
مار شربل سے کچھ تو سیکھیں لبنان کے حکمران!
معجزے کا انتظار کب تک؟ لبنان کو اب عمل، عزم اور امن کی ضرورت ہے
’’لبنان کے لیے خوف زدہ نہ ہوں، اس میں ایک مار شربل موجود ہے۔‘‘
صدر جوزف عون کا فلم ’’شربل‘‘ کی ریلیز کے موقع پر ایم ٹی وی کو دیا گیا بیان
لبنان کے صدر جوزف عون نے گزشتہ روز ایم ٹی وی پر فلم ’’شربل‘‘ کی ریلیز کے موقع پر کہا: ’’لبنان کے لیے خوف زدہ نہ ہوں، اس میں ایک مار شربل موجود ہے۔‘‘ یہ الفاظ امید اور ایمان کی علامت ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا لبنان کے حکمران اپنے ملک کو اس مقام تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات بھی کریں گے جہاں اسے ہر بحران سے نکلنے کے لیے کسی معجزے کا انتظار نہ کرنا پڑے؟
میری گزشتہ روز کی تحریر کا پیغام بھی یہی تھا:لبنان کو آج ایک معجزے کی ضرورت ہے۔ ایسا معجزہ جو اس کے آخری موقع کو بچا لے، جنگوں کا سلسلہ ختم کرے اور بالآخر اسے ایسا امن دے جس کے ساتھ اس کے عوام زندگی گزار سکیں۔ لیکن لبنان کو خودکشی کے دہانے تک پہنچا کر پھر کسی مقدس مزار کی طرف دوڑنا اور ولی سے اسے بچانے کی درخواست کرنا درست راستہ نہیں۔
شاید ہمارے رہنماؤں کو بھی مار شربل کے ساتھ اس معجزے کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے، کیونکہ ہم ہمیشہ دوسروں کے ہاتھوں اپنے مسائل حل ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے، نہ آسمان سے اور نہ زمین سے۔
ایک راہب، جس کی خاموشی دنیا بھر میں گونجتی ہے
یہ مضمون شاید میری معمول کی تحریروں سے مختلف محسوس ہو۔ اس میں حزب اللہ کا ذکر نہیں، پابندیوں کی بات نہیں اور نہ مذاکراتی فریم ورک پر بحث ہے۔ لیکن آج رات طویل انتظار کے بعد سینٹ شربل پر بنائی گئی فلم دکھائی جا رہی ہے، اور میں خود کو کسی اور موضوع پر لکھنے کے لیے آمادہ نہیں کر سکی۔
اس فلم کی نمائش کے لیے تاریخ کا انتخاب بھی اتفاقی نہیں۔9اکتوبر1977کو مار شربل کو مقدس قرار دیے جانے کی یاد منائی جاتی ہے۔
بکاعکفرا سے تعلق رکھنے والے اس راہب نے اپنی زندگی کے آخری سال ایک حجرے میں گوشہ نشینی اختیار کرتے ہوئے گزارے۔ انہوں نے کوئی کتاب نہیں چھوڑی، کوئی خطبہ نہیں دیا اور کوئی انٹرویو نہیں کیا۔ وہ راہبوں میں سب سے زیادہ خاموش تھے۔ اس کے باوجود، ان کے انتقال کے ایک صدی اور چوتھائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان کی موجودگی محسوس کی جاتی ہے۔
دنیا بھر میں ہزاروں میل دور واقع گھروں میں ان کی تصویر آویزاں ہے اور ان کی یاد میں شمعیں روشن کی جاتی ہیں۔ ان گھروں میں رہنے والے بہت سے لوگ نقشے پر لبنان کا مقام جاننے سے پہلے مار شربل کا نام جانتے ہیں۔
ایک ایسے شخص نے، جس کے پاس نہ اقتدار تھا، نہ عہدہ اور نہ کوئی سرکاری منصب، لبنان کا نام دنیا کے ہر براعظم تک پہنچایا۔
