7 اکتوبر:کبھی فراموش نہیں
اداریہ — نیو یارک اردو
7 اکتوبر2023اسرائیل کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جس نے نہ صرف ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں بدل دیں بلکہ پوری دنیا کو دہشت گردی کی ایک ایسی ہولناک حقیقت کا سامنا کرایا جسے کسی بھی سیاسی بیانیے، نعرے یا جواز کے پردے میں چھپایا نہیں جا سکتا۔ تین برس بعد اسرائیل ایک بار پھر اس دن کی یاد میں خاموش کھڑا ہے، اپنے مقتولین کو یاد کر رہا ہے، اپنے زخمیوں اور یرغمالیوں کے خاندانوں کے دکھ کو محسوس کر رہا ہے اور اس عزم کی تجدید کر رہا ہے کہ7اکتوبر کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔
نیو یارک اردو اس موقع پر اسرائیل کے عوام،7اکتوبر کے متاثرین، سوگوار خاندانوں، زندہ بچ جانے والوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے جنہوں نے اس سانحے میں اپنے پیارے کھوئے۔ ہمارے لیے انسانی جان کی حرمت کسی قوم، مذہب یا سرحد کی محتاج نہیں۔ معصوم شہریوں کا قتل جہاں بھی ہو، جس کے ہاتھوں بھی ہو، قابلِ مذمت ہے۔
7 اکتوبر کی صبح حماس کی قیادت میں مسلح افراد نے اسرائیلی سرحدی آبادیوں پر حملہ کیا۔ گھروں میں موجود خاندان، بچے، خواتین، بزرگ اور ایک موسیقی میلے میں شریک نوجوان اس حملے کا نشانہ بنے۔ ایک ہی دن میں1200سے زیادہ افراد ہلاک کیے گئے جبکہ251افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا۔ یہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں تھی؛ یہ شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے والا دہشت گرد حملہ تھا۔
اس حقیقت کو واضح الفاظ میں تسلیم کرنا ضروری ہے: 7 اکتوبر مزاحمت نہیں تھی، معصوم شہریوں کے خلاف دہشت گردی تھی۔ کسی سیاسی شکایت، قبضے، تنازع یا تاریخی المیے کو بچوں، خاندانوں، بزرگوں اور عام شہریوں کے قتل کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ ظلم کو اس لیے درست نہیں کہا جا سکتا کہ ظالم اپنے عمل کے لیے کوئی سیاسی عنوان استعمال کرے۔
تین سال بعد اسرائیل کے مختلف شہروں، قصبوں اور متاثرہ علاقوں میں منعقد ہونے والی یادگاری تقریبات اس بات کا اظہار ہیں کہ قومی سانحات صرف تاریخ کی کتابوں میں محفوظ نہیں ہوتے۔ وہ لوگوں کے گھروں، خاندانوں، یادوں اور اجتماعی شعور میں زندہ رہتے ہیں۔6:29بجے کا خاموش لمحہ، ریئم کے مقام پر روشن کی جانے والی شمعیں، یادگاری تقریبات اور سوگوار خاندانوں کی آوازیں ایک ہی پیغام دیتی ہیں: یاد رکھو۔
نیو یارک اردو سمجھتا ہے کہ “Never Forget” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ بھول جانا صرف ماضی سے بے وفائی نہیں بلکہ مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف بھی ہے۔ اگر دنیا معصوم شہریوں کے قتل کو معمول سمجھنے لگے، اگر دہشت گردی کو سیاسی ضرورت کا نام دے دیا جائے، اور اگر متاثرین کے دکھ کو کسی نظریاتی بحث میں دبا دیا جائے تو اس سے آنے والی نسلوں کے لیے ایک انتہائی خطرناک مثال قائم ہوگی۔
اس موقع پر اسرائیل کے ان خاندانوں کو بھی یاد کرنا ضروری ہے جن کے لیے7اکتوبر کا مطلب آج بھی ایک خالی کرسی، ایک بند دروازہ، ایک تصویر، ایک نام اور ایک ایسی یاد ہے جو وقت گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوئی۔ ان کے غم کو کسی سیاسی بحث کا حاشیہ نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ انسانی دکھ ہے اور انسانی دکھ کا احترام ہر مہذب معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح وہ زندہ بچ جانے والے بھی ہماری توجہ کے مستحق ہیں جو جسمانی اور ذہنی زخم اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ دہشت گردی کا اثر صرف اس لمحے تک محدود نہیں رہتا جب گولیاں چلتی ہیں یا لوگ اغوا کیے جاتے ہیں۔ اس کے اثرات برسوں تک خاندانوں، بچوں، کمیونٹیز اور پوری قوم کے اجتماعی حافظے میں موجود رہتے ہیں۔
اسرائیل کی یادگاری تقریبات میں صرف ریاستی ادارے ہی نہیں بلکہ عام شہری، متاثرہ خاندان، سماجی تنظیمیں، اسپتال، جامعات، بلدیاتی ادارے اور مختلف طبقات شریک ہو رہے ہیں۔ یہ شرکت اس بات کی علامت ہے کہ7اکتوبر کا سانحہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک قومی انسانی المیہ بن چکا ہے۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی یادگاری تقریب میں اسرائیل کے مقتولین اور جنگ میں جان دینے والے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اسرائیل اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے مضبوط اور متحد رہے گا۔ ان کی تقریر میں اسرائیل کی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جنگ، یرغمالیوں کی واپسی اور خطے میں امن کے امکانات جیسے موضوعات نمایاں رہے۔
نیو یارک اردو کسی بھی حکومت کی ہر پالیسی کو بلاشرط درست قرار دینے کے بجائے ایک بنیادی اصول پر قائم ہے: معصوم شہریوں کے قتل کی مذمت اصولی ہونی چاہیے، سیاسی مصلحت پر مبنی نہیں۔ اسی اصول کے تحت7اکتوبر کے متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا اسرائیلی حکومت کی ہر پالیسی کی تائید نہیں بلکہ دہشت گردی کے شکار انسانوں کے ساتھ انسانی یکجہتی کا اظہار ہے۔
ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف اخلاقی وضاحت کے ساتھ ساتھ خطے میں پائیدار امن، سلامتی، انسانی وقار اور سیاسی حل کی کوشش بھی جاری رہنی چاہیے۔ اسرائیلی اور فلسطینی دونوں عوام کے لیے ایسا مستقبل ضروری ہے جس میں عام شہری خوف، اغوا، راکٹ، جنگ اور انتقام کے دائروں سے آزاد ہو کر زندگی گزار سکیں۔
لیکن امن کی خواہش کا مطلب یہ نہیں کہ ماضی کے جرائم کو بھلا دیا جائے۔ حقیقی امن سچائی، انصاف، جواب دہی اور انسانی جان کے احترام پر قائم ہوتا ہے۔ دہشت گردی کی مذمت کیے بغیر امن کا مطالبہ کھوکھلا رہتا ہے، اور متاثرین کو یاد کیے بغیر مفاہمت کا تصور بھی ادھورا ہے۔
7 اکتوبر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ انتہا پسند نظریات صرف سرحدوں کو نہیں بلکہ معاشروں کے اخلاقی ڈھانچے کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ جب کسی انسان کے قتل پر جشن منایا جائے، جب اغوا کو کامیابی سمجھا جائے اور جب معصوموں کی تکلیف کو نظریاتی فتح کا عنوان دیا جائے تو پوری دنیا کو اس ذہنیت کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔
آج نیو یارک اردو اسرائیل کے ان تمام شہریوں کے ساتھ کھڑا ہے جو7اکتوبر کے بعد اپنے پیاروں کی یاد لیے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم متاثرہ خاندانوں کے غم کو تسلیم کرتے ہیں، زندہ بچ جانے والوں کی استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان تمام لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے دوسروں کی جان بچانے کی کوشش میں اپنی جانیں قربان کیں۔
7 اکتوبر کو یاد رکھنا کسی قوم کے خلاف نفرت نہیں؛ یہ دہشت گردی کے خلاف انسانی ضمیر کی گواہی ہے۔
دنیا کو یہ سبق کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا کسی مقصد کو جائز نہیں بناتا۔ نہ مذہب اس کا جواز ہے، نہ سیاست، نہ تاریخ اور نہ مزاحمت کا نام۔
شمعیں جلتی رہیں، نام پڑھے جاتے رہیں، یادیں محفوظ رہیں اور سچ بیان ہوتا رہے۔ کیونکہ یادداشت صرف ماضی کو محفوظ نہیں کرتی؛ وہ مستقبل کی حفاظت بھی کرتی ہے۔
ہم نہیں بھولیں گے۔
کبھی نہیں۔
نیویارک اردو — دہشت گردی کے خلاف، انسانی جان کے احترام اور امن کے حق میں۔

