• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ایران سے منسلک جعلی صحافیوں کی مہم
خصوصی رپورٹ

ایران سے منسلک جعلی صحافیوں کی مہم

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 11, 2026Updated:اکتوبر 12, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔12 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
نیویارک اُردو⁦|⁩ٹیکنالوجی، میڈیا اور عالمی سلامتی

ایران سے منسلک عناصر کی مبینہ کارروائیاں⁦:⁩جعلی صحافت اور امریکی بحری افواج کی ہدف بندی میں اے آئی کا استعمال

OpenAI کے مطابق⁦ChatGPT⁩کے ذریعے جعلی صحافیوں کے نام سے تقریباً⁦100⁩مضامین شائع کرائے گئے، جبکہ⁦Anthropic⁩نے⁦Claude⁩کے ذریعے امریکی بحری افواج سے متعلق معلومات جمع کرنے اور ہدف بندی کی سفارشات تیار کرنے کی کوششوں کی نشاندہی کی۔

مصنوعی ذہانت، مبینہ جعلی صحافت اور ایران سے منسلک آن لائن اثراندازی کی کارروائیاں

امریکی مصنوعی ذہانت کی دو بڑی کمپنیوں، OpenAI اور Anthropic، کی الگ الگ تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ ایران سے منسلک عناصر نے مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز کو مبینہ طور پر جعلی صحافتی شناختوں کے ذریعے مضامین شائع کرانے، آن لائن رائے عامہ پر اثرانداز ہونے اور امریکی بحری افواج سے متعلق فوجی معلومات کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ ان تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف مواد تیار کرنے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ اسے معلومات جمع کرنے، پیغامات پھیلانے اور پہلے سے موجود کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

OpenAI نے⁦8⁩اکتوبر⁦2026⁩کو ایک ایسی مبینہ اثراندازی مہم کی تفصیلات جاری کیں جسے کمپنی نے “Bogus Bylines” کا نام دیا۔ کمپنی کے مطابق اس کارروائی میں سات جعلی صحافتی شناختیں استعمال کی گئیں اور ان ناموں سے تقریباً⁦100⁩مضامین دنیا بھر کے لگ بھگ ایک درجن آن لائن ذرائع ابلاغ میں شائع یا دوبارہ شائع ہوئے۔

تحقیقات کے اہم نکات

  • سات مبینہ جعلی صحافی شناختیں، جنہیں مغربی صحافیوں کے طور پر پیش کیا گیا۔
  • تقریباً⁦100⁩مضامین، جو لگ بھگ⁦12⁩آن لائن اشاعتی اداروں میں شائع یا سنڈیکیٹ ہوئے۔
  • ChatGPT کے ذریعے مضامین کی تدوین، مدیران کو بھیجی جانے والی تجاویز اور سوشل میڈیا تبصروں کی تیاری۔
  • Anthropic کے مطابق ایک الگ کارروائی میں⁦Claude⁩سے امریکی بحری افواج سے متعلق معلومات جمع کرنے اور ہدف بندی کی سفارشات بنانے میں مدد لی گئی۔

جعلی صحافیوں کے نام، حقیقی اشاعتی پلیٹ فارم

OpenAI کے مطابق اس مہم میں استعمال ہونے والی شناختوں میں ایک نام Ervin B. Hoskins بھی تھا، جس نے خود کو امریکی فری لانس مصنف ظاہر کیا۔ اس نام سے منسوب مضامین میں امریکی خارجہ پالیسی اور ایران کے ساتھ جاری تنازع پر تنقیدی مؤقف اختیار کیا گیا۔ مبینہ جعلی شناخت کے لیے⁦X⁩، Facebook،⁦Instagram⁩اور⁦Threads⁩پر اکاؤنٹس بھی موجود تھے۔⁦OpenAI⁩نے کہا کہ پلیٹ فارم سے متعلق دستیاب معلومات سے ان اکاؤنٹس کی سرگرمیوں کا تعلق ایران سے ظاہر ہوتا تھا۔

