• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » نوی پلے کا نوبیل انعام اور ہارورڈ پر تنقید
فیچرڈ

نوی پلے کا نوبیل انعام اور ہارورڈ پر تنقید

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 11, 2026Updated:اکتوبر 11, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔12 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
نیویارک اُردو⁦|⁩عالمی سیاست، جامعات اور انسانی حقوق

نوبیل امن انعام، نوی پلے اور ہارورڈ⁦:⁩اسرائیل مخالف مؤقف پر نئی بحث

نوی پلے کے اعزاز اور ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے اپنی سابق طالبہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے پر اسرائیل نواز اور یہودی تنظیموں کی تنقید؛ انسانی حقوق، غیر جانب داری اور جامعات کی ادارتی ذمہ داری سے متعلق سوالات زیرِ بحث۔

مرکزی سوال

کیا کسی ممتاز اعزاز یافتہ شخصیت کی تعلیمی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے اس کے متنازع سیاسی مؤقف اور اس پر ہونے والی تنقید کو بھی مناسب جگہ دینی چاہیے؟ یہی سوال نوی پلے، ہارورڈ یونیورسٹی اور اسرائیل سے متعلق موجودہ تنازع کے مرکز میں ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے نوبیل امن انعام یافتہ نوی پلے کو اپنی سابق طالبہ کے طور پر سراہنے پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اس اعزاز اور یونیورسٹی کے تعریفی انداز پر اسرائیلی قیادت اور متعدد یہودی تنظیموں نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان ناقدین کا مؤقف ہے کہ پلے کے اسرائیل سے متعلق بیانات اور اقوام متحدہ میں ان کے کردار کو نظرانداز کرکے انہیں غیر مشروط طور پر سراہنا ایک اہم سیاسی اور اخلاقی بحث کو ادھورا چھوڑ دیتا ہے۔

اس تنازع میں دو بنیادی معاملات ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں⁦:⁩اول، اسرائیل کے خلاف انسانی حقوق اور نسل کشی سے متعلق الزامات پر جاری اختلاف؛ دوم، ہارورڈ جیسے تعلیمی ادارے کی ذمہ داری کہ وہ اپنی نمایاں شخصیات کی کامیابیوں کا ذکر کرتے وقت متنازع پہلوؤں اور مخالف آرا کو کس حد تک جگہ دیتا ہے۔

نیتن یاہو کی سخت تنقید

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے نوی پلے کے نوبیل امن انعام پر سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ ان سے منسوب بیان میں پلے کو ایسی شخصیت قرار دیا گیا جس نے اسرائیل کے خلاف، ان کے بقول، خونریزی سے متعلق قدیم الزام تراشی کی جدید شکل کو فروغ دیا۔ نیتن یاہو نے نوبیل کمیٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اخلاقی سمت کھو دی ہے۔

یہ الزامات اسرائیلی حکومت اور اس کے حامیوں کے اس وسیع تر مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات سیاسی طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں اور ان سے یہودی ریاست کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے انسانی حقوق کے کارکن اور ادارے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ریاستی اقدامات کی قانونی و اخلاقی جانچ انسانی حقوق کے نظام کا بنیادی حصہ ہے۔

اختلاف کا بنیادی نکتہ

اسرائیل کے ناقدین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قانون کے اطلاق پر زور دیتے ہیں، جبکہ اسرائیلی حکومت اور اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بعض الزامات اسرائیل کو تنہا کرنے اور اس کی قانونی حیثیت کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ کسی مخصوص الزام کی صحت کا تعین شواہد، قانونی معیار اور متعلقہ تحقیقات کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کی تحقیقات اور غیر جانب داری پر اعتراضات

اقوام متحدہ کے معاملات پر نظر رکھنے والی تنظیم UN Watch کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہلیل نوئر نے بھی پلے پر تنقید کی۔ ان کے مطابق پلے نے جون⁦2020⁩میں ایک ایسے منشور پر دستخط کیے تھے جس میں حکومتوں سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نوئر نے بعد میں اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی قبول کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس تقرری سے غیر جانب داری کے اصول پر سوالات پیدا ہوئے۔

نوئر نے پلے کے اعزاز کا موازنہ اقوام متحدہ کے خواتین کے حقوق کے کمیشن میں آیت اللہ کی انتخابی کامیابی سے کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا۔ یہ بیان ان کی تنظیم کے سخت مخالفانہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے؛ اسے ایک سیاسی تنقید کے طور پر سمجھنا چاہیے، نہ کہ کسی غیر جانب دار ادارے کا فیصلہ۔

