انسانی حقوق کے کارکن، امریکی فوج کے سابق رکن، اور گلوبل یوتھ یونٹی پراجیکٹ کے بانی ایک مسلمان ہونے کے ناطے میں یہ بات پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام کے نام پر عورتوں کی بے حرمتی کرنے والے اسلام کے نمائندے نہیں، بلکہ اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں.آج دنیا ایک تلخ حقیقت کا سامنا کر رہی ہے۔ جہاں جہاں اسلام پسند انتہا پسند نظریات نے طاقت حاصل کی، وہاں عورتیں اکثر سب سے پہلے ان کا نشانہ بنیں۔
یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ ہے جو عورت کو آزاد انسان نہیں بلکہ مرد کی ملکیت، اور مخالف کو کم تر انسان سمجھنے لگتی ہے۔
داعش کے ہاتھوں یزیدی خواتین کی غلامی،7اکتوبر کے حملوں کے دوران سامنے آنے والے جنسی تشدد کے الزامات، ایران میں خواتین پر جبر، سوڈان میں جنگی ہتھیار کے طور پر عصمت دری، افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی، اور پاکستان میں اقلیتی لڑکیوں کے اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور جبری شادیوں کے واقعات ہمیں ایک ہی سبق دیتے ہیں:جب انسان کی عزت ختم کر دی جائے تو ظلم آسان ہو جاتا ہے۔
میں یہ سب ایک مسلمان کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں۔ اسلام نے عورت کو عزت، وراثت، تعلیم اور تحفظ دیا ہے۔ مذہب کے نام پر عصمت دری، جبری شادی، جنسی غلامی یا دہشت گردی کو جائز قرار دینا اسلام نہیں بلکہ انتہا پسندی ہے۔
خاموشی انتہا پسندی کو ختم نہیں کرتی، بلکہ اسے طاقت دیتی ہے۔ عورت کسی کی ملکیت نہیں۔ کوئی مذہبی یا سیاسی مقصد عصمت دری، جنسی غلامی یا انسانی تذلیل کا جواز نہیں بن سکتا۔ اگر ہم واقعی انصاف چاہتے ہیں تو ہمیں ہر مظلوم عورت کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، چاہے اس کا مذہب، قومیت یا نسل کچھ بھی ہو۔
مصنف کا مختصر تعارف
منصور حسین لغاری انسانی حقوق کے کارکن، امریکی فوج کے سابق رکن، فلم ساز، اور گلوبل یوتھ یونٹی پراجیکٹ کے بانی ہیں۔ وہ مذہبی انتہا پسندی، یہود دشمنی، اور انسانی حقوق کے موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔
ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ ق

