
السید سے شکست کھانے والی ہیلی اسٹیونسن کو پارٹی کی مرکزی قیادت اور گورنر گریچن وٹمر کی حمایت حاصل تھی، مزید براں،AIPACسے جڑی ایک تنظیم نے ان کے حق میں کروڑوں ڈالر خرچ کیے تھے۔ اس کے باوجود السید نے جیت حاصل کی ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نیویارک میں زہران ممدانی کی جیت جیسی فتح سمجھا جا رہا ہے.السید پر یہودی مخالف ہونے کا الزام لگتا رہا ہے۔ لیکن السید کا کہنا ہے کہ وہ یہودی مخالف نہیں بلکہ اسرائیل کو دی جانے والی امریکی مالی امداد کے مخالف ہیں ۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکا کا پیسہ امریکا کے عوام پر خرچ ہونا چاہیے، نہ کہ کسی دوسرے ملک پر۔ السید نے جیت کے بعد ایک انٹرویو میں یہودی برادری کے تحفظات کا براہ راست جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہودی برادری کی حفاظت ان کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی ان کے اپنے بچوں کی حفاظت اور یہ کہ یہودی مخالف جذبات کا مقابلہ کرنا اسی طرح ان کی ذمہ داری ہے جیسے اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنا۔
یہ ایک دلچسپ صورتحال ہے۔ موجودہ امریکی حکومت، جسے ری پبلکن پارٹی کے ایک گروہ میگا (Make America Great Again) کی حکومت کہا جاتا ہے، کا بنیادی نعرہ بھی یہی رہا ہے کہ امریکا کے وسائل صرف امریکا پر خرچ ہوں۔ ان کی جیت کی ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے عوام سے کہا کہ امریکا کو دوسرے ممالک کی جنگوں میں الجھنا اور انہیں امداد دینا بند کرنا چاہیے، اسی لیے وہ یو ایس ایڈ اور نیٹو کی فنڈنگ جیسے منصوبوں کے خلاف رہے۔
اب دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کے بائیں بازو کے نئے رہنما ملتے جلتے الفاظ استعمال کر رہے ہیں امریکا کا پیسہ امریکا پر خرچ ہو لیکن ان کی وجہ مختلف ہے۔ میگا کا نظریہ قوم پرستی اور عالمی معاملات سے مجموعی طور پر لاتعلقی پر مبنی ہے۔ جبکہ السید اور ممدانی جیسے رہنماؤں کا مؤقف انسانی حقوق اور فلسطینیوں کی حمایت سے جڑا ہے، اور خاص طور پر اسرائیل کی فنڈنگ پر مرکوز ہے، نہ کہ دنیا بھر سے لاتعلقی پر۔ یعنی الفاظ ملتے جلتے ہیں مگر سوچ الگ ہے۔ اسے میگا کے نعرے کی نقل کہنا مکمل طور پر درست نہیں ہوگا کیونکہ دونوں کے بنیادی نظریات مختلف ہیں
یاد رہے کہ یہی ڈیموکریٹ پارٹی جو بائیڈن کے دور تک اسرائیل سمیت ایسے تمام منصوبوں کی حامی رہی ہے بلکہ بائیڈن خود کو صیہونی(اسرائیل کے حامی)کہا کرتے تھے.ممدانی ہو یا اب السید، ڈیموکریٹ پارٹی نے مسلمان امیدواروں کے ذریعے امریکی سیاست کو ایک مزاحمتی رنگ دیا ہے، جو کبھی اس پارٹی کی پہچان ہوا کرتا تھا پارٹی نے رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق ختم کرنے کی سیاست پر توجہ دی ہے، اور ساتھ ہی میگا کے اس نعرے سے ملتا جلتا پیغام اپنا لیا ہے کہ عام امریکی شہری کی حالت اسی وقت بہتر ہوگی جب وسائل عوام پر خرچ ہوں گے.اسی وجہ سے ری پبلکن پارٹی کو بھی اپنا انداز بدلنا پڑ رہا ہے۔ وہ اب اپنے مخالفین کو کمیونسٹ کہہ کر نشانہ بنا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا بیان ہو یا ریجنگ امریکا نامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا عکس، اس بدلتی ہوئی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ نتیجہ آنے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر السید کی جیت کو ری پبلکن پارٹی کے لیے اچھی خبر قرار دیا اور انہیں کمیونسٹ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا اس کے علاوہ ٹرمپ نے ڈیٹرائٹ کے وین کاؤنٹی کے انتخابی نظام پر بھی بے ضابطگی کے الزامات لگائے اور کہا کہ نومبر کے مڈٹرم الیکشن میں دھاندلی کا امکان ہے، اسی لیے ری پبلکن ووٹرز کو مائیک راجرز کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔
امریکی سیاست میں کمیونسٹ ہونے کا الزام ایک پرانا اور سنگین ہتھیار رہا ہے، جس کے ساتھ لوگوں کی نجی ملکیت چھین لینے اور مذہبی آزادی ختم کرنے جیسے خدشات جڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ السید اور ممدانی جیسے رہنما خود کو کمیونسٹ نہیں بلکہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ، یعنی جمہوری اشتراکی، کہتے ہیں، جو یورپی طرز کی فلاحی ریاست کے حامی ہیں، سوویت طرز کے نظام کے حامی نہیں۔ ایسے میں ان پر کمیونسٹ کا لیبل لگا کر ری پبلکن امریکی کارپوریٹ سیکٹر اور مڈل کلاس کو اپنی پارٹی کے گرد جوڑے رکھنا چاہتے ہیں۔
اس وقت ڈیموکریٹس میں ترقی پسند نوجوانوں کی جو لہر نظر آ رہی ہے، اس کی نظریاتی بنیاد برنی سینڈرز نے رکھی تھی اسی لیے اسے برنی سینڈرز سینڈروم بھی کہا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ لہر اب سینڈرز کی ذات سے آگے نکل چکی ہے۔ الیگزینڈریا اوکاسیو کورتیز جیسی نئی قیادت خود ایک آزاد مرکز بن چکی ہے، اور اب اس میں معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ نسل، مذہب اور خاص طور پر فلسطین-اسرائیل کا مسئلہ بھی مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ یعنی یہ اب کسی ایک رہنما کی ذاتی مہم نہیں بلکہ ایک منظم اور خود مختار تحریک کی شکل میں نظر آتی ہے.جس طرح ری پبلکن پارٹی میں میگا ایک منظم تحریک کے طور پر ابھرا تھا اسی طرح ڈیموکریٹس میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ بھی ایک منظم تحریک کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
عبدل السید کی جیت محض ایک جماعت کے پرائمری یعنی اندرونی الیکشن کا نتیجہ نہیں ہےبلکہ امریکی سیاست میں جاری ایک گہری تبدیلی کی علامت ہے، جہاں معیشت، شناخت اور خارجہ پالیسی کے گرد سیاست گھوم رہی ہے اور ہر جماعت اس کی تشریح مختلیف طریقے سے کررہی ہے ۔
اصل امتحان اب نومبر میں ہوگا، جب السید کا مقابلہ مائیک راجرز سے ہوگا اور یہ دیکھا جائے گا کہ کیا ایک پرپل اسٹیٹ یعنی سیاسی طور پر منقسم اسٹیٹ میں ترقی پسند سیاست کا یہ تجربہ کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔ اس کا نتیجہ نہ صرف مشی گن بلکہ پورے امریکا میں سینٹ کی سیاسی بساط اور دونوں بڑی جماعتوں کے مستقبل کے بیانیے پر گہرا اثر ڈالے گا.
ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

