ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ میں ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ(DSA)سے وابستہ امیدواروں کی بڑھتی ہوئی انتخابی کامیابیوں کے پیچھے انتہائی بائیں بازو کے امریکی سوشلسٹ حلقوں اور چین میں مقیم ایسے افراد کا کردار بڑھ رہا ہے جو مبینہ طور پر چینی کمیونسٹ پارٹی(CCP)کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔
ڈین ہارٹ کی نیوز رپورٹ کے مطابق امریکی جریدے”دی فری پریس”نے حال ہی میں ویڈیو پروڈیوسر ایرک ہوواگم کی پروفائل شائع کی، جس میں بتایا گیا کہ انہوں نے نیویارک کے میئر منتخب ہونے والے ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدوار زوہران ممدانی کی انتخابی مہم کی متعدد ویڈیوز کی تیاری اور ایڈیٹنگ میں حصہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق ایرک ہوواگم نے کیوبا کے دورے پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی تیار کی، جس میں سیاسی مبصر حسن پائیکر شامل تھے۔ ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر30لاکھ سے زائد فالوورز ہیں اور وہ خود کو جغرافیائی سیاسی امور کا مبصر قرار دیتے ہیں۔
دی فری پریس کے مطابق ہوواگم کے تبصرے اکثر سازشی نظریات، امریکہ مخالف بیانیے اور سیاسی تشدد کے جواز جیسے موضوعات پر مبنی ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے امریکہ کو”چوتھا رائخ”اور اسرائیل کو”انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ”قرار دیا، جبکہ ایلون مسک کو”جائز فوجی ہدف”بھی کہا۔ اسی طرح انہوں نے یونائیٹڈ ہیلتھ کیئر کے سی ای او برائن تھامسن کے قتل کے مقام کو”مقدس سرزمین”قرار دیا اور ملزم لوئیجی مانجیونے کے حق میں بھی بیانات دیے۔
رپورٹ کے مطابق ہوواگم زوہران ممدانی کی انتخابی کامیابی کے بعد شنگھائی منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ”سوشلزم کے ثمرات کو براہ راست محسوس کرنا چاہتے ہیں”۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سابق چینی رہنما ماؤ زے تنگ کی تصاویر کے ساتھ متعدد پوسٹس بھی موجود ہیں۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہوواگم چین میں ایغور مسلمانوں کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بڑے پیمانے پر حراست سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں”سی آئی اے کا پروپیگنڈا”قرار دیتے ہیں۔
اسی رپورٹ میں امریکی ارب پتی سرمایہ کار نیویل رائے سنگھم کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو اس وقت شنگھائی میں مقیم ہیں۔ نیٹ ورک کونٹیجن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(NCRI)کے شریک بانی جوئل فنکلسٹین کے مطابق سنگھم نے اپنی کمپنی تقریباً ایک ارب ڈالر میں فروخت کرنے کے بعد مبینہ طور پر چین سے قریبی روابط استوار کیے اور امریکہ میں مختلف غیر منافع بخش تنظیموں کو کروڑوں ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی۔
فنکلسٹین کا دعویٰ ہے کہ ان تنظیموں نے امریکہ میں ہونے والے متعدد احتجاجی مظاہروں میں اہم کردار ادا کیا، جن میں سڑکوں اور پلوں کی بندش، یونیورسٹی کیمپس پر احتجاج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تصادم جیسے واقعات شامل تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ این سی آر آئی نے سنگھم کے نیٹ ورک کو ایران، شمالی کوریا اور چین کی سنکیانگ اور تائیوان سے متعلق پالیسیوں کے حق میں مواد کی تشہیر سے بھی منسلک کیا ہے۔
برطانوی اخبار”دی ٹائمز”کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کے ایک درجن سے زائد سینئر اراکین نے عوامی جمہوریہ چین کی حمایت اور چینی سوشلزم کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ چینی حکام نے ڈی ایس اے کے اراکین کے لیے چین کے مطالعاتی دوروں کے انتظامات بھی کیے۔ گزشتہ سال چین جانے والے پانچ رکنی وفد کو مبینہ طور پر صوبہ گوئیژو کے دفتر برائے خارجہ امور نے منظم کیا تھا۔
اسی وفد میں شامل ڈی ایس اے رکن ڈی نائٹ نے دورے کے بعد لکھا کہ چینی حکام نے انہیں”وی آئی پی”مہمانوں کی طرح خوش آمدید کہا اور ان کی بھرپور میزبانی کی۔ انہوں نے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے حوالے سے مغربی میڈیا کی رپورٹس کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جبری مشقت کے الزامات کی تائید میں کوئی شواہد نہیں ملے۔
پورٹلینڈ اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر الیگزینڈر ریڈ راس نے دی ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ چین کی جانب سے ایسے دوروں کا مقصد مغربی دنیا میں چین کے بارے میں مثبت تاثر پیدا کرنا اور امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونا ہے۔ ان کے مطابق یہ سرگرمیاں اعلیٰ سطح پر منظم حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔

