• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ہم آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے پر بات کر رہے ہیں، یہ ایران کے پاس آخری موقع ہے⁦:⁩ڈونلڈ ٹرمپ
متفرقات

ہم آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے پر بات کر رہے ہیں، یہ ایران کے پاس آخری موقع ہے⁦:⁩ڈونلڈ ٹرمپ

"یہ ایران کے لیے ایک اچھا معاہدہ کرنے اور ایک بہتر دستاویز پر دستخط کرنے کا آخری موقع ہے۔"
نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراگست 4, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

واشنگٹن⁦/⁩تہران⁦:⁩امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اس وقت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بات چیت ہو رہی ہے، تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا ملاقات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور یہ تہران کے لیے ایک بہتر معاہدہ کرنے کا آخری موقع ہے، جو گزشتہ پانچ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور تہران اگر چاہے تو ایک ایسے معاہدے پر دستخط کر سکتا ہے جو موجودہ تنازع کا خاتمہ کر دے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ بات چیت ایران کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر علاقائی فریقوں کی درخواست پر کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا،⁦”⁩یہ ایران کے لیے ایک اچھا معاہدہ کرنے اور ایک بہتر دستاویز پر دستخط کرنے کا آخری موقع ہے۔⁦”⁩تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر کے بیانات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی کسی ملاقات کا وقت طے کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایران کسی غیر ملکی وفد کی میزبانی کرنے یا اپنے مذاکرات کاروں کو بیرون ملک بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

بقائی کے مطابق تمام ایرانی مذاکرات کار اس وقت ملک کے اندر موجود ہیں، سوائے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے، جو عراق کے دورے پر مذہبی زیارت کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صرف سلطنت عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق تکنیکی نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔

ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے بھی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں اور عباس عراقچی کم از کم ہفتے کے اختتام تک کسی ممکنہ ملاقات کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

متضاد بیانات نے مستقبل قریب میں سفارتی پیش رفت کے امکانات پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ خلیجی خطے کے حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے کہ وہ طویل عرصے تک امریکی دباؤ کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق تہران تجارتی راستوں، بحری گزرگاہوں اور مشرق وسطیٰ کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو دباؤ کے مؤثر ذرائع کے طور پر استعمال کر کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ بڑھانا چاہتا ہے، تاکہ انہیں یہ باور کرایا جا سکے کہ بحران کے خاتمے کے لیے ایران کے مطالبات کو تسلیم کرنا زیادہ قابلِ عمل راستہ ہے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے سینئر تجزیہ کار مائیکل نائٹس نے کہا کہ ایران کی سب سے بڑی طاقت خطے کے ممالک اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت ہے۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم⁦”⁩ٹروتھ سوشل⁦”⁩پر ایک پوسٹ میں ایرانی قیادت کو⁦”⁩انتہائی چالاک⁦”⁩قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے اور مزید مذاکرات مستقبل قریب میں متوقع ہیں۔

انہوں نے ایک بار پھر یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے، جو تنازع سے قبل دنیا کی تقریباً⁦20⁩فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ تھا۔

ٹرمپ نے لکھا،⁦”⁩اگر امریکہ نہ چاہے تو کوئی چیز ایران تک نہیں پہنچ سکتی اور نہ ہی اس راستے سے کوئی چیز گزر سکتی ہے، جب تک کوئی معاہدہ یا مکمل ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ نہ ہو۔⁦”⁩تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران متعدد بار ایران کے خلاف بڑے فوجی حملوں کا اعلان کر چکے ہیں، تاہم ہر مرتبہ بعد میں سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے عسکری کارروائی مؤخر یا منسوخ کر دی گئی۔

دوسری جانب ایران جولائی کے آغاز سے مسلسل امریکہ کے ساتھ کھلے عام مذاکرات سے انکار کرتا آ رہا ہے، خصوصاً جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ ابھی تک اپنے ابتدائی اہداف، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ اور اس کی علاقائی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا شامل تھا، حاصل نہیں کر سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم تنازعاتی مسئلہ ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ جون کی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران اس بین الاقوامی بحری گزرگاہ کو کھلا رکھنے کا پابند ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ معاہدے میں آبنائے ہرمز پر اس کے اختیارات برقرار رکھے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نے آبنائے ہرمز پر ایران کے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے، جبکہ امریکہ اب تک تہران کو اس اہم بحری راستے پر اپنی گرفت کم کرنے پر مجبور نہیں کر سکا۔

اس کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم پیر کے روز صدر ٹرمپ کی جانب سے فوری فوجی کارروائی سے گریز کے اشارے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے تقریباً⁦7⁩فیصد کمی کے بعد⁦83.77⁩ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ڈاؤ جونز انڈیکس نے اپنی تاریخ کی بلند ترین اختتامی سطح ریکارڈ کی۔

آبنائے ہرمز اسماعیل بقائی امریکہ ایران برینٹ خام تیل تیل کی قیمتیں ڈاؤ جونز ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب عباس عراقچی قطر متحدہ عرب امارات مذاکرات
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleنیویارک کے میئر زہران ممدانی کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کی مہم، گورنر کیتھی ہوکُل سے تحقیقات کا مطالبہ
Next Article کیوں ماسوائے اسرائیل؟
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
امریکہ

کیا امریکہ اسرائیل کی سالانہ امداد روک دے گا؟

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.