لندن:برطانیہ میں یہود مخالف(اینٹی سیمیٹک)واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کمیونٹی سیکیورٹی ٹرسٹ(CST)کی تازہ رپورٹ کے مطابق2026کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک بھر میں ایک ہزار926یہود مخالف واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں21فیصد زیادہ ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری سے جون2026کے دوران ریکارڈ کیے گئے واقعات گزشتہ برس کے ایک ہزار598واقعات کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جبکہ یہ تعداد2024کے بعد کسی بھی سال کی پہلی ششماہی میں دوسری بلند ترین سطح ہے۔ رپورٹ کے مطابق7اکتوبر2023کے بعد یہود مخالف واقعات کی شرح مستقل طور پر بلند سطح پر برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد یہود مخالف واقعات میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔28فروری کے بعد کے57دنوں میں656واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ اس سے قبل کے57دنوں میں یہ تعداد527تھی۔
سی ایس ٹی کے مطابق اس عرصے میں جسمانی حملوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں135حملوں اور ایک ایسے واقعے کا اندراج کیا گیا جسے”انتہائی تشدد”کے زمرے میں رکھا گیا، جو جان لیوا نوعیت کا تھا۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں82فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہود مخالف واقعات میں سے82فیصد بدزبانی، ہراسانی اور نفرت انگیز رویے پر مشتمل تھے،
جبکہ دھمکیوں کے126واقعات بھی رپورٹ کیے گئے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں27فیصد زیادہ ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق41فیصد واقعات میں اسرائیل، فلسطین، حماس یا مشرق وسطیٰ کی جنگ کا حوالہ موجود تھا، جبکہ35فیصد واقعات میں صریح طور پر صیہونیت مخالف بیانیہ یہود مخالف زبان یا طرز عمل کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ”صیہونی”اور”صیہونیت”جیسے الفاظ متعدد واقعات میں یہودی شناخت کے مترادف یا توہین آمیز انداز میں استعمال کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق آن لائن نفرت انگیز سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا اور جنوری سے جون کے دوران680آن لائن یہود مخالف واقعات رپورٹ ہوئے، جو اب تک کی بلند ترین ششماہی تعداد ہے۔ ان میں سے86فیصد واقعات میں سیاسی یا نظریاتی سازشی بیانیہ شامل تھا۔
تعلیمی ادارے بھی اس رجحان سے متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق یہودی اسکولوں، طلبہ اور اساتذہ سے متعلق178واقعات رپورٹ کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں59فیصد زیادہ ہیں۔
جغرافیائی لحاظ سے لندن سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا، جہاں994واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ گریٹر مانچسٹر میں222واقعات درج کیے گئے۔ یہ دونوں علاقے مجموعی طور پر برطانیہ میں رپورٹ ہونے والے63فیصد واقعات پر مشتمل ہیں۔
سی ایس ٹی کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں شامل اعداد و شمار صرف ان واقعات پر مشتمل ہیں جن میں واضح طور پر یہود مخالف زبان، محرک یا ہدف موجود تھا، جبکہ مزید2ہزار264مشتبہ واقعات بھی رپورٹ ہوئے جو تحقیقات کے بعد اس زمرے میں شامل نہیں کیے گئے۔

