عالمی معیشت
امریکی قومی قرض پہلی بار40ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا
واشنگٹن،19اگست 2026
"`
واشنگٹن،19اگست 2026 — امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ کا قومی قرض تاریخ میں پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر کی حد عبور کر گیا ہے۔
18 اگست تک امریکہ کا مجموعی بقایا قومی قرض بالکل
40,047,425,768,420.22 ڈالر
ہو چکا تھا۔ اس میں سے عوام کے پاس موجود قرض تقریباً 32.27 ٹریلین ڈالر تھا، جبکہ حکومتی اداروں کے باہمی قرض، یعنی وہ رقم جو حکومت بنیادی طور پر ٹرسٹ فنڈز کے ذریعے خود اپنی ہی مقروض ہے، تقریباً 7.78 ٹریلین ڈالر بنتی ہے۔
قرض میں تیزی سے اضافہ
یہ تاریخی سنگِ میل مارچ2026میں قومی قرض کے 39 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرنے کے صرف پانچ ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ ایک دہائی قبل امریکہ کا قومی قرض تقریباً 19.4 ٹریلین ڈالر تھا۔ یوں دس سال سے بھی کم عرصے میں یہ رقم دوگنی سے زیادہ ہو چکی ہے۔
امریکہ کا قومی قرض2022کے اوائل میں 30 ٹریلین ڈالر کی حد سے تجاوز کر گیا تھا۔ حالیہ اضافے کے پیچھے کئی برسوں سے جاری بڑے بجٹ خسارے کارفرما ہیں، جن میں وبائی دور کے مالی محرکات، سوشل سکیورٹی اور میڈی کیئر کے بڑھتے اخراجات، دفاعی بجٹ میں اضافہ، ایران سے متعلق جاری فوجی کارروائیوں کے اخراجات، ٹیکسوں میں کمی اور موجودہ قرض پر بڑھتے ہوئے سود کی ادائیگیاں شامل ہیں۔
صرف جولائی میں وفاقی حکومت کو 432.3 ارب ڈالر کے ماہانہ بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جو پانچ سال سے زائد عرصے میں سب سے بڑا ماہانہ خسارہ ہے۔ مالی سال2026کے آغاز سے اب تک بجٹ خسارہ تقریباً 1.8 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے والا ہے، جبکہ اندازے بتاتے ہیں کہ پورے مالی سال کا خسارہ 2 ٹریلین ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
سود کی ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ
قومی قرض پر سود کی ادائیگیاں امریکی وفاقی بجٹ کے سب سے بڑے اخراجاتی شعبوں میں شامل ہو گئی ہیں۔ بعض ماہانہ اور سال بہ سال کے اعداد و شمار میں یہ اخراجات حال ہی میں دفاعی بجٹ سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔ قرض کے حجم اور شرحِ سود، دونوں میں اضافے کے باعث خالص سودی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
ردِعمل اور پس منظر
مالیاتی معاملات پر نظر رکھنے والے اداروں نے40ٹریلین ڈالر کی حد عبور کرنے کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ پیٹر جی پیٹرسن فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو مائیکل اے پیٹرسن نے نشاندہی کی کہ امریکی قومی قرض ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں دوگنا ہو چکا ہے اور انہوں نے مالیاتی پالیسی کا رخ تبدیل کرنے پر زور دیا۔
کمیٹی فار اے ریسپانسبل فیڈرل بجٹ کی مایا میک گینس نے اس رفتار کی جانب توجہ دلائی کہ امریکی قومی قرض کو ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچنے میں تقریباً200سال لگے، جبکہ گزشتہ چند دہائیوں میں اس میں غیر معمولی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
امریکی قومی قرض کی رفتار نے ایک بار پھر واشنگٹن کی طویل عرصے سے جاری مالیاتی بحث کو مرکزِ توجہ بنا دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حکومت فضول خرچی، دھوکہ دہی اور بدعنوانی میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ قومی قرض اور مجموعی ملکی پیداوار(GDP)کے تناسب کو بہتر بنایا جا سکے۔ عوام کے پاس موجود امریکی قومی قرض اب تقریباً امریکی معیشت کے مجموعی حجم کے برابر ہو چکا ہے۔
ماہرینِ اقتصادیات فوری خطرات کے حوالے سے منقسم ہیں۔ بعض ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بڑھتے ہوئے سودی اخراجات مزید قرض لینے کی ضرورت پیدا کر سکتے ہیں اور یوں ایک ممکنہ ’’تباہ کن چکر‘‘ جنم لے سکتا ہے۔ دوسری جانب بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ عالمی سطح پر بنیادی ریزرو کرنسی کی حیثیت سے امریکی ڈالر کی مضبوط پوزیشن امریکہ کو بلند قرض کے انتظام میں دیگر بیشتر ممالک کے مقابلے میں زیادہ گنجائش فراہم کرتی ہے۔
کانگریشنل بجٹ آفس نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر موجودہ پالیسیوں کے تحت بجٹ خسارے اسی رفتار سے جاری رہے تو2036تک امریکہ کا مجموعی قومی قرض تقریباً 63 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
40 ٹریلین ڈالر کا ہندسہ امریکہ کی طویل عرصے سے جاری مالیاتی بحث میں ایک اور علامتی سنگِ میل ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بحث میں مزید شدت آنے کا امکان ہے، کیونکہ امریکی قانون سازوں کو آئندہ بجٹ اور قرض کی حد سے متعلق اہم فیصلوں کا سامنا ہے۔
"`
عالمی معیشت • امریکہ • قومی قرض
"`

