"`html
شوپین کا نغمہ بجتا ہے
ٹریبلنکا اور آشوٹز کی قتل گاہیں
یہ یکم نومبر انیس سو انہتر ہے۔ پرانے کراچی ایئرپورٹ کے ٹارمک پر ایک غیر ملکی وی وی آئی پی شخصیت کے لیے سرخ قالین بچھا ہے۔ اس سرخ قالین پر اعلیٰ سول و فوجی عملدار، کراچی کے ممتاز شہری اور سفارت کار غیر ملکی وی وی آئی پی مہمان کے استقبال کے لیے کھڑے ہیں۔
یہ غیر ملکی وی وی آئی پی مہمان کوئی اور نہیں، اس وقت پولینڈ کے صدر مارشل ماریان اسپائخالْسکی ہیں، جو اسلام آباد سے اپنے وفد کے ساتھ ابھی ابھی کراچی ایئرپورٹ پر اپنے صدارتی طیارے سے اترے ہیں۔ استقبالی لائن میں ان کا پاکستانی اعلیٰ سول و فوجی عملداروں، معروف شہریوں اور وہاں تعینات سینئر غیر ملکی سفارت کاروں سے تعارف کرایا جا رہا ہے کہ اچانک پی آئی اے کی ایک وین کہیں سے نمودار ہوتی ہے اور استقبالی لائن کو چیرتی چلی جاتی ہے۔ اس واقعے میں پولینڈ کے صدر کے وفد میں شامل پولش نائب وزیر خارجہ زیگفریڈ مولنیئاک ہلاک اور پاکستان میں پولش سفیر اور کراچی میں تعینات پولش قونصل جنرل بھی زخمی ہوتے ہیں۔
اس وین کو ڈرائیور محمد فیروز چلا کر لے آیا تھا، جس کا، کہتے ہیں، تعلق جماعت اسلامی سے وابستہ پی آئی اے کی لیبر یونین سے تھا۔ ڈرائیور پر قتل کا مقدمہ چلا۔ اسے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔ اور ان دنوں کے اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق، ملزم کے پراسیکیوٹر تختۂ دار سے ان کا بیان لے آیا تھا کہ اسے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔ وہ واردات کے وقت اپنے دیے گئے اس بیان پر قائم تھا کہ اس نے مشن پورا کیا اور اس کے بیٹوں کو حافظِ قرآن بنایا جائے۔
یہ میرا پولینڈ سے، اور پاکستان میں متشدد مذہبی انتہاپسندی سے، پہلا تعارف تھا۔
دوسرا، میں پولینڈ کو اس کے عظیم موسیقار و شاعر فریڈرک شوپین کے نام سے جانتا تھا، جو نام سب سے پہلی بار میں نے فیض احمد فیض کی نظم میں سنا تھا کہ:
”شوپین کا نغمہ بجتا ہے۔“
لیکن تیسری بار میں پولینڈ کو مزید دلچسپی اور کچھ تفصیلات کے ساتھ اس وقت جاننے لگا، جب وہاں مزدور اور پولش عوام کا محبوب رہنما لیخ والیسا ابھر رہا تھا۔ اس کی سالیڈیرٹی وارسا کی سڑکوں پر اس وقت کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف اٹھارہ لاکھ لوگوں کو باہر لے آئی تھی۔ انہیں امن کا نوبل انعام بھی ملا تھا۔
اس وقت دنیا میں دو ہی عالمی لیڈر تھے:ایک جنوبی افریقہ کا نیلسن منڈیلا تھا، جو تب تاہم جیل میں تھا، اور دوسرے لیخ والیسا۔ ان دنوں میرے گھر والے مجھے کہتے، ”تمہاری مونچھیں لیخ والیسا کی مونچھوں سے ملتی جلتی ہیں۔“
اب میں مارچ کی ایک کچی دوپہر پولینڈ کے وارسا شہر کے شوپین ایئرپورٹ پر اترا تھا۔ وارسا ایئرپورٹ پولینڈ کے عظیم موسیقار اور پیانو نواز فریڈرک فرانسسکو شوپین کے نام پر ہے۔ کاش ہم اپنے عظیم شاعروں کے نام سیالکوٹ ایئرپورٹ کا فیض احمد فیض ایئرپورٹ اور سکھر کے ایئرپورٹ کا نام شیخ ایاز ایئرپورٹ رکھتے۔
مگر پولینڈ کے کئی حوالے اور استعارے ہیں۔ ایک استعارہ جو اس شہر کے بارے میں ہے، وہ اس شہر کو اس دیومالائی پرندے فینکس یا ققنس سے تعبیر کرتا ہے، جو آخری گیت گاتا ہے اور وہ گیت شعلہ بنتا ہے۔ وہ اسی میں راکھ بن کر پھر یہ پرندہ ققنس اپنی اسی راکھ سے زندہ ہو کر پر پھڑپھڑاتا، اڑتا ہے۔
تو میں وارسا میں بارش والی اس دوپہر اپنے ہوٹل کے کمرے میں گہری نیند میں تھا۔ رات کے سفر کا جاگا ہوا تھا کہ میرے سیل فون کی گھنٹی بجی۔ میرا میزبان یشایا تھا، جو پوچھ رہا تھا، ”کس نمبر کے کمرے میں ہو؟ ہم لوگ پرانا وارسا شہر گھومنے جا رہے ہیں، چلنا چاہو تو چلو۔“
ہم لوگ، یعنی کون؟ یروشلم سے یشایا، جرمنی کے شہر بون سے شاعر عاطف توقیر اور پیرس سے صحافی یونس خان، میرے کمرے کے دروازے پر تھے۔
برستی بارش میں ہم سالم وین کر کے پرانے شہر وارسا پہنچے۔ یہ پہلی دفعہ تھا کہ میں کوئی یہودی، وہ بھی اسرائیل کا، اپنے اتنا قریب، اپنے ساتھ نہ فقط بیٹھا دیکھ رہا تھا بلکہ اس سے باتیں بھی کر رہا تھا۔
حالانکہ میں تو نیویارک شہر میں رہتا ہوں، جہاں اسرائیل قائم ہونے سے بھی پہلے سے یہودی بستے ہیں۔ شاید اسرائیل سے بھی زیادہ۔ نیویارک شہر کا دو مرتبہ منتخب ہونے والا میئر یہودی تھا۔ نہ فقط یہ کہ جہاں میں رہتا ہوں، وہاں میرے گھر کے ایک کمرے کی کھڑکی قدیم سینیگاگ کی طرف، دوسرے کمرے کی کھڑکی اس سینیگاگ کے ربی کے گھر کی طرف کھلتی ہے۔ پھر بھی ایک دوسرے سے گریز، بلکہ نیویارک کے یہودی آبادی والے علاقے فاریسٹ ہلز سے زیادہ دور نہیں رہتا۔
انسان سب ایک جیسے، دیس ایک جیسے ہیں۔ پر میرے آبائی اور آمائی دیس، پیارے پاکستان، کے پاسپورٹ کے آخری صفحے پر لکھا ہے: ”تمام ممالک کے لیے، سوائے اسرائیل کے۔“ پہلے اسی آخری صفحے پر لکھا ہوتا تھا: ”تمام ممالک کے لیے سوائے انڈیا، کمیونسٹ ممالک اور جنوبی افریقہ کے۔“
یہ شہر وارسا واقعی بہت پرانا ہے۔ نیا بھی ہے کہ جس کو پھر سے بنایا گیا۔ اگر کسی کی اینٹ سے اینٹ بجی تو یہ شہر وارسا تھا، جہاں ہٹلر کی نازی فوجوں کے قبضے کے بعد اس شہر کو بیشتر تباہ کر دیا گیا تھا۔ جسے پھر سے تعمیر کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس کی اینٹیں بھی تباہ شدہ ملبوں سے نکال کر نئی تعمیر میں استعمال کی گئیں۔
تیرہویں صدی میں آباد ہونے والے اس شہر وارسا میں سابق بادشاہ کا محل، اب صدارتی محل، اور یہاں شاہی قلعہ بھی ہے۔ یہ شہر پرانا تو ہے لیکن آج بھی نیا لگتا ہے، جو اپنے کھنڈرات میں سے پھر اٹھ کر کھڑا ہوا ہے۔
ہم برستی بارش میں اس کے چوک، عظیم مارکیٹ اسکوائر، پہنچے۔ یہ مقام قابلِ دید اور دلکش ہے۔ اسی کے ساتھ ایک طویل گلی میں بازار، جسے ریئناک اسٹیئر گومائی ستا کہا جاتا ہے، واقعی محبوب کی سی جھپی جیسی لگتی تھی۔
پرانے شہر میں سینٹ جان آرک کیتھیڈرل چرچ، اس کے نیچے قریبی فاصلے پر بہتا ہوا وسولا دریا، جسے میں پولینڈ کا سندھ کہوں گا۔
مجھے یاد آیا کہ اب وارسا، جسے یہودیوں نے تعمیر کیا تھا اور پھر اپنے ہی خون سے ازسرِنو تعمیر کیا، واقعی وارسا شہر نازی قبضے کے خاتمے کے بعد یہودیوں کی لاشوں پر ازسرِنو تعمیر کیا گیا۔ وارسا ایک ہزار برسوں سے یہودی اکثریتی شہر تھا، جہاں یہودی شاعر، موسیقار، مصور، سائنس دان، آرٹسٹ، تاجر، صنعت کار، دانشور، لکھاری اور صحافی آباد تھے۔
مجھے پولینڈ کا عظیم صحافی ریشارڈ کاپوشچنسکی بھی یاد آیا، جس کی لکھی ہوئی کتاب ”شہنشاہ“ برسوں قبل پڑھی تھی، جو انقلابِ ایران، ایرانی بادشاہ رضا شاہ اور تختِ طاؤس کے عروج و زوال کی داستان بیان کرتی ہے۔
مگر میری سوئی لیخ والیسا پر اٹکی ہوئی تھی۔ میں نے وارسا میں پہلی رات اپنے ہوٹل میں پولینڈ کی ہم عصر سیاست، چاہے یورپی یونین کے سرگرم سیاسی ماہر جیکک بورسکی سے لیخ والیسا کے متعلق پوچھا۔
جیکک بورسکی ایک ادارے آئی بی ایس کا سربراہ بھی ہے، جو ہمارے ساتھ یورپ میں جدید دور کی ریڈیکلائزیشن اور انتہاپسندوں سے نبردآزما ہونے پر مجلس اور بات چیت کرنے آیا تھا۔ اس نے کہا:
”یہ بڑا اچھا سوال ہے۔ لیخ والیسا کا پولینڈ میں تبدیلیوں اور کمیونسٹ راج کے خاتمے میں اہم کردار تھا، لیکن بنیادی طور پر وہ ایک الیکٹریشن تھا، سو زیادہ دور نہیں جا سکا۔“
لیخ والیسا بھی کتنا دور جاتا؟
”یہ دیکھو، یہ ہے نا لیخ والیسا، جس کی تم کل رات بات کر رہے تھے۔“
پولش میوزیم آف جیوش ہسٹری میں آویزاں لیخ والیسا کا پورٹریٹ دکھاتے ہوئے ہماری گائیڈ لز نے مجھ سے کہا۔
پولینڈ میں پہلے دن کا ہمارا سفر وارسا میں برف باری کی ایک صبح شروع ہوا، جس کو میں نسل کشی کا سفر کہوں گا۔
بس چلتی رہی۔ بس چلنے لگی ہے۔ ہمارا میزبان یشایا وارسا میں جنم لینے والے شاعر لاکوف کمبائیلس کا وارسا کو خراجِ تحسین میں تخلیق کیا ہوا گیت ”عاشمہ عصمتون“ (گیتوں کا گیت) بجاتا ہے۔
یونانی نژاد لاکوف کمبائیلس، جو ہولوکاسٹ سے بچ نکلا تھا، اس گیت کا موسیقار تھا۔ میکس تھیوڈوراکس، جسے یونان میں انیس سو سڑسٹھ کے مارشل لا کے دوران فوجی جنتا نے جیل میں ڈال دیا تھا۔ یہ گیت کنسینٹریشن کیمپ میں قید ایک قیدی کا تھا، جو اپنی محبوبہ کی تلاش میں ہے۔
”کتنا نہ خوبصورت ہے میرا پیار
اس کے ہر روز پہنے ہوئے لباس
اس کے بالوں میں کی ہوئی کنگی
وہ کتنی نہ خوبصورت ہے
کسے خبر نہیں کہ وہ کتنی خوبصورت ہے۔“
ہماری وارسا کی پہلی صبح ہماری پہلی منزل وہ یہودی گھیٹوز تھے، جہاں نازیوں نے تمام وارسا اور پولینڈ کے دیگر شہروں سے یہودی اکٹھے کر کے زبردستی ایک جگہ بسائے تھے۔ یہ علاقہ اب جدید وارسا شہر کا حصہ ہے۔
وارسا میں یہودی دانشور، شاعر، لکھاری، موسیقار، مصور، فنکار، ڈاکٹر، انجینئر اور سائنس دان بستے تھے۔ ان کو اور دیگر یہودیوں کو یورپ کے ملکوں اور شہروں سے لا کر ان گھیٹوز میں رکھا گیا۔
یہاں سے پھر ان کی سلیکشن کر کے جوانوں، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو ٹرینوں اور لاریوں میں لاد کر کنسینٹریشن کیمپس اور گھیٹوز کے میدانوں میں جمع کیا جاتا تھا۔
ہماری گائیڈ لز بتا رہی تھی کہ انیس سو انتالیس میں جب پولینڈ پر نازیوں نے قبضہ کیا تو وارسا میں ان کے جنرل نے یہودیوں کی کونسل کو حکم دیا کہ یہودیوں کی آبادی ایک جگہ رہے گی اور شناخت کے لیے ان کو بازو پر ہر وقت سفید پٹی اور اس پر نیلے رنگ کا ستارۂ داؤدی پہن کر رکھنا پڑے گا۔
کنسینٹریشن کیمپوں میں انہیں دس دس فٹ اونچی دیواروں کے پیچھے محصور کر کے رکھا گیا۔ مردوں کو جبری مشقت پر لے جایا جاتا۔ لوگ راستوں پر فاقوں اور بیماریوں سے مرتے تھے۔ ہولوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا کے مطابق کوئی تراسی ہزار یہودی صرف فاقوں سے مر گئے۔
لز کا تعلق اسرائیل کے بڑے شہر حیفہ سے ہے۔ وہ ایک سیکولر یہودی ہیں۔ ان کا بچپن جمیکا اور نیویارک میں گزرا، لیکن اب وہ اپنے اسرائیل کے حیفہ میں رہتی ہیں۔ اب بھی وہ اس ساحلی شہر میں یہودی، مسلمان، عیسائیوں کے ہنسی خوشی اکٹھے رہنے کی معترف ہیں۔
چہ جائیکہ سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو حماس کے ہاتھوں حملے میں یرغمال بنائے گئے ایک سو اکیاسی اسرائیلی، جن میں مرد، عورتیں اور بچے شامل ہیں۔ ان یرغمالیوں میں لز کا اپنا کزن، اکہتر سالہ کوہن، بھی شامل ہے۔ اس کا ذکر بھائی لوگ نہیں کرتے۔ خیر۔




لز کہہ رہی تھی، وارسا سمیت دوسرے شہروں سے بھی کوئی چار لاکھ یہودی اکٹھے کر کے ایک جگہ پر لائے گئے۔ ان میں سے ایک لاکھ پینسٹھ ہزار کو لاریوں میں بکریوں کی طرح بھر کر ٹریبلنکا کے کیمپ لے جایا گیا، جن میں سے فقط ستر افراد زندہ بچے۔
مجھے تعجب ہے کہ یہ وہ سال تھے، جب ہٹلر تلے نازی یورپ میں یہودیوں کے کنسینٹریشن کیمپ چلا رہے تھے تو برصغیر یا غیر منقسم ہندوستان پر قابض بدیسی برطانوی حکمران سندھ میں پیر پگارو کے حُر مردوں، عورتوں اور بچوں سے محصور ”لوڑھے“ (خاردار تاروں والے باڑھ)چلا رہے تھے۔ بالکل انہی کنسینٹریشن کیمپوں کی طرز پر۔
نہ محض یہودی بلکہ نازیوں کے ہاتھوں یورپ میں روما، جپسی یعنی روما خانہ بدوش، ہم جنس پرست، غریب لوگ، محنت کش، آرٹسٹ اور شاعر بھی ہولوکاسٹ میں ہزاروں کی تعداد میں ہلاک کیے گئے۔
جولائی انیس سو بیالیس سے لے کر ستمبر انیس سو بیالیس تک دو لاکھ پینسٹھ ہزار یہودی گھیٹوز سے لاریوں میں لاد کر ٹریبلنکا پہنچائے گئے، جبکہ پینتیس ہزار یہودی گھیٹوز کی مزاحمت کے دوران مارے گئے۔
تمام وقت، میں یہ سوچتا رہا اور اب بھی سوچ رہا ہوں کہ بیسویں صدی نشاطِ ثانیہ کی صدی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم میں عالمی طاقتوں کی سیاست جو بھی تھی، اپنی اپنی جگہ، لیکن ہولوکاسٹ پر، اتنے بڑے مذبح خانوں یا قتل گاہوں پر، لاکھوں یہودیوں کی نسل کشی پر، ضمیرِ عالم یا انسانیت کہاں تھی؟
یہ گاندھی، یہ نہرو، یہ ٹیگور، یہ جارج برنارڈ شا، یہ امریکہ کا نیا ورلڈ آرڈر۔ یہ خاموشی اور مجرمانہ خاموشی کیوں تھی؟
نیو یارک اُردو پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
"`

