سات اکتوبر:اسرائیل پر حماس کے دہشتگرد حملے
اک حسین یہودی گاؤں اور قتل عام کی کہانی
یہ جنوب اسرائیل کا گاؤں غزہ سے کوئی بمشکل پندرہ منٹ مفاصلے پر ہوگا۔ سات کلو میٹر۔ یہ ایک بہت ہی خوبصورت خوابناک گاؤں تھا جس میں میں زیادہ تر سیکولر اسرائیلی بائیں بازو کے ادیب، مصنف، آرٹسٹ، ایکٹوسٹ، موسیقار، اداکار، اور سائنسدان رہتے تھے۔ اکثر جنگ مخالف لوگ، ان میں سے بھی اچھی خاصی تعداد فلسطینیوں کے حامیوں کی۔ کئی لوگ غزہ میں ایمبولینس سروسز، غزہ سے بیماروں کو اسرائیل کے ہسپتالوں میں علاج معالجے کو پہنچانے کو۔ کئی سوشلسٹ اسرائیلی مرد اور خواتین بھی۔ بقول شخصے یہ گاؤں صیہونیت اور سوشلزم کا سنگم تھا۔ جانور اور انسان دوست گاؤں۔ یہ گاؤں اسرائیل میں اشتراک باہمی کی بنیاد پر بنی بستیوں کا حصہ تھا جنہیں “کبٹز” کہا جاتا ہے۔
Kibbutzim
بس حبیب جالب کے اس شعر جیسا گاؤں:
اک حسین گاؤں تھا کنارہ آب۔
اور کبٹز تلے ایسی آباد کی ہوئی تازہ بستیوں کو اسرائیل میں لوگ یوٹوپیائی بستیاں بھی کہا کرتے۔
اگرچہ غزہ سے ماضی میں اس گاؤں پر بم حملے بھی ہوئے تھے اور ان سے محفوظ رہنے کو انہوں نے بم شیلٹر بھی تعمیر کیے تھے لیکن پھر بھی نر اوزی میں کئی لوگ تھے جو فلسطینیوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ وہ فلسطینیوں اور دہشتگرد حماس میں فرق کرتے تھے۔ زندگی باہمی اشتراک رہنے کا یہ عالم تھا کہ ہر روز رات کا کھانا گاؤں کے سب لوگ اکٹھے ایک ڈائننگ ہال میں کھاتے تھے جہاں دن بھر کے حال احوال گپ شپ لگتے۔ مالی طور اپنے ہم گاؤں باسی کی مل جل کر مالی حالت بہتر کرنے میں مدد کرتے جس کی مالی حالت کمزور ہوتی۔ مثال طور اگر کسیے کار کی ضرورت ہوتی اسے باقی سب استطاعت رکھنے والے لوگ پیسے اکٹھے کر کر کار دلاتے۔ یہ جدی پشتی اکثر ترقی پسند لوگ تھے۔ یہ ایک خوابیدہ اسرائیلی بستی غزہ کے بازو میں کھیتوں اور درختوں میں گھرے گھر اور دیگر عمارتیں، درختوں والی دورویہ سڑکیں خاردار باڑھ کے ساتھ، جس کے پار غزہ تھا دنیا کی سب سے بڑی گنجان آبادی والی پٹی۔ اور خاردار باڑھ کی پرلے پانچ سو نفوس پر مشتمل بستی نر اوزی۔
مگر میں جب سال دو ہزار چوبیس کے دسمبر کی نہ اتنی گرم نہ اتنی سرد صبح ہم ایک کوچ میں یروشلم سے نر اوزی کی طرف عازم سفر تھا تو ہمیں ہمارے میزبانوں نے بتایا کہ دوران سفر اگر ہم سائرن کی آواز سنیں تو دس سیکنڈ کے اندر گاڑی کو چھوڑ کر قریبی بم شیلٹر میں چلے جائیں اور وہاں دس منٹ تک رہیں۔ یہ اسرائیل پر غزہ، لبنان اور یمن سے برستے ہوئے میزائلوں کا زمانہ تھا۔ اور ہم اسرائیل کے جنوب میں غزہ کی سرحد کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ اس سے دو راتیں پہلے یروشلم میں بھی سائرن بجے تھے۔ میرے ہوٹل کے کمروں سے لوگ نکل کر ہوٹل کی سیڑھیوں کے حصے یا قریبی شیلٹر میں آ کر پناہ لیے۔ لیکن میں تو اپنے خواب کے گھوڑے بیچے سو رہا تھا۔ یہ واردات اگلی صبح میرے ساتھیوں نے ناشتے کی میز پر مجھے بتائی۔ میرا اور میری نیند کا روٹھے منتے محبوب کا سا تعلق ہے۔ نہ آئے تو جیسے رائٹرز بلاک، اگر آ جائے تو میدان جنگ میں بھی آ جائے۔ میری ایک نظم کی سطر ہے:
نیند سے روٹھی ہوئی لڑکی ندی سے ملنا چاہتی ہے۔
خیر۔
اب نر اوزی پہنچتے وہاں فوجی چوکی پر اسرائیلی سپاہیوں نے ہمارے کوچ کو روکا۔ ہمارے بنے ہوئے دوست اور کوچ کے ڈرائیور ساگی اور میزبانوں سے کچھ سوالات کے بعد ہمیں جانے دیا۔
اب یہ حسین گاؤں ایسا لگتا تھا کہ بھونچال کے بعد کا منظر پیش کر رہا تھا۔
غزہ کی سرحد پر واقع یہ گاؤں نر اوزی خاموشی کا کفن پہنے ہوئے تھا۔ بالکل جیسے پروین شاکر نے کہا تھا:
“ہوا میں کچے گلاب جلنے کی کیفیت ہے”
جیسا تھا۔
یہ اسرائیلی گاؤں بھی سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو حماس کے حملے کا بدترین نشانہ بننے والی آبادیوں، شہروں، گوٹھوں میں سے ایک تھا۔
لیکن اس بستی پر تو چاروں طرف سے حملہ ہوا تھا۔
غزہ سے حملہ آور ٹرکوں، ڈالوں، جیپوں، موٹر سائیکلوں، حتیٰ کہ بلڈوزروں، اور پیدل آئے۔ حماس کے قاسم بریگیڈ کے تربیت یافتہ اور سیویلین لوٹ مار کرنے والے ساتھ ساتھ آئے۔ انہوں نے پہلے نر اوزی کی خاردار باڑھ کاٹ کر وہاں موجود فوجی چوکی پر حملہ کیا اور پھر لوگوں کے گھروں پر۔ اکثر لوگ ابھی اپنے بستروں میں ہی تھے۔ کچھ اپنے کتوں کو ٹہلانے نکلے تھے۔ کچھ کافی بنانے۔ یہ حملہ اسرائیل کے جنوب میں بڑے چھوٹے شہروں پر ایک ہی وقت منظم کوآرڈینیٹڈ طریقے سے ہوا۔ جیسے حیدرآباد سندھ میں تیس ستمبر انیس سو اٹھاسی سے ملتا جلتا۔
سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے حملے قریبی شہر صدرت اور نووا میں موسیقی کے فیسٹول اور نر اوزی سمیت آدھے درجن ایسی کبٹز بستیوں جنہیں غزہ کا لفافہ کہا جاتا ہے میں ایک ہی وقت قتل عام ہوا، مشین گنوں، اے کے فورٹی، راکیٹوں اور دستی بموں سے۔ قتل عام ہوئے۔ حماس کی ایسی دہشتگردی میں کوئی بارہ سو اسرائیلی مرد، بچے، بڑے، بوڑھے، حتیٰ کہ شیرخوار تک ہلاک ہوئے۔ اس قتل عام میں قتل ہونے والوں کی تعداد بارہ سو اور اغوا ہونے والوں کی تعداد دو سو اکاون تھی۔ جن میں سے اب بھی حماس کے پاس پچاس کے قریب یرغمالی غزہ میں تھے۔ باقی زندہ تھے کہ مردہ کا یقین ان کے لواحقین کو بھی نہیں تھا۔ صرف نر اوزی کے قتل عام میں سینتالیس قتل ہوئے جن میں چار فوجی بھی تھے۔ نر اوزی کے باقی بچے ہوئے باسیوں نے اس حملے کے شکار مکینوں کے گھروں پر مختلف رنگوں کے نشان لگائے ہوئے ہیں۔ جو بتاتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہوئے، زخمی ہوئے کہ اغوا ہو کر یرغمال۔ نر اوزی میں حملہ آوروں نے گھروں پر اپنی دہشتگردانہ کارروائیوں کی گھر کے مالکوں کے موبائل فونوں سے ویڈیو بنائی اور وہاں سے لائیو بھی کی۔
جہاں لوگ ہر روز رات کا کھانا جس ڈائننگ روم یا طعام گاہ میں اکٹھا کھاتے تھے اسے بھی گولیاں برسا کر تباہ کردیا۔
اس گاؤں کو ظاہر ہے حکومت نے حملے سے بچنے والے باسیوں سے خالی کروا دیا۔
“غزہ کے فلسطینیوں نے مجھے مایوس کیا۔ لیکن میں اس کا ذمہ دار اپنے وزیر اعظم کو سمجھتی ہوں۔ اسے جتنا جلدی ہو سکے جنگ بند کروانی اور یرغمالی واپس گھروں کو لانے چاہئیں۔ میں آئندہ انتخابات میں نیتن یاہو کو ووٹ نہیں دوں گی۔”
سات اکتوبر کے حملے کے متاثر تقریباً ہر گھر سے عورت یا مرد یا بچہ اغوا بھی ہوا۔ یرغمالیوں کے لواحقین اور اقارب یروشلم میں وزیر اعظم ہاؤس، پارلیمان اور تل ابیب سمیت کئی شہروں میں دھرنے دیے دن رات احتجاج کر رہے تھے۔
میرے پسندیدہ فرانسیسی فلسافر اور صحافی برنارڈ ہینری لیوی کے نر اوزی جیسی سات اکتوبر کے حملوں تلے آئی بستیوں کے بارے میں لکھے الفاظ کہ جگہیں اور بیر بہوٹے تو خاموش اور پرسکون راستوں پر کھڑے تھے لیکن پرندوں اور انسانوں کی آوازیں غائب تھیں۔ لیکن ان جگہوں اور درختوں تلے اب لاوارث اور یتیم بلیاں اپنے مالکان اور مالکنوں کو پکارتی اور ڈھونڈھتی پھر رہی تھیں۔

