نیویارک: "اینڈ جیو ہیٹ ریڈ” (End Jew Hatred) نامی تنظیم نے نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی کے خلاف باضابطہ تحقیقات اور انہیں عہدے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کرنے کے مطالبے پر مبنی ایک آن لائن درخواست(پٹیشن) جاری کی ہے۔ اس پٹیشن میں نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکُل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نیویارک سٹی چارٹر کے سیکشن9کے تحت میئر کے خلاف کارروائی کا آغاز کریں۔
یہ پٹیشن تنظیم کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہے اور اسے مختلف سماجی و مذہبی رہنماؤں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ ان حامیوں میں امریکن مسلم اینڈ ملٹی فیتھ ویمنز ایمپاورمنٹ کونسل(AMMWEC)کی صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر انیلہ علی بھی شامل ہیں، جنہوں نے امریکی شہریوں سے اس پٹیشن پر دستخط کرنے کی اپیل کی ہے۔
انیلہ علی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے مطابق زہران ممدانی ایسے اتحادوں کی نمائندگی کرتے ہیں جنہیں انہوں نے امریکہ مخالف، مذہب مخالف اور اعتدال پسند مسلمانوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ممدانی کی سیاست اسلام، مسلمانوں اور امریکی معاشرے کے بارے میں منفی تاثر پیدا کر رہی ہے، اور لوگوں سے پٹیشن کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔
پٹیشن کا پس منظر
پٹیشن میں23جولائی2026کو مین ہٹن کے اپر ویسٹ سائیڈ میں پیش آنے والے خنجر حملوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں چند منٹوں کے وقفے اور دو بلاکس کے فاصلے پر دو افراد کو زخمی کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق57سالہ چوک سنگ پر ویسٹ84ویں اسٹریٹ کے قریب حملہ کیا گیا، جبکہ50سالہ موشے گرون ہاؤس کو ویسٹ86ویں اسٹریٹ پر عبادت گاہ سے واپس آتے ہوئے چاقو مارا گیا۔ پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ آور”اللہ اکبر”کے نعرے لگا رہا تھا۔
پٹیشن کے منتظمین کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک برادری کے خلاف حملہ نہیں بلکہ شہر میں حکومتی ناکامیوں کے ایک وسیع تر رجحان کی علامت ہے، جس سے مختلف طبقات، بشمول طلبہ، بچوں اور عوامی تحفظ سے وابستہ افراد، متاثر ہو رہے ہیں۔
پٹیشن میں عائد کیے گئے الزامات
پٹیشن میں میئر زہران ممدانی کے خلاف پانچ بنیادی نکات پر مشتمل الزامات پیش کیے گئے ہیں۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممدانی نے اسکولوں کی سکیورٹی سے متعلق”انٹرو175-B”قانون کو ویٹو کیا، جس کا مقصد تعلیمی اداروں کے اطراف رکاوٹوں اور دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے پولیس کی منصوبہ بندی کو لازمی بنانا تھا۔
اس کے علاوہ پٹیشن میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا میئر کے مقرر کردہ حکام نے ایڈمنسٹریشن فار چلڈرن سروسز(ACS)میں بچوں کے تحفظ اور نگرانی کے معیار کو نرم کرنے کی ہدایات دیں، اور کیا ادارے کے ملازمین نے حفاظتی اقدامات میں کمی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
پٹیشن میں محکمہ پروبیشن کی ایک سابق ملازمہ کے مقدمے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ ایک مبینہ غیر ظاہر شدہ تعلق کی نشاندہی کرنے پر اسے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ اس معاملے کا جائزہ نیویارک سٹی کے محکمہ تفتیش (Department of Investigation) میں لیا جا رہا ہے۔
سام دشمنی سے متعلق الزامات
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زہران ممدانی نے عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی دن شہر کے سام دشمنی سے متعلق فریم ورک کو ختم کر دیا، تاہم اس کی جگہ کوئی نیا نظام متعارف نہیں کرایا گیا۔
پٹیشن کے مطابق اس کے بعد شہر میں نفرت پر مبنی جرائم میں تقریباً12فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تصدیق شدہ نفرت انگیز جرائم میں سے55فیصد کا نشانہ یہودی شہری بنے، حالانکہ وہ نیویارک شہر کی آبادی کا تقریباً10فیصد ہیں۔
پٹیشن میں یہ اعتراض بھی کیا گیا ہے کہ میئر نے سرکاری مواصلاتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے ایک غیر ملکی سربراہِ حکومت کو جنگی مجرم قرار دیا، حالانکہ بعد میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اس حوالے سے ان کے پاس کوئی قانونی اختیار موجود نہیں تھا۔
قانونی بنیاد
پٹیشن کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کی درخواست نیویارک ریاست کے آئین، پبلک آفیسرز لا اور نیویارک سٹی چارٹر کے سیکشن9پر مبنی ہے، جس کے تحت گورنر باضابطہ الزامات، نوٹس اور سماعت کے بعد میئر کو عہدے سے ہٹا سکتی ہیں۔
منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ جمع ہونے والے تمام دستخط البانی میں گورنر کے دفتر کو پیش کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ مطالبہ23جولائی کے حملوں کی گورنر کیتھی ہوکُل کی جانب سے مذمت کے بعد ایک منطقی اگلا قدم ہے۔
تنظیم کا مؤقف
"اینڈ جیو ہیٹ ریڈ”اور”اینڈ ایکسٹریم ازم”اقدام کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ نیویارک میں سام دشمنی کے خلاف عوامی حمایت، رضاکاروں کی شمولیت اور آگاہی مہم کو مزید وسعت دے رہے ہیں اور پٹیشن پر دستخط کی مہم بدستور جاری ہے۔

