"`
جنونی محبت کی بیماری کیا ہے؟ علامات، وجوہات، تشخیص اور علاج
’’جنونی محبت‘‘ سے مراد ایسی کیفیت ہے جس میں انسان کسی ایک شخص کے بارے میں اس حد تک مبتلا ہو جائے کہ اس کی سوچ، جذبات اور روزمرہ زندگی پر اس شخص کا غلبہ ہو جائے۔
’’جنونی محبت کی بیماری‘‘ (Obsessive Love Disorder یاOLD)سے مراد ایسی کیفیت ہے جس میں انسان کسی ایک شخص کے بارے میں اس یقین یا احساس کے ساتھ غیر معمولی طور پر مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ اس کیفیت میں متعلقہ شخص اپنے محبوب کی حفاظت کرنے کی شدید خواہش محسوس کر سکتا ہے اور بعض اوقات اسے اپنی ملکیت سمجھتے ہوئے اس کے معاملات پر قابو پانے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جنونی محبت کی بیماری کو الگ سے کوئی باقاعدہ طبی یا نفسیاتی تشخیص نہیں سمجھا جاتا، تاہم یہ بعض دیگر ذہنی صحت کے مسائل کے ساتھ ظاہر ہو سکتی ہے۔ اگر آپ کو اپنے اندر یا کسی قریبی شخص میں اس کیفیت کی علامات محسوس ہوں تو ڈاکٹر یا ذہنی صحت کے ماہر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ مناسب علاج علامات کم کرنے کے ساتھ ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو روکنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
جنونی محبت کی علامات کیا ہیں؟
اس کیفیت کی ممکنہ علامات میں شامل ہیں:
- کسی ایک شخص کی جانب حد سے زیادہ کشش محسوس ہونا۔
- ہر وقت اسی شخص کے بارے میں سوچتے رہنا۔
- جس شخص سے محبت کا دعویٰ ہو، اسے مسلسل ’’محفوظ‘‘ رکھنے کی ضرورت محسوس کرنا۔
- اس شخص کو اپنی ملکیت سمجھنے جیسے خیالات اور رویے۔
- دوسرے لوگوں کے ساتھ اس شخص کے تعلقات پر شدید حسد کرنا۔
- خود اعتمادی میں کمی۔
جنونی محبت میں مبتلا افراد اکثر مسترد کیے جانے کو آسانی سے قبول نہیں کر پاتے۔ بعض صورتوں میں تعلق ختم ہونے یا دوسرے شخص کی جانب سے محبت مسترد کیے جانے کے بعد علامات مزید شدید ہو سکتی ہیں۔
دیگر ممکنہ علامات میں شامل ہیں:
- بار بار ٹیکسٹ پیغامات، ای میلز یا فون کالز کرنا۔
- دوسرے شخص سے مسلسل یقین دہانی حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کرنا۔
- ایک شخص کے بارے میں جنونی سوچ کے باعث دوستی برقرار رکھنے یا خاندان سے رابطہ رکھنے میں دشواری۔
- دوسرے شخص کی سرگرمیوں اور معمولات پر نظر رکھنا۔
- یہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرنا کہ دوسرا شخص کہاں جائے اور کون سی سرگرمیاں انجام دے۔
جنونی محبت کی کیفیت کیوں پیدا ہوتی ہے؟
اس کیفیت کی کوئی ایک متعین وجہ نہیں ہے۔ بعض اوقات یہ ذہنی صحت کے دیگر مسائل یا جذباتی وابستگی سے متعلق مشکلات کے ساتھ منسلک ہو سکتی ہے۔
وابستگی سے متعلق عوارض
اس گروہ میں ایسے مسائل شامل ہیں جن میں انسان کو جذباتی وابستگی قائم کرنے میں دشواری ہوتی ہے، مثلاً ہمدردی کی کمی یا کسی دوسرے شخص کے ساتھ غیر معمولی وابستگی۔
وابستگی سے متعلق عوارض میں ’ڈس انہیبٹڈ سوشل انگیجمنٹ ڈس آرڈر‘ (DSED) اور ’ری ایکٹو اٹیچمنٹ ڈس آرڈر‘ (RAD) شامل ہیں۔ یہ دونوں عموماً بچپن میں والدین یا دیگر بالغ نگہداشت کرنے والوں کے ساتھ منفی تجربات کے نتیجے میں پیدا ہو سکتے ہیں۔