میں کئی برسوں سے دور بیٹھ کر لبنان کا مشاہدہ کرتی رہی ہوں اور اکثر اس حقیقت پر غور کیا ہے۔ ایک شخص نے بغیر سیاسی طاقت یا سرکاری اختیار کے دنیا کے سامنے لبنان کا وہ چہرہ پیش کیا جو اسے دکھانا چاہیے تھا:انسانیت کی سرزمین، جہاں زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے، لوگوں کو گلے لگایا جاتا ہے اور امید دی جاتی ہے۔
مار شربل نے یہ کام تقریروں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے کیا۔ ان کی قبر کے مقام عنایہ میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ اسی کی مثال ہے۔ لبنان اور بیرونِ ملک ہزاروں افراد نے ان کی شفاعت پر یقین رکھتے ہوئے شفا، تسلی یا امید حاصل کرنے کا تجربہ بیان کیا ہے۔
مار شربل نے کسی سے اس کا مذہب، قومیت یا عمر نہیں پوچھی۔ اس کے برعکس، ہمارے سیاسی رہنماؤں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں لبنان کی ایک بالکل مختلف تصویر پیش کی:مسلسل جنگوں، عدم استحکام، بدعنوانی اور قیادت کے فقدان سے دوچار ملک۔
مار شربل نے دنیا کو لبنان کا بہترین چہرہ دکھایا، جبکہ ہمارے سیاست دان اکثر اس کے بدترین پہلوؤں کو نمایاں کرتے رہے۔
لبنان دنیا کو کیا پیغام دے؟
لبنان کو چاہیے کہ وہ اپنے خطے میں اپنی روشنی، تنوع اور دوسروں کے لیے کشادہ دلی کو نمایاں کرے۔ اس ملک نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر مہاجرین کو پناہ دی، لیکن پھر اس کی سرزمین غیر ملکی افواج، ملیشیاؤں اور کرائے کے جنگجوؤں کی مداخلت کا نشانہ بھی بنی۔ آج اسے بیرونی عناصر کے ساتھ ساتھ اپنے ہی لوگوں کے اقدامات سے بھی زخم پہنچ رہے ہیں۔
ہمیں طویل عرصے سے بتایا جاتا رہا ہے کہ لبنان ایک پیغام رکھنے والا ملک ہے۔ لیکن آج وہ کون سا پیغام دے رہا ہے؟ ایک ایسا ملک جو اپنے فیصلے خود کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے اور ہر مرتبہ کسی سرپرست کا منتظر رہتا ہے کہ وہ اس کی طرف سے فیصلہ کرے۔
مار شربل خود اس پیغام کی عملی تصویر تھے۔ وہ اپنے کردار کے ذریعے اس پیغام کو دنیا کے براعظموں تک لے گئے، اس وقت بھی جب ہم خود اسے دنیا تک پہنچانے میں ناکام رہے۔
خاموشی، عاجزی اور عمل کی طاقت
ان کی خاموشی پر غور کیجیے۔ ان کی سوانح میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک رات ان کے ساتھی راہبوں نے ان کے چراغ میں تیل کی جگہ پانی بھر دیا، لیکن چراغ پھر بھی روشن ہوگیا۔ انہوں نے نہ کوئی وضاحت پیش کی، نہ اپنی بڑائی بیان کی اور نہ کوئی پریس کانفرنس کی۔ وہ خاموشی سے اپنا کام کرتے رہے۔
یہی میرا مطلب ہے جب میں کہتی ہوں کہ مار شربل بولتے نہیں، عمل کرتے ہیں، اور ان کا عمل آج بھی جاری ہے۔
ان سے ایک سادہ سا قول منسوب کیا جاتا ہے: ’’جنت کا راستہ اوپر کی طرف جاتا ہے، اس لیے نیچے مت دیکھو اور خود کو زنجیروں میں مت جکڑو۔‘‘
میں اس قول کو لبنانی تناظر میں دیکھتی ہوں۔ لبنان کے رہنماؤں کو اپنے ملک پر یقین کرنا ہوگا، ذمہ داری سے کام لینا ہوگا، سر اٹھا کر روشنی کی طرف دیکھنا ہوگا اور عوام کے ساتھ ساتھ خود کو بھی روزانہ نئی زنجیروں میں جکڑنے سے گریز کرنا ہوگا۔
