تل ابیب — اسرائیل کے صدر اضحاک ہرزوگ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تنازعات کے سفارتی حل پر یقین رکھتے ہیں، تاہم ایران کے خلاف امریکہ کی حالیہ عسکری کارروائیوں کو”واضح اور مضبوط جواب”قرار دیتے ہوئے ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
العربیہ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اسرائیلی صدر نے کہا کہ خطے میں حالیہ پیش رفت ان کے لیے حیران کن نہیں، کیونکہ ان کے بقول ایران معاہدوں کی خلاف ورزی کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے اور خطے میں اپنی پراکسی تنظیموں کے ذریعے اثرورسوخ بڑھاتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کئی برسوں سے ایران کے رویے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا آیا ہے اور حالیہ واقعات بھی انہی خدشات کی عکاسی کرتے ہیں۔
سفارت کاری ہی بہترین راستہ
ایک سوال کے جواب میں اضحاک ہرزوگ نے کہا کہ وہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کو ہی بہترین راستہ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا،”میں سفارتی حل پر یقین رکھتا ہوں اور میرا خیال ہے کہ یہی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ یہی اسرائیل کا بھی واضح مؤقف ہے۔”اسرائیلی صدر نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل مذاکرات کی حمایت کرتا ہے، لیکن ایران کے طرزِ عمل پر اس کے تحفظات برقرار ہیں، اسی لیے وہ ایران کے خلاف امریکہ کے ردعمل کو درست قرار دیتے ہیں۔
ایران کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا
ہرزوگ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کو ایک مضبوط اور واضح پیغام دیا ہے، جس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ایران اپنی مرضی کے مطابق غیر ذمہ دارانہ اقدامات نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران جنگ اور کشیدگی سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے اپنی موجودہ پالیسی ترک کرنا ہوگی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا۔
مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں
اسرائیلی صدر نے اس سوال پر کہ آیا موجودہ جنگ ایک تزویراتی ناکامی ہے، براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی کوششیں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں، تاہم وہ سابقہ مذاکرات کا حصہ نہیں تھے، اس لیے ان مذاکرات کے نتائج یا نوعیت پر کوئی حتمی رائے نہیں دینا چاہتے۔
جوہری پروگرام پر سخت مؤقف
ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے بارے میں اضحاک ہرزوگ نے کہا کہ مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔
ان کے مطابق ایسا معاہدہ ضروری ہے تاکہ ایران بین الاقوامی برادری کو جوہری پروگرام کے ذریعے”بلیک میل”نہ کر سکے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کو بھی عالمی برادری پر دباؤ ڈالنے اور بلیک میلنگ کی ایک شکل قرار دیا۔
سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے خواہاں
علاقائی سفارت کاری پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی صدر نے کہا کہ اسرائیل مزید عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے، جن میں سعودی عرب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی معمول کے تعلقات(Normalization)کا معاہدہ متعلقہ ملک اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست ہونا چاہیے، اگرچہ امریکہ اس عمل کی حمایت کر سکتا ہے۔
ہرزوگ نے متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے ساتھ ابراہم معاہدوں کے تحت قائم ہونے والے سفارتی تعلقات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب مسلم دنیا کا ایک اہم اور بااثر ملک ہے، اس لیے اس کے ساتھ تعلقات کا قیام اسرائیل کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
ٹیگز:اضحاک ہرزوگ,اسرائیل,ایران,امریکہ,اسرائیل ایران کشیدگی,سفارت کاری,امریکی حملے,ڈونلڈ ٹرمپ,جوہری معاہدہ,ایرانی جوہری پروگرام,آبنائے ہرمز,عرب اسرائیل تعلقات,سعودی عرب,ابراہم معاہدہ,متحدہ عرب امارات,بحرین,مراکش,مشرق وسطیٰ,العربیہ,اسرائیلی صدر,ایران امریکہ تعلقات,خطے کی کشیدگی,اسرائیل سعودی تعلقات