پلے کے ناقدین کا استدلال ہے کہ اگر کوئی عہدیدار پہلے ہی کسی ریاست کے خلاف پابندیوں یا سخت اقدامات کی حمایت کر چکا ہو تو اس کے بعد اسی ریاست سے متعلق تحقیقات کی قیادت کرتے وقت مفادات کے ممکنہ تصادم اور غیر جانب داری کے بارے میں وضاحت ضروری ہو جاتی ہے۔ تاہم کسی کمیشن کی غیر جانب داری کا حتمی جائزہ اس کے اختیارِ کار، طریقۂ کار، شواہد کے استعمال اور نتائج کی جانچ سے کیا جانا چاہیے۔

امریکی یہودی تنظیموں کا ردِعمل

امریکہ کی بڑی یہودی تنظیموں کی کانفرنس نے بھی پلے کو ملنے والے اعزاز کی مذمت کی۔ تنظیم کے بیان میں الزام لگایا گیا کہ پلے کی سربراہی میں قائم کمیشن نے نسل کشی کے تصور کو اسرائیل کے خلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور انسانی حقوق کی زبان کو سیاسی جنگ کا ذریعہ بنایا۔

اس تنظیم کے مطابق نوبیل کمیٹی نے امن کے قیام میں کردار ادا کرنے والی شخصیت کو انعام دینے کے بجائے ایسی شخصیت کو نوازا جس کے مؤقف سے، اس کے خیال میں، تعصب کو تقویت ملتی ہے۔ یہ بیان اسرائیل نواز یہودی حلقوں کے ردِعمل کو نمایاں کرتا ہے، لیکن اسے تمام یہودیوں یا تمام انسانی حقوق کے اداروں کی متفقہ رائے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر یہودی برادریوں کے اندر بھی مختلف سیاسی اور اخلاقی مؤقف پائے جاتے ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی نے پلے کو کیسے پیش کیا؟

ہارورڈ یونیورسٹی کے اپنے اشاعتی پلیٹ فارم، ہارورڈ گزٹ، نے طلبہ، عملے، اساتذہ اور متعدد سابق طلبہ کو ایک ای میل بھیجی جس کے عنوان میں نوبیل انعام ایک سابق طالبہ کو ملنے کا ذکر تھا۔ اس کے ساتھ شائع ہونے والی تحریر میں پلے کو تجربہ کار انسانی حقوق کی علمبردار اور ایک نمایاں راہ ہموار کرنے والی شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا۔ مضمون میں انہیں ایک سخت مگر منصف مزاج جج اور ماہر سفارت کار بھی قرار دیا گیا۔

نوی پلے نے ہارورڈ لا اسکول سے⁦1982⁩میں ایل ایل ایم اور⁦1988⁩میں ایس جے ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔ یونیورسٹی کی تحریر میں ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابیوں کو نمایاں کیا گیا، تاہم ناقدین کا اعتراض یہ ہے کہ اس تعریفی خاکے میں ان کے متنازع اسرائیل مخالف مؤقف اور اس پر ہونے والی تنقید کو خاطر خواہ جگہ نہیں دی گئی۔

اس تنازع کا ایک پہلو ادارتی انتخاب سے متعلق ہے۔ کسی یونیورسٹی کا اپنے سابق طالب علم کی کامیابی پر فخر کرنا معمول کی بات ہے، لیکن جب اس شخصیت کا عوامی کردار شدید سیاسی اختلاف کا موضوع ہو تو یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا تعریفی مضمون میں متعلقہ اختلافات کا ذکر ہونا چاہیے، خصوصاً جب ادارہ خود کیمپس میں آزادانہ مکالمے اور فکری تنوع کو اہمیت دینے کا دعویٰ کرتا ہو۔

2001 کی ڈربن کانفرنس اور ہارورڈ میں پلے کی تقریر

ہارورڈ کی پروفائل میں دسمبر⁦2022⁩میں ہارورڈ لا اسکول میں پلے کی ایک گفتگو کی ویڈیو بھی شامل تھی۔ اس گفتگو میں انہوں نے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے لیے فنڈنگ کم کرنے کی کوششوں کا الزام اسرائیل پر عائد کیا اور⁦2001⁩کی ڈربن کانفرنس کو کامیاب قرار دینے کے انداز میں بات کی۔ انہوں نے اس اعتراض کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس میں کانفرنس کو اسرائیل مخالف قرار دیا گیا تھا۔

