نیویارک میں نصف سے زائد نفرت انگیز جرائم یہودیوں کے خلاف
نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ(NYPD)کے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق2026کے پہلے نو ماہ کے دوران شہر میں تصدیق شدہ نفرت انگیز جرائم کے نصف سے زائد واقعات یہودیوں کے خلاف پیش آئے۔ یہ اعدادوشمار اسرائیل میں حماس کے زیر قیادت7اکتوبر کے حملے کے تین سال بعد بھی یہود دشمنی کے حوالے سے برقرار تشویش کو نمایاں کرتے ہیں۔
نیویارک پولیس کے مطابق جنوری سے ستمبر تک یہودیوں کے خلاف نفرت انگیزی کے245تصدیق شدہ واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس عرصے میں شہر بھر میں درج ہونے والے نفرت انگیز جرائم کے مجموعی463واقعات کا52.9فیصد ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ نیویارک شہر کی آبادی کا تقریباً10فیصد ہونے کے باوجود یہودی برادری تصدیق شدہ نفرت انگیز جرائم میں نشانہ بننے والوں کے نصف سے زیادہ حصے کی نمائندگی کرتی ہے۔
نیویارک پولیس کمشنر جیسیکا ٹِش نے شہر میں جرائم سے متعلق بریفنگ کے دوران کہا، ”سب سے نمایاں رجحان بدستور یہود دشمنی پر مبنی نفرت انگیز جرائم ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ اعدادوشمار انتہائی تشویش ناک ہیں۔“
یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں2025کے اسی عرصے کے مقابلے میں1.2فیصد اضافہ ہوا، جب ایسے242واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے۔ دوسری جانب، شہر میں مجموعی تصدیق شدہ نفرت انگیز جرائم کی تعداد410سے بڑھ کر463ہوگئی، جو12.9فیصد اضافہ ہے۔
یہودیوں کے خلاف جرائم اور نفرت انگیزی کی دیگر اقسام کے درمیان فرق بھی نمایاں رہا۔ جنسی رجحان کی بنیاد پر ہونے والے نفرت انگیز جرائم کی دوسری سب سے بڑی قسم میں52تصدیق شدہ واقعات سامنے آئے، یعنی یہودیوں کے خلاف ایسے جرائم کی تعداد اس سے تقریباً پانچ گنا تھی۔
مجموعی جرائم میں کمی کے باوجود یہود دشمنی میں اضافہ
یہود دشمنی سے متعلق اعدادوشمار نیویارک شہر میں مجموعی جرائم کی صورتحال سے مختلف رجحان ظاہر کرتے ہیں۔
نیویارک پولیس کے مطابق2026کے پہلے نو ماہ میں سنگین جرائم میں6.6فیصد کمی آئی، جبکہ قتل کے واقعات تقریباً20فیصد کم ہوئے۔ پولیس کے مطابق ریکارڈ مرتب کیے جانے کے بعد کسی بھی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران قتل، فائرنگ کے واقعات اور فائرنگ سے متاثرہ افراد کی تعداد اپنی کم ترین سطح پر رہی۔
تاہم، نفرت انگیز جرائم کا رجحان اس کے برعکس رہا اور ان میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
نیویارک پولیس نے یہودی اداروں، خصوصاً عبادت گاہوں اور دیگر حساس مقامات کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی ہے۔ حالیہ یہودی مذہبی ایام کے دوران پولیس نے غیر معمولی تعداد میں اہلکار تعینات کیے، جنہوں نے شہر بھر میں تقریباً تمام یہودی عبادت گاہوں کی سکیورٹی کا احاطہ کیا۔
”7 اکتوبر کی تیسری برسی کے موقع پر ہم یہودی اداروں سے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ انہیں اپنی حفاظت کے لیے تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، بلکہ نیویارک پولیس ان کے ساتھ ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر موجود رہے گی۔“
— جیسیکا ٹِش، نیویارک پولیس کمشنر
حالیہ واقعات نے تشویش میں اضافہ کیا
ستمبر میں حکام نے برونکس سے تعلق رکھنے والے48سالہ شخص کو گرفتار کیا، جس پر الزام ہے کہ اس نے کراؤن ہائٹس میں بظاہر یہودی شناخت رکھنے والے ایک شخص کا چاقو کے ساتھ پیچھا کیا اور نازی نعرہ لگایا۔
اس سے چند ہفتے قبل مین ہیٹن کی سینٹرل سناگاگ میں جمعے کی شب عبادت کے دوران ایک حملہ آور نے مبینہ طور پر تقریب میں خلل ڈالا، ایک عبادت گزار کو مارا، عبادت گاہ کی املاک کو نقصان پہنچایا اور ایک سکیورٹی گارڈ پر حملہ کیا۔
شہر کے حکام نے تسلیم کیا ہے کہ خطرات صرف سڑکوں پر ہراساں کیے جانے تک محدود نہیں ہیں۔ ستمبر میں سکیورٹی سے متعلق بریفنگ کے دوران جیسیکا ٹِش نے کہا کہ انٹیلی جنس حکام7اکتوبر2023کے بعد سے نیویارک میں یہودی اداروں کو نشانہ بنانے والی دھمکیوں کی نگرانی کرتے رہے ہیں اور مبینہ منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے بھی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
یہود دشمنی کے خلاف نئی حکمت عملی
نیویارک شہر کی انتظامیہ نے حال ہی میں یہود دشمنی کے خلاف اپنی پہلی جامع بلدیاتی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نفرت انگیز جرائم کی روک تھام اور متاثرین کی معاونت کے لیے64لاکھ ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جبکہ یہودی عبادت گاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کی سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے مزید10لاکھ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
تازہ اعدادوشمار کے مطابق شہر میں مجموعی سنگین جرائم میں کمی کے باوجود یہودیوں کے خلاف نفرت انگیزی ایک اہم سکیورٹی اور سماجی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ پولیس کی جانب سے عبادت گاہوں کی حفاظت، مبینہ خطرات کی نگرانی اور نفرت انگیز جرائم کی روک تھام کے اقدامات کو اس مسئلے سے نمٹنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

