لینڈ ایمفی بیئس ریڈی نیس گروپ بھی خطے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔
اس فوجی نقل و حرکت کو ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹوں سے یہ حتمی طور پر واضح نہیں ہوتا کہ اضافی امریکی افواج کی موجودگی براہ راست کسی نئی فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان ہے یا خطے میں ممکنہ مختلف حالات کے لیے امریکی فوجی آپشنز بڑھانے کی تیاری۔
اجلاس کے نتائج منظر عام پر نہیں آئے
کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی اس ملاقات کے بارے میں وائٹ ہاؤس نے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔ امریکی حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں ایران اور یمن دونوں سے متعلق اگلے اقدامات پر تفصیلی غور ہوا، لیکن کسی حتمی فیصلے کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے نہیں رکھی گئی۔
اس طرح ایران کے ساتھ مذاکرات، ممکنہ امریکی فوجی کارروائی، سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف کارروائی کی درخواست اور خطے میں امریکی فوجی تعیناتی میں اضافہ اس وقت واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ پالیسی کے اہم پہلو بنے ہوئے ہیں۔
