گیارہ ستمبر:ایک عالمی دہشت گردی
”مسلمانوں کی گردن قصائی کے تختے تلے“
ستمبر کی اس صبح اس جنتِ ارض، نیویارک، میں دہشت گردی کی آگ برسائی گئی تھی۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں تین ہزار انسان، عورتیں، مرد، بچے، بڑے، بوڑھے، جوان، نہتے، کام کرتے، کام پر جاتے، ہنستے، کھیلتے، کھاتے پیتے، بھوکے پیاسے، پولیس والے اور فائر فائٹرز قتل کر دیے گئے۔ امریکہ سمیت ستر سے زائد اقوام کے لوگ، شہری، گیارہ ستمبر کی آگ کا شکار ہوئے۔ دہشت گردی کی ایسی آگ جس نے گیارہ ستمبر کے اس دن سے تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اللہ کی خوشنودی کے نام پر خدا کی بنائی ہوئی خوبصورت دنیا کو دوزخ میں بدل دیا گیا۔ یہ وہ جہنمی دہشت گرد اپنے ساتھ لائے تھے؛ آگ نفرت کی۔
اس پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ گیارہ ستمبر دہشت گردی تھی۔ ایک عالمی دہشت گردی۔ ظاہر ہے، اس سطح کی دہشت گردی سے کینیڈا بھی کسی طرح محفوظ نہیں رہا۔ کئی سازشیں کینیڈا کے خلاف کینیڈین اور امریکی حکومتوں نے پکڑیں، ناکام بنائیں۔ کئی حملے ناکام بنائے گئے۔ کچھ دہشت گردانہ حملے ہوئے بھی۔
اب کینیڈا کے ایک ریڈیو نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کی دہشت گردی، دہشت گردی نہیں تھی۔ اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے؛ انتہائی غم اور غصہ۔
میں سمجھتا ہوں کہ اکیسویں صدی شروع ہوتے ہی القاعدہ جیسی دہشت گرد مافیا اور اس کے دہشت گردوں کے ہاتھوں یہ سب سے بڑی جدید دہشت گردی تھی، اور ہے۔ گیارہ ستمبر کی یہ دہشت گردی بھلا کیسے بھلائی جا سکتی ہے؟
یہ ایک طرح سے تین ہزار بے گناہ لوگوں کے خون میں ڈوبا ہوا ایک ”منی ہولوکاسٹ“ تھا، جس کا لقمۂ اجل ہر مذہب اور امریکہ سمیت مختلف ممالک کے لوگ بنے۔
جہاد کے نام پر جدید دہشت گردی و انتہاپسندی کی انتہا، جس کے بعد اسلاموفوبیا اور اینٹی سیمیٹزم میں شدت آئی۔
سعودی ملکیت میں لندن سے نکلنے والے اخبار الشرق الاوسط نے ایک روز بعد اپنے اداریے میں لکھا:
”اسامہ بن لادن نے گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملے کر کے گویا تمام دنیا کے مسلمانوں کی گردن قصائی کے تختے پر رکھ دی ہے۔“
مجھے اب بھی یاد ہے جب شکاگو میں ایک پاکستانی ریستوران میں دو پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں کی آپس میں گفتگو سنی۔ ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا:
”ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا ملبہ پاکستانیوں پر گرا ہے۔“
اس کا اشارہ گیارہ ستمبر کے بعد والے ردِعمل کی طرف تھا۔
تو گیارہ ستمبر ناقابلِ تردید شواہد کے ساتھ ایک دہشت گردی تھی، جو اسامہ بن لادن جیسے دہشت گرد جنگجو سردار کی دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے کی تھی، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔


