"`html
روس۔یوکرین جنگ:میدانِ جنگ سے ابھرنے والے نئے عسکری حقائق

روس اور یوکرین کی جنگ نے جدید جنگ کے کئی پرانے تصورات بدل دیے ہیں۔ ڈرون، فضائی دفاع، انٹیلی جنس، رسد اور قومی دفاع کی صلاحیت اب میدانِ جنگ کے نتائج میں پہلے سے کہیں زیادہ فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔
روس اور یوکرین کی جنگ اب محض دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازع نہیں رہی۔ چار سال سے زیادہ عرصے پر محیط یہ جنگ اکیسویں صدی کی عسکری تاریخ کا ایک ایسا باب بن چکی ہے جس نے جدید جنگ، فضائی دفاع، ڈرون ٹیکنالوجی، توپ خانے، رسد، انٹیلی جنس اور قومی دفاع کے کئی پرانے تصورات بدل دیے ہیں۔
بطور دفاعی تجزیہ کار، میری نظر میں اس جنگ کو سمجھنے کے لیے جذبات سے زیادہ میدانِ جنگ کے حقائق کو دیکھنا ضروری ہے۔
پہلی حقیقت یہ ہے کہ روس اپنے ابتدائی سیاسی اور عسکری مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
فروری2022ء میں جب روس نے یوکرین پر وسیع پیمانے پر حملہ کیا تو اس کی ابتدائی عسکری حکمتِ عملی بظاہر ایک تیز رفتار مہم کے ذریعے کیف پر دباؤ ڈالنے، یوکرینی حکومت کو مفلوج کرنے اور ملک کی سیاسی سمت تبدیل کرنے پر مبنی تھی۔
ایسا نہیں ہوا۔
کیف قائم رہا، یوکرینی ریاست برقرار رہی، فوج نے مزاحمت جاری رکھی اور روس کو شمالی یوکرین سے اپنی افواج واپس نکالنا پڑیں۔
روس طاقتور ہے، مگر طاقت ہمیشہ فیصلہ کن نہیں ہوتی
روس کو کمزور فوجی طاقت سمجھنا ایک سنگین تجزیاتی غلطی ہوگی۔ روس کے پاس وسیع افرادی قوت، بڑی دفاعی صنعت، میزائلوں کا بھاری ذخیرہ، طویل فاصلے تک حملے کی صلاحیت، جوہری قوت اور کئی دہائیوں پر محیط عسکری تجربہ موجود ہے۔
اس کے باوجود جنگ نے ثابت کیا کہ صرف عددی برتری فتح کی ضمانت نہیں ہوتی۔
یوکرین نے محدود وسائل کے باوجود میدانِ جنگ میں لچکدار کمان، بہتر انٹیلی جنس، مغربی ٹیکنالوجی، درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں اور ڈرونز کے وسیع استعمال کے ذریعے روسی افواج کو بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا۔
2026ء میں بھی محاذ پر یہی کشمکش جاری ہے۔ روس نے جنوب مشرقی علاقوں میں بعض نئی پیش قدمیوں کے دعوے کیے ہیں، لیکن مجموعی طور پر اس کی زمینی پیش قدمی کی رفتار سست ہوئی ہے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے مطابق یوکرینی افواج نے رواں سال745مربع کلومیٹر مقبوضہ علاقہ دوبارہ حاصل کیا ہے۔ روس کے بعض علاقائی دعووں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ جنگ ابھی فیصلہ کن مرحلے تک نہیں پہنچی۔
یہ اب قبضے کی نہیں، تھکا دینے کی جنگ ہے
اس وقت میدانِ جنگ کی سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایسی جنگ میں صرف یہ اہم نہیں ہوتا کہ کس فوج نے کتنے کلومیٹر زمین حاصل کی۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کس کے پاس زیادہ تربیت یافتہ فوجی باقی رہیں گے، کس کے پاس توپ خانے کے گولے، میزائل اور ڈرون زیادہ دیر تک دستیاب رہیں گے، کس کا فضائی دفاع زیادہ مؤثر رہے گا، کس کی دفاعی صنعت تیزی سے نقصان کی تلافی کرسکے گی، اور سب سے بڑھ کر کس فریق کی سیاسی اور قومی قوتِ برداشت زیادہ دیر قائم رہے گی۔
اسی لیے موجودہ جنگ کو نقشے پر چند دیہات کے قبضے سے جانچنا گمراہ کن ہوگا۔
ڈرون نے جنگ کا حساب بدل دیا
اس جنگ کا شاید سب سے اہم عسکری سبق ڈرون کا کردار ہے۔
ماضی میں کسی ٹینک، توپ خانے یا فوجی گاڑی کو تباہ کرنے کے لیے نسبتاً مہنگے ہتھیار درکار ہوتے تھے۔ اب انتہائی کم قیمت چھوٹے ڈرون بھی لاکھوں ڈالر مالیت کے عسکری نظام کو ناکارہ بنا سکتے ہیں۔
ڈرون صرف حملے کے لیے استعمال نہیں ہو رہے۔ وہ دشمن کی نقل و حرکت دیکھتے ہیں، توپ خانے کو ہدف فراہم کرتے ہیں، بارودی سرنگوں کی نشاندہی کرتے ہیں، رسد کے راستوں کی نگرانی کرتے ہیں اور بعض صورتوں میں دشمن کے مورچوں کے اندر تک حملہ کرتے ہیں۔
یوکرین نے اس میدان میں خاص طور پر جدت دکھائی ہے۔ اب یوکرینی ڈرون روسی سرزمین کے بہت اندر موجود تیل صاف کرنے کے کارخانوں، فوجی رسد کے مراکز اور جنگی معیشت سے منسلک تنصیبات تک پہنچ رہے ہیں۔
اگر دشمن کی فوج کو محاذ پر روکنا مشکل ہو تو اس کی رسد، ایندھن، نقل و حمل، مرمت اور جنگی پیداوار کو پیچھے سے نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ یہ جنگ کا بنیادی اصول ہے۔
روس نے بھی اپنی غلطیوں سے سیکھا ہے
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ روسی فوج2022ء کی طرح ہی جنگ لڑ رہی ہے۔
روسی افواج نے ابتدائی ناکامیوں کے بعد اپنے طریقۂ جنگ میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ روس نے دفاعی مورچوں کو گہرا کیا، بارودی سرنگوں کا وسیع جال بچھایا، برقی جنگ کی صلاحیت بڑھائی، ڈرونز کے استعمال میں اضافہ کیا اور فضائی طاقت، خصوصاً دور سے داغے جانے والے گلائیڈ بموں کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا۔
روس نے اپنی جنگی صنعت کو بھی بڑے پیمانے پر متحرک کیا ہے۔
اسی لیے یہ تصور کہ روس محض چند مزید پابندیوں یا محدود فوجی نقصانات کے بعد اچانک جنگ جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے گا، حقیقت پسندانہ نہیں۔
یوکرین کے حامی ممالک کو روس کی قوت کو کم سمجھنے کے بجائے اس کا درست عسکری اندازہ لگانا ہوگا۔
فضائی دفاع یوکرین کی سب سے بڑی کمزوری بن سکتا ہے
زمین پر یوکرینی فوج روس کو روک سکتی ہے، لیکن شہروں کو بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں سے بچانا ایک مختلف چیلنج ہے۔
یوکرین نے حالیہ عرصے میں فضائی دفاعی میزائلوں کی شدید کمی کی شکایت کی ہے۔ یہ محض ہتھیاروں کی کمی نہیں، ایک تزویراتی خطرہ ہے۔
اگر روس یوکرین کے فضائی دفاع کو مسلسل حملوں کے ذریعے تھکا دیتا ہے تو بجلی گھر، دفاعی کارخانے، ریلوے نظام، فوجی مراکز اور شہری علاقے کہیں زیادہ غیر محفوظ ہوجائیں گے۔
اسی لیے میرے نزدیک یوکرین کو مزید ٹینک دینے سے زیادہ فوری ضرورت بعض اوقات فضائی دفاعی نظام، ان کے میزائل، برقی جنگ کے آلات اور دشمن کے میزائل داغنے والے نظاموں کو دور سے نشانہ بنانے کی صلاحیت کی ہوتی ہے۔
شہری آبادی پر بڑھتا ہوا دباؤ
اس جنگ کا انسانی پہلو بھی عسکری تجزیے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
اقوام متحدہ کے مطابق2026ء کے پہلے چھ ماہ میں یوکرین میں1,396شہری ہلاک اور7,978زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ تھا۔ جولائی میں صورتِ حال مزید خراب ہوئی اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم437شہری ہلاک اور2,610زخمی ہوئے۔
طویل فاصلے کے میزائل، ڈرون اور فضائی بم اب محاذ سے دور شہروں تک جنگ پہنچا رہے ہیں۔
یہ وہ پہلو ہے جہاں روس پر بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ اس جنگ کا آغاز یوکرین نے روس پر حملہ کرکے نہیں کیا تھا۔ روس نے ایک خودمختار ریاست کی سرحد عبور کرکے وسیع فوجی کارروائی شروع کی تھی۔
اس بنیادی حقیقت کو سیاسی بحث میں گم نہیں ہونا چاہیے۔
یوکرین کو صرف زندہ رہنے کے لیے مدد دینا کافی نہیں
مغربی ممالک کی حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تضاد رہا ہے۔ وہ یوکرین کو شکست نہیں کھانے دینا چاہتے، لیکن کئی مواقع پر اسے ایسی فیصلہ کن صلاحیت فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ دکھاتے رہے ہیں جو روس کی جنگی مشین پر ناقابلِ برداشت دباؤ ڈال سکے۔
یہ طرزِ عمل جنگ کو طول دے سکتا ہے۔
کسی فوج کو صرف اتنا اسلحہ دینا کہ وہ دفاع کرتی رہے، لیکن دشمن کے رسدی، فضائی اور جنگی پیداواری نظام کو مؤثر انداز میں مفلوج نہ کرسکے، دفاعی حکمتِ عملی تو ہوسکتی ہے، فیصلہ کن حکمتِ عملی نہیں۔
یوکرین کو مضبوط فضائی دفاع، طویل فاصلے تک درست حملے کی صلاحیت، توپ خانے کا مستقل ذخیرہ، برقی جنگ کے جدید نظام اور بڑے پیمانے پر ڈرون پیداوار درکار ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ایک واضح سیاسی مقصد بھی ہونا چاہیے۔ جنگ آخرکار مذاکرات پر ختم ہوگی۔ سوال صرف یہ ہے کہ مذاکرات کس فوجی صورتِ حال میں ہوں گے۔
مذاکرات کمزوری کی حالت میں نہیں ہونے چاہئیں
میں اس جنگ کے سفارتی حل کا حامی ہوں۔ کوئی بھی سنجیدہ دفاعی تجزیہ کار لامتناہی جنگ کو مقصد نہیں سمجھ سکتا۔
لیکن جنگ بندی اور پائیدار امن ایک چیز نہیں۔
اگر جنگ بندی کے بعد روس کو اپنی افواج دوبارہ منظم کرنے، گولہ بارود جمع کرنے اور چند سال بعد دوبارہ حملہ کرنے کا موقع ملتا ہے تو یہ امن نہیں بلکہ اگلی جنگ کے لیے وقفہ ہوگا۔
کسی بھی معاہدے میں یوکرین کی مستقبل کی سلامتی کا قابلِ اعتماد بندوبست بنیادی شرط ہونا چاہیے۔