DSED میں انسان اجنبی لوگوں کے ساتھ حد سے زیادہ بے تکلف ہو سکتا ہے اور ان سے تعلق قائم کرتے وقت ضروری احتیاط نہیں کرتا، جبکہRADمیں دوسروں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں ذہنی دباؤ اور مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
بارڈر لائن پرسنالٹی ڈس آرڈر
بارڈر لائن پرسنالٹی ڈس آرڈر ایک ذہنی صحت کی کیفیت ہے جس میں خود کے بارے میں تصور میں عدم استحکام اور مزاج میں شدید اتار چڑھاؤ پایا جا سکتا ہے۔ انسان چند منٹوں یا گھنٹوں کے اندر انتہائی غصے سے شدید خوشی کی کیفیت میں جا سکتا ہے۔
اضطراب اور افسردگی کی کیفیات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ جنونی محبت کے تناظر میں شخصیت سے متعلق یہ مسائل کسی شخص کے لیے انتہائی شدید محبت سے اچانک شدید نفرت یا بیزاری کی طرف منتقلی کا باعث بن سکتے ہیں۔
وہم پر مبنی حسد
وہم پر مبنی حسد میں انسان ایسے خیالات پر اصرار کرتا ہے جو حقیقت میں غلط ثابت ہو چکے ہوں۔ جنونی محبت کی صورت میں یہ کیفیت کسی شخص کو یہ یقین دلا سکتی ہے کہ دوسرا فرد بھی اس سے محبت کرتا ہے، حالانکہ دوسرا شخص واضح طور پر اس کی تردید کر چکا ہو۔
ایروٹومینیا
ایروٹومینیا وہ کیفیت ہے جس میں انسان کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ کوئی مشہور یا سماجی طور پر زیادہ بااثر شخص اس سے محبت کرتا ہے۔ یہ یقین بعض اوقات دوسرے شخص کو ہراساں کرنے کا باعث بن سکتا ہے، مثلاً اس کے گھر یا دفتر پہنچ جانا۔
ایسے افراد اکثر سماجی طور پر الگ تھلگ ہوتے ہیں، ان کے دوست کم ہو سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں وہ بے روزگار بھی ہوتے ہیں۔
جنونی وسواسی عارضہ (OCD)
جنونی وسواسی عارضہ(OCD)میں بار بار آنے والے جنونی خیالات اور ان خیالات کے جواب میں دہرائے جانے والے مجبوری کے رویے شامل ہوتے ہیں۔ اگر یہ علامات شدید ہوں تو روزمرہ زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
OCD میں مسلسل یقین دہانی حاصل کرنے کی ضرورت بھی پیدا ہو سکتی ہے، جو تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بعض افراد میں تعلقات سے متعلق وسوسے اور مجبوری کے رویے نمایاں ہوتے ہیں، اگرچہ ’’ریلیشن شپ OCD‘‘ کوOCDکی باضابطہ الگ قسم تسلیم نہیں کیا گیا۔
جنونی حسد
وہم پر مبنی حسد کے برعکس جنونی حسد میں انسان کے خیالات لازماً وہمی نہیں ہوتے، بلکہ اسے اپنے ساتھی کی ممکنہ بے وفائی کے بارے میں مسلسل تشویش لاحق رہتی ہے۔ یہ تشویش بار بار دہرائے جانے والے اور مجبوری پر مبنی رویوں کا سبب بن سکتی ہے، جوOCDسے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور شدید ذہنی پریشانی یا روزمرہ زندگی میں خلل پیدا کر سکتے ہیں۔
جنونی محبت کی بیماری کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
اس کیفیت کا جائزہ عموماً ماہرِ نفسیات یا ذہنی صحت کے کسی دوسرے ماہر کی جانب سے تفصیلی گفتگو اور معائنے کے ذریعے لیا جاتا ہے۔ ماہر آپ سے علامات، تعلقات، خاندانی پس منظر اور خاندان میں کسی معلوم ذہنی بیماری کے بارے میں سوالات کر سکتا ہے۔
بعض اوقات بنیادی ڈاکٹر کی جانب سے طبی معائنہ بھی ضروری ہو سکتا ہے تاکہ علامات کی دیگر ممکنہ وجوہات کو خارج کیا جا سکے۔
چونکہ جنونی محبت کی کیفیت ذہنی صحت کے کئی دیگر مسائل سے جڑی ہو سکتی ہے، اس لیے اسے امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے Diagnostic and Statistical Manual of Mental Disorders (DSM) میں ایک الگ باضابطہ تشخیص کے طور پر شامل نہیں کیا گیا۔
دستیاب تحقیق کے مطابق یہ کیفیت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں نسبتاً زیادہ دیکھی گئی ہے۔
جنونی محبت کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
علاج کا درست طریقہ اس بنیادی وجہ پر منحصر ہوتا ہے جو علامات کا سبب بن رہی ہو۔ تاہم بعض صورتوں میں علاج میں ادویات اور نفسیاتی تھراپی دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔
ادویات دماغ میں موجود کیمیائی مادوں کے توازن کو متاثر کرکے علامات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ڈاکٹر مریض کی صورتحال کے مطابق اضطراب کم کرنے والی ادویات، اینٹی ڈپریسنٹس، اینٹی سائیکوٹکس یا موڈ اسٹیبلائزرز تجویز کر سکتا ہے۔
دوا کے اثرات ظاہر ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں اور بعض افراد کو مناسب دوا تلاش کرنے کے لیے مختلف علاج آزمانے پڑ سکتے ہیں۔ کسی بھی دوا کے ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
نفسیاتی تھراپی
تھراپی جنونی محبت سے متعلق مسائل کی مختلف صورتوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ بعض حالات میں خاندان کے افراد کو بھی تھراپی کے عمل میں شامل کرنا مفید ہوتا ہے، خصوصاً جب مسئلہ بچپن کے جذباتی تجربات یا تعلقات سے جڑا ہو۔
مسئلے کی شدت اور فرد کی ضروریات کے مطابق انفرادی یا گروپ تھراپی اختیار کی جا سکتی ہے۔ بعض اوقات ماہرِ نفسیات دونوں طریقوں کو یکجا کرنے کی تجویز بھی دے سکتا ہے۔
ممکنہ تھراپی میں شامل ہیں:
- علمی رویہ جاتی تھراپی (Cognitive Behavioral Therapy)
- ڈائلیکٹیکل بیہیویئر تھراپی
- بچوں کے لیے پلے تھراپی
- ٹاک تھراپی
جنونی محبت میں مبتلا شخص کے لیے مستقبل کیسا ہو سکتا ہے؟
اگرچہ جنونی محبت کی کیفیت پر اب پہلے سے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، تاہم اسے نسبتاً نایاب سمجھا جاتا ہے۔ دستیاب اندازوں کے مطابق ایک فیصد کے دسویں حصے سے بھی کم افراد میں یہ کیفیت پائی جاتی ہے۔
اگر آپ یا آپ کا کوئی قریبی شخص جنونی محبت کی ممکنہ علامات کا سامنا کر رہا ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر ضرورت کے مطابق ماہرِ نفسیات سے رابطے کی تجویز دے سکتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ علامات واقعی اسی کیفیت سے متعلق ہیں یا کسی دوسرے ذہنی صحت کے مسئلے کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں۔
مناسب تشخیص اور علاج کے بعد نتائج مثبت ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر علامات میں بہتری محسوس ہونے لگے تب بھی علاج یا تھراپی کو اچانک بند نہیں کرنا چاہیے۔ علاج اچانک روکنے سے علامات دوبارہ ظاہر یا مزید شدید ہو سکتی ہیں۔
یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے اور کسی فرد کی طبی یا نفسیاتی تشخیص کا متبادل نہیں۔ ذہنی صحت کی علامات کی صورت میں مستند ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے براہِ راست مشورہ کریں۔
"`