کمپنی کے مطابق ان جعلی شناختوں نے انگریزی زبان میں مضامین تیار کیے یا پیش کیے، جن میں زیادہ تر امریکہ اور ایران کے تنازع، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور امریکی خارجہ پالیسی پر توجہ دی گئی تھی۔⁦ChatGPT⁩کو مسودوں کی تدوین، مختلف اشاعتی اداروں کے تقاضوں کے مطابق تحریر ڈھالنے اور مدیران کو مضامین پیش کرنے کے لیے ای میلز تیار کرنے میں استعمال کیا گیا۔

یہ معاملہ صرف مضمون لکھنے تک محدود نہیں تھا۔ مبینہ آپریٹرز نے سوشل میڈیا پر تبصروں کے گروپ بھی تیار کیے۔ بعض تبصرے ان پوسٹس کے جواب میں تھے جو انہی مضامین کو فروغ دے رہی تھیں، اور ان میں مضامین کی تعریف یا تائید کی جاتی تھی۔⁦OpenAI⁩کے جائزے کے مطابق اس طریقے کا ممکنہ مقصد یہ تاثر پیدا کرنا تھا کہ مواد کو آزاد قارئین کی حمایت حاصل ہے۔

7
جعلی صحافتی شناختیں
مغربی صحافیوں کے طور پر پیش کی گئیں

تقریباً 100
مضامین
شائع یا دوبارہ شائع ہونے کی نشاندہی

تقریباً 12
آن لائن اشاعتی ادارے
مختلف ممالک میں مواد کی اشاعت یا تقسیم

ChatGPT کے ذریعے مکمل اشاعتی عمل کی معاونت

OpenAI کے مطابق⁦ChatGPT⁩کو انگریزی اور فارسی زبان میں مسودوں کی تدوین، مختلف اداروں کے لیے مضمون کی پیشکش تیار کرنے اور مدیران سے رابطے کی ای میلز لکھنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایسے تبصرے تیار کیے گئے جو بظاہر الگ الگ قارئین کے ردِعمل معلوم ہوتے تھے۔

ان تبصروں اور مضامین میں ایک مشترکہ سیاسی بیانیہ دکھائی دیتا تھا⁦:⁩امریکہ کو تنازع کا جارح فریق پیش کرنا، اسرائیل کو امریکہ کے لیے ناقابلِ اعتماد اتحادی قرار دینا اور ایران کو دباؤ کے باوجود مزاحمت کرنے والے فریق کے طور پر دکھانا۔⁦OpenAI⁩کے مطابق⁦2026⁩میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد مضامین کی اشاعت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

مہم کے تحت فارسی زبان میں ایران انٹرنیشنل کی پوسٹس کے جواب میں بھی دو درجن سے زیادہ گروپوں کی صورت میں مخالفانہ تبصرے تیار کیے گئے۔ تاہم⁦OpenAI⁩نے کہا کہ اس کے سامنے آنے والے تبصروں کو عموماً محدود ردِعمل ملا۔ اس کے برعکس مضامین کو حقیقی اشاعتی پلیٹ فارمز پر جگہ دلانے کی کوشش زیادہ مؤثر رہی۔

مضامین کہاں شائع ہوئے؟

OpenAI کی تحقیقات کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹنگ میں امریکی ویب سائٹس⁦PeaceVoice⁩، CounterPunch اور LA Progressive پر ایسے مواد کا ذکر کیا گیا جو Ervin B. Hoskins کے نام سے منسوب تھا۔ ان میں سے ایک مضمون کا عنوان تھا: “Jared Kushner and the Privatization of America’s Iran Strategy”، یعنی ’’جیرڈ کشنر اور امریکہ کی ایران پالیسی کی نجکاری‘‘۔

