ٹرمپ کا وینزویلا کے ساتھ ’’دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘‘ کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز وینزویلا کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کا اعلان کیا ہے جسے انہوں نے ’’دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘‘ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا نے وینزویلا میں موجود65ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ملک کی عبوری حکومت اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ ان کی ہدایات پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے طے کیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے پر امریکی ٹیکس دہندگان کو کوئی مالی بوجھ نہیں اٹھانا پڑے گا اور اس کے نتیجے میں امریکا کے تیل کے ذخائر دوگنا سے بھی زیادہ ہو جائیں گے، تیل کی فراہمی میں اضافہ ہوگا اور امریکی شہریوں کے لیے مستقبل میں طویل عرصے تک پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ امریکی تیل کے ذخائر کو دوگنا سے بھی زیادہ کر دے گا، تیل کی مجموعی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوگا اور تمام امریکیوں کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی لانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ وینزویلا کو ’’زبردست کامیابی اور عظیم خوشحالی‘‘ کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد دے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بھی مضبوط بنائے گا۔
وینزویلا کی عبوری حکومت کی تصدیق
وینزویلا کی عبوری حکومت نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے تحت 17 اہم تیل کے ذخائر اور فیلڈز کی ترقی اور پیداوار سے متعلق منصوبوں پر کام کیا جائے گا، جن میں مجموعی طور پر تقریباً65ارب بیرل ثابت شدہ تیل کی صلاحیت موجود ہے۔
حکام کے مطابق اس معاہدے سے نجی شعبے کی جانب سے 100 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری متوقع ہے جبکہ وینزویلا کی ریاست کو ٹیکسوں کی مد میں 209 ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے معاہدے کو ایک ’’تاریخی سنگِ میل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کے آپریٹرز کی شمولیت سے تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
مارکو روبیو کا ردعمل
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس انتظام کو امریکی اور وینزویلا کے عوام دونوں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
روبیو کے مطابق یہ معاہدہ امریکا کے لیے مستحکم اور کم قیمت تیل کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد دے گا، جبکہ وینزویلا کو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، بہتر معاوضوں والی ملازمتیں اور معاشی بحالی کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔
معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں
تاہم معاہدے کے عملی اور قانونی ڈھانچے سے متعلق مکمل تفصیلات تاحال محدود ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس میں امریکا یا امریکی مفادات رکھنے والے اداروں کو ایکویٹی حصص اور امریکا کے لیے لاگت کی بنیاد پر خام تیل کی یقینی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔
بعض اطلاعات کے مطابق معاہدے کے کچھ پہلو امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے آفس آف اسٹریٹیجک کیپیٹل کی نگرانی میں بھی آ سکتے ہیں۔
وینزویلا کے مجموعی ثابت شدہ تیل ذخائر کا تخمینہ تقریباً300ارب بیرل لگایا جاتا ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، تاہم سرمایہ کاری کی کمی اور ماضی کی پابندیوں کے باعث ملک کی تیل کی پیداوار طویل عرصے سے محدود رہی ہے۔
ایران تنازع اور عالمی توانائی بحران کے پس منظر میں اعلان
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران سے جاری تنازع کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
وینزویلا کے ساتھ اس معاہدے کو امریکا کی جانب سے وینزویلا کے خام تیل تک رسائی بڑھانے کی سابقہ کوششوں کے تسلسل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جو رواں سال کے آغاز میں سابق صدر نکولس مادورو کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد مزید تیز ہوئیں۔
تاہم معاہدے کی مکمل تجارتی شرائط اور اس میں شامل مخصوص نجی کمپنیوں کے نام ابھی تک سرکاری طور پر ظاہر نہیں کیے گئے۔
اگر معاہدہ اعلان کردہ شرائط کے مطابق عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ امریکا اور وینزویلا کے توانائی تعلقات میں ایک غیر معمولی پیش رفت اور عالمی تیل کی منڈی کے لیے ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔

