7 اکتوبر کے تین سال بعد:مائیک فیگل مین کا پیغام، ’’خاموشی کوئی حکمتِ عملی نہیں‘‘
ہونسٹ رپورٹنگ کینیڈا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مطابق حماس کے حملوں کے بعد تنظیم کے کام میں دو سے تین گنا اضافہ ہوا، جبکہ اسرائیل اور یہودیوں کے بارے میں میڈیا بیانیے کی جنگ مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔
ہونسٹ رپورٹنگ کینیڈا کے سربراہ مائیک فیگل مین کا کہنا ہے کہ7اکتوبر2023کے حملوں کے بعد اسرائیل اور یہودیوں کی میڈیا میں نمائندگی سے متعلق تنازعات زیادہ شدید ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق تنظیم کا کام پہلے کے مقابلے میں دو سے تین گنا بڑھ گیا ہے۔ وہ صحافتی رپورٹنگ میں درستگی، سیاق و سباق اور غیر جانب دارانہ جانچ پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ غلط یا مسخ شدہ بیانیوں کو بار بار دہرانے سے انہیں معمول کی حقیقت بننے نہیں دینا چاہیے۔
7 اکتوبر کی صبح جس نے کام کا رخ بدل دیا
مائیک فیگل مین، جو ہونسٹ رپورٹنگ کینیڈا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، نے حال ہی میں اس بات پر اظہارِ خیال کیا ہے کہ7اکتوبر2023کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد ان کی تنظیم کے کام کی نوعیت کس طرح بدل گئی اور ان کے خیال میں اسرائیل اور یہودیوں کی میڈیا میں نمائندگی پر جاری کشمکش کیوں زیادہ شدت اختیار کرگئی ہے۔ ان کے یہ خیالات لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں سامنے آئے، جس میں انہوں نے البرٹا جیوش نیوز کی جانب سے تنظیم کے کام پر شائع ہونے والی ایک پروفائل کا ذکر کیا۔
فیگل مین نے لکھا کہ بیس برس سے زیادہ عرصے تک وہ شبّات کے دن کام سے دور رہنے کا اہتمام کرتے رہے تھے۔ لیکن7اکتوبر2023کو جب وہ عبادت گاہ پہنچے تو انہوں نے اپنے ایک قریبی دوست کو ایک کونے میں بیٹھے روتے ہوئے دیکھا۔ اسرائیل میں حماس کے حملوں کے بارے میں جاننے کے بعد انہوں نے اپنے ربی سے کہا کہ ان کے خیال میں انہیں وہاں سے جانا ہوگا۔ فیگل مین کے مطابق ربی کا جواب مختصر اور واضح تھا: ’’جاؤ۔‘‘
اس کے بعد اگلے72گھنٹوں تک ان کی ٹیم نے تقریباً مسلسل کام کیا۔ مقصد کینیڈین صحافیوں کو ایسے اسرائیلی شہریوں سے رابطہ کروانا تھا جو اپنے مشاہدات اور تجربات بیان کرسکتے تھے۔ فیگل مین کے مطابق انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کے کام کی نوعیت بدل چکی ہے، اگرچہ اس وقت وہ اس تبدیلی کی وسعت کا مکمل اندازہ نہیں کرسکتے تھے۔
تین سال بعد ان کا کہنا ہے کہ تنظیم کے کام کا حجم دو سے تین گنا بڑھ چکا ہے، ان کی برادری وسیع ہوئی ہے اور اسرائیل و یہودیوں کی میڈیا میں نمائندگی کے حوالے سے کشمکش مزید شدید ہوگئی ہے۔
اہم اعداد و شمار
یہ اعداد فیگل مین کے بیان اور فراہم کردہ رپورٹ میں منسوب معلومات پر مبنی ہیں؛ انہیں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اعداد و شمار نہ سمجھا جائے۔
فیگل مین کی پوسٹ میں80ہزار سے زیادہ کینیڈین افراد پر مشتمل برادری کا ذکر ہے، جبکہ ہونسٹ رپورٹنگ کینیڈا کے اپنے تعارفی مواد میں45ہزار سے زیادہ ارکان کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ دونوں اعداد مختلف پیمانوں کی نمائندگی کرتے ہوں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ان میں سے کسی عدد کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے انہیں ایک ہی نوعیت کی رکنیت یا آبادی کا براہِ راست تقابل نہیں سمجھنا چاہیے۔
میڈیا کے بیانیے نیوز روم تک محدود نہیں رہتے
فیگل مین کے مطابق اصل مسئلہ اس سے کہیں وسیع ہے کہ کوئی خبر کس انداز میں شائع ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غلط یا مسخ شدہ بیانیے میڈیا تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اداروں، سیاست اور سماجی تحریکوں کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں۔ اس طرح وہ عوامی رائے کی تشکیل کرتے ہیں اور اس بات پر اثرانداز ہوتے ہیں کہ معاشرے کن رویوں اور تصورات کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔
’’وہ نفرت جو روایتی طور پر ہمارے معاشرے کے حاشیوں تک محدود تھی، اب مرکزی دھارے میں جگہ بنانے کے لیے بھرپور کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔‘‘
مائیک فیگل مین سے منسوب بیان، البرٹا جیوش نیوز کی پروفائل کے حوالے سے
فیگل مین کے نزدیک یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ میڈیا میں پیش کیے جانے والے خیالات اور بیانیے وقت کے ساتھ دوسرے اداروں اور سیاسی و سماجی مباحث میں بھی جگہ بناسکتے ہیں۔ اس طرح کسی گروہ، ملک یا تنازعے کے بارے میں عوامی تاثر محض خبروں سے آگے بڑھ کر اجتماعی رویوں پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
بیانیے کے پھیلاؤ کا تصوراتی خاکہ
فیگل مین کے بیان کردہ خدشے کی وضاحت کے لیے درج ذیل خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ کسی مخصوص خبر یا ادارے کے اثرات کی مقداری پیمائش نہیں ہے۔
اسرائیل پر تنقید اور اس کی ساکھ کو مسترد کرنے میں فرق
فیگل مین نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض اسرائیل پر تنقید کیے جانے پر نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل پر تنقید ہونی چاہیے اور جائز تنقید صحت مند عمل ہے۔ ان کی تشویش اس وقت شروع ہوتی ہے جب تنقید کسی ملک کی قانونی یا اخلاقی حیثیت کو مکمل طور پر مسترد کرنے، اسے شیطانی کردار میں پیش کرنے یا دوہرے معیار پر مبنی رویے میں تبدیل ہوجائے۔
ان کے مطابق مسئلہ اس وقت بھی پیدا ہوتا ہے جب خبر سے ضروری پس منظر اور سیاق و سباق غائب ہوجائے، نظریاتی کارکنوں کو غیر جانب دار ماہرین کے طور پر پیش کیا جائے، یا صحافی ان کے سامنے رکھے گئے بیانیوں پر سنجیدہ سوالات اٹھانا چھوڑ دیں۔
فیگل مین نے کینیڈا کے بعض نیوز اداروں، بالخصوص سی بی سی(CBC)، کے بارے میں بھی اپنی تنقید میں شدت پیدا کی ہے۔ تاہم، فراہم کردہ رپورٹ میں سی بی سی کی کوریج کا آزادانہ تجزیہ نہیں کیا گیا، اس لیے فیگل مین کے اعتراضات کو اس خبر میں کسی آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جارہا۔
- حکومتی پالیسیوں پر سوالات
- شواہد اور حقائق کی جانچ
- متعدد نقطۂ نظر کی نمائندگی
- سیاق و سباق کی وضاحت
- سیاق و سباق کا غائب ہونا
- دوہرے معیار کا استعمال
- کسی فریق کو شیطانی کردار میں پیش کرنا
- غیر جانبدارانہ جانچ کے بغیر بیانیے قبول کرنا
فیگل مین کے مطابق صحافی حکومتوں، کمپنیوں، جامعات، پولیس اداروں اور سیاسی تحریکوں کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا اداروں کو بھی اسی طرح کے سوالات اور احتساب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ تاہم، ان کے نزدیک احتساب اور تنقیدی جانچ کا مطلب لازماً دشمنی یا مخاصمت نہیں ہوتا۔
صحافتی جانچ پڑتال:چار بنیادی اصول
درستگی
سیاق و سباق
انصاف
احتساب
یہ اصول اس رپورٹ میں بیان کردہ صحافتی معیار کی وضاحتی پیش کش ہیں، کسی ادارے کی کارکردگی کا اسکور نہیں۔
اصلاح سے پہلے مکالمہ اور صحافیوں کی تعلیم
فیگل مین کے مطابق ان کی تنظیم کے کام کا بڑا حصہ صحافیوں اور ایڈیٹرز کے ساتھ براہِ راست رابطے اور مکالمے پر مشتمل ہے۔ بعض اوقات فریقین اتفاق کرتے ہیں، بعض اوقات اختلاف کے باوجود اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہیں، جبکہ بعض معاملات میں اصلاحات بھی کی جاتی ہیں۔
انہوں نے البرٹا جیوش نیوز سے گفتگو کے حوالے سے کہا: ’’میں کسی صحافی کو تعلیم دینا اور خراب میڈیا کوریج کو وقوع پذیر ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا، بعد میں اس کی اصلاح کرنے سے زیادہ پسند کروں گا۔‘‘
ان کے مطابق یہی ان کی تنظیم کا بنیادی مقصد ہے:درستگی اور سیاق و سباق کا مطالبہ کرنا، ضرورت پڑنے پر ریکارڈ کی اصلاح کرنا، اچھی صحافت کو تسلیم کرنا اور اسرائیل و یہودیوں کے بارے میں مسخ شدہ بیانیوں کو محض بار بار دہرائے جانے کی وجہ سے عام طور پر تسلیم شدہ حقیقت بننے سے روکنا۔