رپورٹس کے مطابق یہ مضمون⁦PeaceVoice⁩پر شائع ہونے کے بعد اسی نوعیت کے عنوانات کے ساتھ⁦CounterPunch⁩اور LA Progressive میں بھی دوبارہ شائع ہوا۔ مضمون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر کے کاروباری مفادات اور ایران سے متعلق امریکی پالیسی کے درمیان ممکنہ تعلقات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ تاہم دستیاب رپورٹنگ کے مطابق مضمون نے ان دعوؤں کے حق میں واضح شواہد پیش نہیں کیے اور کشنر کے مؤقف کو محدود جگہ دی۔

یہ فرق اہم ہے کہ کسی مضمون میں کسی عوامی شخصیت کے مفادات یا پالیسی پر تنقید موجود ہونا بذاتِ خود کسی خفیہ مہم کا ثبوت نہیں۔ یہاں اصل مسئلہ،⁦OpenAI⁩کی تحقیقات کے مطابق، یہ تھا کہ مواد کو ایسے مصنفین کے نام سے پیش کیا گیا جن کی شناختیں جعلی تھیں، جبکہ قارئین اور مدیران کو ان کے حقیقی پس منظر کا علم نہیں تھا۔

اشاعت اور مصنف کی شناخت میں فرق

کسی حقیقی ویب سائٹ پر مضمون شائع ہونے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ اس کے مصنف کی شناخت بھی حقیقی اور تصدیق شدہ ہے۔ جعلی نام سے شائع ہونے والا مواد ایک معتبر پلیٹ فارم کے ذریعے ایسے قارئین تک پہنچ سکتا ہے جو اصل مصنف یا اس کے محرکات سے ناواقف ہوں۔

OpenAI کی درجہ بندی اور تحقیقات کی حدود

OpenAI نے مضامین کی اشاعت پر مبنی سرگرمی کو اپنے چھ درجوں والے Influence Operations Breakout Scale پر کیٹیگری 4 میں رکھا۔ یہ درجہ بندی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مہم اپنے منتظمین کے ذاتی یا اپنے زیرِ انتظام اکاؤنٹس سے آگے بڑھ کر حقیقی اشاعتی اداروں تک مواد پہنچانے میں کامیاب ہوئی۔ کمپنی کے مطابق سوشل میڈیا تبصروں کے حصے کو کیٹیگری⁦2⁩دیا گیا، کیونکہ وہاں ردِعمل محدود تھا۔

تاہم⁦OpenAI⁩نے یہ نہیں کہا کہ اس نے مہم کے پیچھے موجود مخصوص فرد یا ادارے کی شناخت کر لی ہے۔ کمپنی کے مطابق اسے ایسا کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ کارروائی ایرانی حکومت کی براہِ راست ہدایت پر چلائی گئی۔ اس کی تشخیص میں اس امکان کی طرف اشارہ کیا گیا کہ یہ کسی تجارتی یا معاوضے کے عوض اثراندازی کی مہم ہو سکتی ہے۔

OpenAI نے متعلقہ⁦ChatGPT⁩اکاؤنٹس پر پابندیاں عائد کرکے اپنی شناخت میں آنے والی سرگرمیوں کو روکنے کی کارروائی کی۔ تاہم اکاؤنٹس کی بندش بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ پورا نیٹ ورک ختم ہوگیا، تمام متعلقہ مواد مل گیا یا اس سے وابستہ ہر سرگرمی بند ہوگئی۔

Anthropic کی رپورٹ⁦:⁩اثراندازی سے فوجی معلومات کے تجزیے تک

OpenAI کی تحقیقات سے الگ،⁦Anthropic⁩نے ستمبر میں ایران سے منسلک ایک مبینہ خطرے کے حامل فریق کی سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کی تھیں۔ کمپنی کے مطابق اس فریق نے اس کے⁦Claude⁩مصنوعی ذہانت کے نظام کو خطے میں امریکی بحری افواج سے متعلق عوامی طور پر دستیاب معلومات جمع کرنے، ان کا تجزیہ کرنے اور ہدف بندی سے متعلق سفارشات تیار کرنے کے لیے استعمال کیا۔