یہ زنجیریں علاقائی طاقتوں کی تابع داری، دوسرے دارالحکومتوں میں کیے گئے فیصلوں کے سامنے سر جھکانے اور ملک کو بچانے کے لیے خودمختار فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محرومی کی زنجیریں ہیں۔
جو زنجیروں میں جکڑا ہو، وہ بلندیوں کی طرف سفر نہیں کر سکتا۔
معجزہ چاہیے، مگر ذمہ داری سے فرار نہیں
لبنان کو آج ایک معجزے کی ضرورت ہے۔ ایسا معجزہ جو اس کے آخری موقع کو بچا لے، جنگوں کا خاتمہ کرے اور بالآخر اسے ایسا امن عطا کرے جس میں اس کے عوام سکون سے زندگی گزار سکیں۔
لیکن لبنان کو خودکشی کے دہانے پر پہنچا کر پھر عنایہ کی طرف دوڑنا اور ولی سے اسے بچانے کی درخواست کرنا درست طرزِ عمل نہیں۔
اور میں یہ بات صاف طور پر کہنا چاہتی ہوں:ہم عوام بھی مکمل طور پر بے قصور نہیں ہیں۔ ہم نے ہی ان لوگوں کو اقتدار کے منصب تک پہنچایا، بار بار انہی بدعنوان چہروں اور بانجھ سیاسی سوچ رکھنے والوں کو ووٹ دیا اور ہر نئی مدت میں انہیں دوبارہ اقتدار سونپتے رہے۔
مار شربل سے عاجزی، حکمت اور خاموشی سیکھیں۔ یہ سیکھیں کہ لوگوں کے زخم الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے بھرتے ہیں۔ شاید ہمارے رہنماؤں کو اس معجزے کی تکمیل میں مار شربل کا ساتھ دینا چاہیے، کیونکہ ہم ہمیشہ دوسروں کے ہاتھوں اپنے مسائل حل ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے، نہ آسمان سے اور نہ زمین سے۔
ایک فلم، لبنان کے لیے امید کا پیغام
میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ندیم مہنا اور ایم ٹی وی کو سلام پیش کرتی ہوں، جنہوں نے اس غیر معمولی فلم کو حقیقت کا روپ دیا۔
جب سینما کی روشنیاں مدھم ہوں گی اور فلم کی نمائش شروع ہوگی تو ناظرین ایک ایسی تخلیق دیکھیں گے جو خود مار شربل کی طرح دنیا کا سفر کرے گی اور لبنان کا نام ان ممالک تک پہنچائے گی جہاں شاید پہلے اس ملک کا نام بھی نہیں سنا گیا تھا۔
ہم چاہتے ہیں کہ دنیا لبنان کا یہی چہرہ دیکھے:ایک ایسا ملک جس کے پاس صلاحیت، ذہانت، نوجوان، امکانات اور روشن مستقبل کی امید موجود ہے۔ اسے جس چیز کی کمی ہے، وہ ارادے اور عزم کی ہے۔
آج رات فلم کے افتتاحی شو میں لبنان کے متعدد سیاست دان اور فیصلہ ساز بھی موجود ہوں گے، اور یہ اچھی بات ہے۔ فلم سے لطف اندوز ہوں، لیکن میری امید ہے کہ آپ اس سے کچھ سیکھ کر بھی نکلیں گے۔ کم از کم آپ میں سے کوئی ایک شخص ایسا ہو جو سینما سے باہر آتے ہوئے یہ فیصلہ کر چکا ہو کہ اب کم بولنا ہے اور زیادہ کام کرنا ہے۔
لبنان کو معجزے کی امید ضرور رکھنی چاہیے، لیکن اپنے مستقبل کی ذمہ داری خود بھی اٹھانی ہوگی۔
یہی میرا پیغام ہے۔

ایلیسا ای ہاشم علاقائی امور اور حکمرانی پر توجہ مرکوز رکھنے والی صحافی اور سیاسی مصنفہ ہیں۔ وہ امریکی محکمہ خارجہ کے عربی ریجنل میڈیا ہب میں سابق ریجنل میڈیا ایڈوائزر رہ چکی ہیں اور حکومتی و نجی شعبوں میں اسٹریٹجک کمیونیکیشن کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