نیویارک:امریکی شہر نیویارک میں یہودیوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ انکشاف نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ(NYPD)کے تازہ اعداد و شمار میں ہوا ہے، جنہیں جیوش نیوز سنڈیکیٹ(JNS)نے شائع کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی2026کے دوران یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں53.3فیصد اضافہ ہوا۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مہینے شہر میں تصدیق شدہ تمام نفرت پر مبنی جرائم میں سے70فیصد کا نشانہ یہودی افراد یا یہودی ادارے بنے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ نیویارک شہر کی مجموعی آبادی میں یہودی برادری کا تناسب تقریباً10فیصد ہے، تاہم نفرت انگیز جرائم میں ان کا حصہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق2026کی پہلی ششماہی کے دوران نیویارک پولیس نے یہودیوں کے خلاف نفرت پر مبنی178جرائم کی تصدیق کی، جو شہر بھر میں ریکارڈ کیے گئے تمام تصدیق شدہ نفرت انگیز جرائم کا55.3فیصد بنتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار ایک مسلسل بڑھتے ہوئے تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، جسے معمول کا حصہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مذہبی آزادی اور عوامی تحفظ کا انحصار اس بات پر ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بلاامتیاز اور بلاخوف قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ ان کے مطابق ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، عبادت گاہ جانے، تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے اور اپنے محلوں میں آزادانہ نقل و حرکت کا حق حاصل ہونا چاہیے، اور کسی بھی فرد یا برادری کو صرف اس کے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

