عالمی سیاست
ٹرمپ کی ایران کی مدد کرنے والے ہر ملک کو ’بہت سنگین معاشی نتائج‘ کی دھمکی
امریکی صدر کا ایران کے خلاف ’اب تک کی سب سے شدید معاشی کارروائی‘ شروع کرنے کا اعلان
واشنگٹن،20اگست 2026
"`
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے یا اس کے ساتھ کاروبار کرنے والے ہر ملک کو ’’بہت سنگین معاشی نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اس اقدام کو ایک ایسے ملک کے خلاف اب تک کی سب سے جارحانہ معاشی مہم قرار دیا ہے۔
بدھ کی شام ٹروتھ سوشل پر جاری کیے گئے ایک سخت الفاظ پر مبنی بیان میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایران کے خلاف ’’کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی‘‘ شروع کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسے ’’بے مثال پیمانے پر معاشی جنگ اور تنہائی‘‘ اور ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ قرار دیا۔
’’جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا حکومتی اداروں کو ایران کے لیے کسی بھی قسم کی لائف لائن فراہم کرنے کی اجازت دے گا، اسے خود بھی بہت سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘
ٹرمپ نے خاص طور پر تیل کی اسمگلنگ، سواپ لائنز، نقد رقوم کی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، بحری جہازوں کی رجسٹری اور فرنٹ کمپنیوں جیسی سرگرمیوں کو نشانہ بنایا اور کہا: ’’یہ سب کچھ اب فوراً رکنا چاہیے۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں۔‘‘
ٹرمپ نے کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ امریکہ ان ممالک کے خلاف کون سے مخصوص اقدامات کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے معاہدے کے مواقع مسترد کیے ہیں اور کہا:
’’مجھ سے زیادہ کسی نے اسلامی جمہوریہ ایران کو معاہدہ کرنے کا بڑا موقع نہیں دیا۔ افسوس ناک طور پر، انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکامی دکھائی۔‘‘
دھمکی کا پس منظر
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ 60 روزہ جنگ بندی رواں ہفتے ختم ہو گئی ہے، جبکہ فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل سے شروع ہونے والے تنازع کا کوئی واضح سفارتی حل تاحال سامنے نہیں آیا۔
اس جنگ کے دوران امریکہ پہلے ہی آپریشن اکنامک فیوری سمیت مختلف مہمات کے تحت ایران پر وسیع پیمانے پر اقتصادی پابندیاں اور فوجی دباؤ عائد کر چکا ہے۔
ٹرمپ کی تازہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات نے رواں ہفتے ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، کاروباری تبادلے اور مالیاتی لین دین معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ متحدہ عرب امارات کا یہ اقدام خطے میں ایرانی میزائلوں کی نشاندہی سے متعلق رپورٹس کے بعد سامنے آیا۔
ثانوی پابندیوں سے کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک، بالخصوص ایرانی تیل کے بڑے خریداروں جیسے چین کے خلاف ثانوی پابندیاں عائد کی گئیں تو اس سے خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے امریکی اتحادیوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش میں شامل ہوں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات ایران کی ’’دنیا بھر میں دہشت پھیلانے کی صلاحیت‘‘ کو مفلوج کر دیں گے۔
’’ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘‘
تاہم نئی معاشی مہم کو عملی جامہ پہنانے کے طریقۂ کار کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی اس حوالے سے مزید وضاحت فراہم نہیں کی۔
"`
"`