2001 کی ڈربن کانفرنس اقوام متحدہ کی عالمی کانفرنس برائے نسل پرستی، نسلی امتیاز، اجنبیوں سے نفرت اور عدم برداشت تھی۔ یہ کانفرنس اپنے بعض مباحث اور اسرائیل سے متعلق قراردادوں و بیانات کے باعث طویل عرصے سے تنازع کا موضوع رہی ہے۔ ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے امریکی کانگریس مین ٹام لینٹوس نے اس کانفرنس کے ماحول کو یہودیوں کے خلاف نفرت کے حوالے سے انتہائی سنگین قرار دیا تھا، جبکہ دیگر حلقوں نے کانفرنس کو نسل پرستی اور امتیاز کے عالمی مسائل پر توجہ دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا۔

اینٹی ڈیفیمیشن لیگ نے بھی ڈربن کانفرنس پر تنقید کی ہے اور اسے یہود دشمنی کے اظہار سے جوڑا ہے۔ اس پس منظر میں پلے کا کانفرنس کے دفاع میں بات کرنا اسرائیل نواز تنظیموں کی تنقید کا ایک اہم سبب بنا۔ دوسری جانب کسی بین الاقوامی کانفرنس کے تمام شرکا، مباحث اور نتائج کو ایک ہی سیاسی تعبیر میں سمیٹنے کے بجائے اس کے مخصوص بیانات، دستاویزات اور تاریخی سیاق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

ڈربن کانفرنس کیوں متنازع رہی؟

  • کانفرنس کا بنیادی موضوع نسل پرستی اور نسلی امتیاز کے خلاف عالمی کوششیں تھا۔
  • اسرائیل سے متعلق بعض بیانات اور سرگرمیوں پر یہودی تنظیموں نے سخت اعتراضات کیے۔
  • اس کانفرنس کی تاریخی اہمیت اور سیاسی میراث کے بارے میں مختلف حلقوں کے مؤقف آج بھی مختلف ہیں۔

ہارورڈ، یہود دشمنی اور وفاقی فنڈنگ کا تنازع

یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہارورڈ یونیورسٹی کو کیمپس میں یہود دشمنی اور اسرائیل مخالف تعصب سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر قانونی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ مضمون کے مصنف نے اس صورتِ حال کو وفاقی فنڈنگ سے متعلق اربوں ڈالر کے تنازع کے تناظر میں پیش کیا اور ان عدالتی ریمارکس کا حوالہ دیا جن میں ہارورڈ کی جانب سے یہودی طلبہ کے تحفظ اور شکایات سے نمٹنے کے طریقوں پر سخت سوالات اٹھائے گئے تھے۔

مصنف کے مطابق اگر یونیورسٹی اپنی ساکھ اور وفاقی فنڈنگ کے معاملات میں اعتماد بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے یہودی طلبہ کے خدشات اور اسرائیل سے متعلق اختلافات کو نظرانداز کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ فرق بھی برقرار رہنا چاہیے کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید، بذاتِ خود، یہود دشمنی نہیں؛ البتہ یہودیوں کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرانا، یہودی مخالف سازشی نظریات کو فروغ دینا یا یہودی طلبہ کو ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا الگ نوعیت کے مسائل ہیں۔

مضمون میں ہارورڈ کے صدر ایلن گاربر کے کاروباری کردار اور فارماسیوٹیکل کمپنی⁦Vertex⁩میں ان کی معاوضے اور حصص کی ملکیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف نے ان تفصیلات کو یونیورسٹی کی قیادت کی ترجیحات پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کیا۔ تاہم کسی عہدیدار کے بیرونی کاروباری مفادات کا ذکر بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس نے کسی مخصوص معاملے کو نظرانداز کیا؛ اس نتیجے کے لیے متعلقہ شواہد درکار ہوں گے۔

نوبیل امن انعام پر وسیع تر تنقید

اصل مضمون میں نوبیل امن انعام کے سابق وصول کنندگان، بشمول یاسر عرفات اور باراک اوباما، کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ اس اعزاز کے انتخاب ہمیشہ متفقہ طور پر قابلِ قبول نہیں رہے۔ مصنف نے اوباما کی ایران پالیسی، جوہری معاہدے اور شام کی جنگ کے حوالے سے بھی تنقید کی ہے۔

یہ دلائل مصنف کی سیاسی رائے کا حصہ ہیں۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حامی اسے جوہری پروگرام پر پابندیوں اور نگرانی کے ذریعے خطرات محدود کرنے کی کوشش قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ ناقدین نے اس کی مدت، نفاذ اور علاقائی سلامتی پر اثرات کے بارے میں اعتراضات اٹھائے۔ اسی طرح شام کی جنگ کے بارے میں مختلف فریقوں کی ذمہ داریوں اور بین الاقوامی ردِعمل پر الگ الگ تاریخی اور سیاسی تجزیے موجود ہیں۔

نوبیل امن انعام کے فیصلوں پر اختلاف نئی بات نہیں، مگر کسی اعزاز یافتہ شخصیت کی پالیسیوں سے اختلاف اور اس کی تمام خدمات کو رد کرنے کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح کسی شخصیت کو انعام ملنے سے اس کے تمام سیاسی بیانات یا ادارہ جاتی کردار خود بخود غیر متنازع نہیں ہو جاتے۔

ماریا ریسا اور ہارورڈ کی اپنی ٹاسک فورس کی رپورٹ

مضمون میں⁦2021⁩کی نوبیل امن انعام یافتہ ماریا ریسا کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جنہیں ہارورڈ سے اعزازی ڈگری ملی اور جنہوں نے⁦2024⁩کی ہارورڈ تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کیا۔ مضمون کے مطابق ہارورڈ کی اپنی یہود دشمنی اور اسرائیل مخالف تعصب سے متعلق ٹاسک فورس نے ان کے خطاب کے بعض حصوں کو یہودیوں، دولت اور طاقت کے بارے میں روایتی سازشی نظریات سے مشابہ قرار دیا تھا۔ رپورٹ میں ان ریمارکس کو بظاہر یہود مخالف قرار دیے جانے کا ذکر بھی موجود تھا۔

اس مثال کو مصنف نے اپنی اس دلیل کے حق میں پیش کیا کہ ہارورڈ کے اندر یہود دشمنی اور اسرائیل سے متعلق متنازع بیانات کا مسئلہ صرف ایک فرد یا ایک تقریب تک محدود نہیں۔ تاہم کسی بیان کی نوعیت کا تعین اس کے مکمل متن، سیاق و سباق اور متعلقہ رپورٹ کے دلائل کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے۔

اصل مسئلہ⁦:⁩تعلیمی آزادی، غیر جانب داری اور یکساں معیار

نوی پلے اور ہارورڈ سے متعلق تنازع کئی اہم سوالات سامنے لاتا ہے۔ کیا یونیورسٹیوں کو اپنے سابق طلبہ کی کامیابیوں کا جشن مناتے وقت ان کے متنازع عوامی کردار کا بھی ذکر کرنا چاہیے؟ انسانی حقوق کی تحقیقات میں غیر جانب داری کا معیار کیسے متعین کیا جائے؟ اور اسرائیل پر تنقید اور یہود دشمنی کے درمیان فرق قائم کرنے کے لیے کون سے شواہد اور اصول استعمال ہونے چاہییں؟

تعلیمی اداروں کے لیے ایک قابلِ دفاع راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی شخصیات کی کامیابیوں کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے متنازع مؤقف اور متعلقہ تنقید کو بھی دیانت داری سے بیان کریں۔ اس سے نہ تو کسی سیاسی فریق کے مؤقف کو خود بخود درست قرار دیا جاتا ہے اور نہ ہی اختلافی آرا کو دبایا جاتا ہے۔ اسی طرح یہود دشمنی کے حقیقی واقعات کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے کی ذمہ داری کو سیاسی اختلاف کے نام پر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر شدید اختلافات کے باوجود انسانی حقوق، تعلیمی آزادی، مذہبی و نسلی تحفظ اور منصفانہ ادارتی طریقۂ کار جیسے اصولوں کا یکساں اطلاق ضروری ہے۔ ہارورڈ کے لیے چیلنج صرف ایک نوبیل انعام یافتہ سابق طالبہ کی تعریف یا تنقید کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ دکھانا بھی ہے کہ وہ اختلافی سیاسی موضوعات پر شفافیت، علمی دیانت اور تمام طلبہ کے تحفظ کو کس طرح یقینی بناتا ہے۔

UN Watch اسرائیل اسرائیل فلسطین تنازع اقوام متحدہ انسانی حقوق بنیامین نیتن یاہو تعلیمی آزادی ڈربن کانفرنس عالمی سیاست ماریا ریسا نوبیل امن انعام نوی پلے ہارورڈ یونیورسٹی ہلیل نوئر یہود دشمنی
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleمار شربل اور لبنان کا مستقبل
Next Article زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.