ہونسٹ رپورٹنگ کینیڈا اپنے کام کو کیسے بیان کرتی ہے؟
تنظیم کے تعارف کے مطابق اس کے کام کے اہم شعبے درج ذیل ہیں۔
کینیڈین پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی رپورٹنگ کا جائزہ لینا۔
تنظیم کے مطابق معیاری اور ذمہ دارانہ صحافت کو سراہنا۔
درستگی، پس منظر، انصاف اور غیر جانب داری میں مبینہ خامیوں کو سامنے لانا۔
صحافیوں اور ایڈیٹرز کے ساتھ براہِ راست رابطے کے ذریعے مسائل اٹھانا۔
ہونسٹ رپورٹنگ کینیڈا خود کو ایک آزاد، نچلی سطح سے ابھرنے والی تنظیم قرار دیتی ہے جو کینیڈین میڈیا میں اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کی کوریج میں انصاف اور درستگی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ تنظیم کے مطابق اس کے ارکان میڈیا کی نگرانی کرتے، عمدہ صحافت کو سراہتے اور غلطیوں و تعصب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ جمہوریت، آزادی اور قانون کی حکمرانی سمیت کینیڈین اقدار اور اعلیٰ صحافتی معیار کی حمایت کا دعویٰ کرتی ہے۔
تنظیم کا نعرہ ہے: ’’اسرائیل کے بارے میں کینیڈین میڈیا کی منصفانہ اور درست کوریج کو یقینی بنانا۔‘‘
’’خاموشی کوئی حکمتِ عملی نہیں‘‘
فیگل مین کے مطابق البرٹا جیوش نیوز کی پروفائل کا اختتام ایک ایسے نکتے پر ہوتا ہے جو موجودہ حالات میں ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے بقول: ’’فطری طور پر خوف موجود ہے۔ بولنے پر نتائج بھگتنے کا خوف بھی ہے۔ لیکن ہمیں اس کے خلاف بھرپور انداز میں آواز اٹھانی چاہیے۔‘‘
فیگل مین کہتے ہیں کہ وہ اس خوف کو سمجھتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک خاموش رہنا کوئی حکمتِ عملی نہیں ہے۔ ان کے مطابق جب ہونسٹ رپورٹنگ کینیڈا نے بیس برس سے زیادہ عرصہ قبل اپنا کام شروع کیا تھا، تب بھی یہ بات درست تھی، لیکن آج اس کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
مائیک فیگل مین کے نزدیک آگے کا راستہ
فیگل مین کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کا مقصد حقائق کی درستگی اور ضروری سیاق و سباق کا مطالبہ کرنا، ضرورت پڑنے پر غلط معلومات یا غلط تاثر کی اصلاح کرنا، اچھی صحافت کو تسلیم کرنا اور اسرائیل و یہودیوں کے بارے میں مسخ شدہ بیانیوں کو بار بار دہرائے جانے کے باعث عام فہم حقیقت کا درجہ حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
ان کے مطابق میڈیا میں کسی معاملے کی غیر منصفانہ یا نامکمل نمائندگی کے اثرات نیوز روم تک محدود نہیں رہتے۔ اسی لیے وہ صحافیوں سے براہِ راست مکالمے، اصلاح کی کوششوں اور مسلسل جانچ پڑتال کو اہم سمجھتے ہیں۔
ان کا پیغام یہ ہے کہ اختلاف، تنقید اور احتساب جمہوری معاشروں کا حصہ ہیں، لیکن صحافت میں درستگی، مکمل پس منظر اور منصفانہ معیار کی اہمیت برقرار رہنی چاہیے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بیانیے کو محض اس لیے تسلیم نہیں کرلینا چاہیے کہ اسے بار بار دہرایا جارہا ہے۔
مائیک فیگل مین کے بارے میں
مائیک فیگل مین ہونسٹ رپورٹنگ کینیڈا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ وہ اپنے تعارف میں محنت، قربانی، ٹیم ورک، مقصد کے حصول کے لیے ثابت قدمی اور مثبت سوچ کو اپنی پیشہ ورانہ ترجیحات قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق وہ نئے خیالات کو عملی شکل دینے، منصوبوں کو ابتدا سے تکمیل تک پہنچانے اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنے کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے پیشہ ورانہ شعبوں میں عوامی، حکومتی اور میڈیا تعلقات، پریس ریلیز، بحران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی، تقریروں کی تیاری، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، میڈیا ٹریننگ، رائے و تجزیے کی تحریریں، میڈیا نگرانی، ادارہ جاتی ساکھ اور فنڈ ریزنگ شامل ہیں۔