پاکستان اور دیگر چھوٹی ریاستوں کو اس جنگ سے کیا سیکھنا چاہیے؟
میرے نزدیک یہ جنگ جنوبی ایشیا کے لیے بھی ایک اہم سبق رکھتی ہے۔
بین الاقوامی قانون کی سب سے زیادہ ضرورت طاقتور ممالک کو نہیں بلکہ چھوٹی ریاستوں کو ہوتی ہے۔
اگر دنیا یہ اصول تسلیم کرلے کہ ایک طاقتور ملک تاریخی دعوے، سلامتی کے خدشات یا نسلی تعلقات کو بنیاد بنا کر اپنے کمزور ہمسائے کی سرزمین فوجی طاقت سے حاصل کرسکتا ہے تو اس اصول کے نتائج صرف یوکرین تک محدود نہیں رہیں گے۔
کل یہی دلیل دنیا کے کسی اور خطے میں استعمال ہوسکتی ہے۔
اسی لیے یوکرین کی خودمختاری کا دفاع دراصل اس بین الاقوامی اصول کا دفاع ہے کہ سرحدیں طاقت کے زور پر تبدیل نہیں کی جانی چاہئیں۔
اصل سبق:دشمن کو حملے کی قیمت کا یقین دلانا
چار سال سے زیادہ عرصے کی اس جنگ سے میرے نزدیک سب سے بڑا عسکری سبق بازدارندگی ہے۔
فوج کا مقصد صرف جنگ لڑنا نہیں ہوتا۔ ایک مؤثر فوج کا سب سے بڑا مقصد دشمن کو یہ یقین دلانا ہوتا ہے کہ حملے کی قیمت اس کے ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ ہوگی۔
یوکرین2022ء میں روس کو حملے سے روکنے کے لیے کافی بازدار قوت پیدا نہیں کرسکا۔ لیکن روس بھی یوکرین کو چند دنوں یا چند ہفتوں میں شکست دینے میں ناکام رہا۔
اب دونوں فریق ایک ایسی طویل جنگ میں بندھے ہوئے ہیں جس میں انسانی جانیں، قومی معیشتیں اور بے پناہ عسکری وسائل خرچ ہورہے ہیں۔
میں یوکرین کی حمایت روسی عوام کی مخالفت کی وجہ سے نہیں کرتا۔ میں یوکرین کی حمایت اس لیے کرتا ہوں کیونکہ کسی بھی خودمختار قوم کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل، اپنی خارجہ پالیسی اور اپنے قومی تشخص کا فیصلہ خود کرے۔
اگر عالمی نظام واقعی کوئی معنی رکھتا ہے تو ایک بنیادی اصول واضح ہونا چاہیے:بڑی فوج کسی ریاست کو چھوٹی قوم کی آزادی چھیننے کا قانونی یا اخلاقی حق نہیں دیتی۔
روس۔یوکرین جنگ کا آخری نتیجہ صرف یورپ کا نقشہ طے نہیں کرے گا۔ یہ اس بات پر بھی اثر انداز ہوگا کہ آنے والی دہائیوں میں دنیا کی دوسری طاقتیں اپنے کمزور ہمسایوں کے بارے میں کیا حساب لگاتی ہیں۔
اسی لیے یوکرین کا دفاع صرف یوکرین کا مسئلہ نہیں۔ یہ مستقبل کی جنگوں کو روکنے کے لیے آج کی جنگ سے حاصل ہونے والا سب سے اہم سبق ہے۔
دفاعی و تزویراتی امور کے تجزیہ کار
• Reuters،12اگست2026ء: یوکرینی افواج کی2026ء کی زمینی کارروائیوں سے متعلق رپورٹ۔
• Reuters،5اگست2026ء: یوکرین کے فضائی دفاعی میزائلوں کی فراہمی سے متعلق رپورٹ۔
• اقوام متحدہ انسانی حقوق نگرانی مشن،2026ء: یوکرین میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار۔
• Reuters، اگست2026ء: روس۔یوکرین جنگ، طویل فاصلے کے حملوں اور جنگ بندی سے متعلق تازہ رپورٹس۔
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔
"`