Anthropic کے مطابق⁦Claude⁩کی مدد سے⁦Python⁩پر مبنی ایسا نظام تیار کرنے کی کوشش کی گئی جو بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات کو منظم کرے اور ہدف بندی کے لیے رہنما دستاویزات تیار کرے۔ مبینہ طور پر جمع کیے گئے مواد میں عوامی فوجی تصاویر کے عنوانات سے شناخت کیے گئے امریکی اہلکاروں کے نام، جہازوں اور طیاروں کے ٹرانسپونڈر شناختی کوڈ، تجارتی سیٹلائٹ تصاویر سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے اسکرپٹس اور ایسی عوامی ویب سائٹس کی فہرستیں شامل تھیں جہاں امریکی بحری سرگرمیوں سے متعلق معلومات دستیاب تھیں۔

کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ اس فریق نے بحری جہازوں کے مواصلاتی نظاموں، سمندری سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز،⁦Cisco⁩کے مواصلاتی آلات اور صنعتی کنٹرول مصنوعات میں ممکنہ کمزوریوں کے بارے میں تحقیق کرنے کے لیے⁦Claude⁩سے مدد لی۔ یہ تفصیلات⁦Anthropic⁩کی اپنی تحقیقات میں سامنے آئیں؛ انہیں اس مضمون میں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ عملی حملے یا کامیاب ہدف بندی کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

دونوں تحقیقات میں بنیادی فرق

OpenAI: جعلی صحافی شناختوں، مضامین کی اشاعت، مدیران کو ای میلز اور سوشل میڈیا پر مصنوعی حمایت پیدا کرنے کی کوششوں پر توجہ۔

Anthropic: عوامی معلومات کے تجزیے، بحری نقل و حرکت سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے، ہدف بندی کی دستاویزات اور فوجی یا صنعتی نظاموں کی ممکنہ کمزوریوں پر تحقیق کی سرگرمیوں پر توجہ۔

جعلی شناختیں اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ بیانیے

رپورٹس کے مطابق Ervin B. Hoskins کے علاوہ چھ مزید جعلی صحافتی شناختیں بھی استعمال کی گئیں۔ ان کے لیے سوشل میڈیا پروفائلز بنائے گئے، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر استعمال ہوئیں اور ان شناختوں کے ذریعے شائع شدہ مواد کو ایک دوسرے کے ذریعے فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔

یہ طریقہ اس لیے قابلِ توجہ ہے کہ اثراندازی کی کارروائی میں صرف ایک مضمون یا ایک اکاؤنٹ پر انحصار نہیں کیا جاتا۔ مختلف ناموں، متعدد پلیٹ فارمز اور بظاہر الگ الگ قارئین کے تبصروں کے ذریعے کسی بیانیے کو وسیع حمایت حاصل ہونے کا تاثر دیا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی اکاؤنٹ یا مضمون کو جعلی قرار دینے کے لیے محض اس کے سیاسی مؤقف یا زبان کے انداز کے بجائے شناخت، سرگرمیوں اور متعلقہ شواہد کی جانچ ضروری ہے۔

Anthropic نے اپنی الگ رپورٹ میں ایران سے منسلک سرگرمیوں کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے ایسے استعمال کا بھی ذکر کیا جس میں نگرانی، اختلافی آوازوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے اور مختلف گروہوں کو ہدف بنانے کی سرگرمیاں شامل تھیں۔ ان دعوؤں کی تفصیلات اور ان کی حدود متعلقہ کمپنی کی رپورٹ کے مطابق سمجھی جانی چاہییں۔

میڈیا اداروں اور اے آئی کمپنیوں کے لیے چیلنج

یہ واقعات صحافتی اداروں کے لیے ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں⁦:⁩جب مصنوعی ذہانت کی مدد سے رواں، بظاہر پیشہ ورانہ اور ادارتی تقاضوں کے مطابق تحریر تیار کی جا سکتی ہے تو مدیران کسی نئے مصنف کی شناخت اور اس کے دعوؤں کی تصدیق کیسے کریں؟

اشاعتی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاون مصنفین اور بیرونی لکھاریوں کی شناخت کی جانچ، ان کی سابقہ اشاعتوں کے ریکارڈ، رابطے کی معلومات اور مضامین کی پیشکش کے طریقۂ کار کو مضبوط بنائیں۔ اگر ایک ہی مصنف کے نام سے مختصر عرصے میں متعدد اداروں میں غیر معمولی تعداد میں مضامین سامنے آئیں تو اس سرگرمی کی مزید جانچ بھی مفید ہو سکتی ہے۔ محض زبان کی روانی یا تحریری اسلوب کو مصنف کی حقیقی شناخت کا قابلِ اعتماد ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی مربوط اکاؤنٹس کی سرگرمیوں کی نگرانی، غلط استعمال کی نشاندہی اور مناسب صورتوں میں محققین یا متعلقہ حکام کے ساتھ معلومات کے تبادلے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ غلط معلومات کے خلاف کارروائی کے نام پر جائز تنقید، آزاد صحافت اور صارفین کی رازداری متاثر نہ ہو۔

انسانی حقوق اور انٹرنیٹ آزادی کے محققین نے بھی اس خطرے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مصنوعی ذہانت متعدد زبانوں میں پروپیگنڈا تیار کرنا، جعلی شناختیں بنانا اور ناقدین کو بدنام کرنا آسان بنا سکتی ہے۔ دوسری جانب بعض حکومتیں غلط معلومات کے خلاف اقدامات کو سنسرشپ یا نگرانی بڑھانے کے جواز کے طور پر بھی استعمال کر سکتی ہیں۔ اس لیے شفافیت، آزادانہ جانچ اور بنیادی حقوق کا تحفظ اہم رہتا ہے۔

مصنوعی ذہانت نے کیا بدلا؟

دونوں کمپنیوں کی تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے اثراندازی اور معلومات جمع کرنے کی تمام سرگرمیاں ازسرِنو ایجاد نہیں کیں، بلکہ کئی پرانے طریقوں کو تیز اور نسبتاً آسان بنا دیا ہے۔ مضمون لکھنے اور اسے مختلف اداروں کے مطابق ڈھالنے، مدیران کو پیغامات بھیجنے، سوشل میڈیا پر ردِعمل تیار کرنے، کھلے ذرائع سے معلومات یکجا کرنے اور ڈیٹا کے تجزیے میں اے آئی مدد فراہم کر سکتی ہے۔

اس کے باوجود ان تحقیقات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر تنقیدی مضمون، ہر نامعلوم مصنف یا ہر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تحریر کسی خفیہ مہم کا حصہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا مصنف کی شناخت درست ہے، کیا مواد کو مربوط اور پوشیدہ طریقے سے فروغ دیا جا رہا ہے، اور کیا دستیاب شواہد کسی منظم کارروائی کی تائید کرتے ہیں۔

صحافت میں اعتماد صرف کسی ویب سائٹ کے معروف نام سے پیدا نہیں ہوتا۔ مصنف کی شناخت، ادارتی احتساب، شواہد کی جانچ اور معلومات کے ماخذ کی شفافیت بھی اسی قدر اہم ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے دور میں یہ اصول قارئین، صحافیوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور قومی سلامتی کے اداروں سب کے لیے زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔

نیویارک اُردو⁦|⁩ادارتی نوٹ

اس خبر میں⁦OpenAI⁩اور⁦Anthropic⁩کی جانب سے بیان کردہ تحقیقات اور ان سے متعلق فراہم کردہ رپورٹنگ کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔

Anthropic ChatGPT Claude AI OpenAI آن لائن اثراندازی امریکی بحری افواج ایران ایران امریکہ تنازع پروپیگنڈا جعلی صحافت ڈیجیٹل میڈیا سائبر سکیورٹی عالمی سلامتی فوجی معلومات مصنوعی ذہانت
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleنیتن یاہو کی برطانیہ پر سخت تنقید
Next Article مار شربل اور لبنان کا مستقبل
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

ہیلے اسٹیونز نے مائیک راجرز کی حمایت کر دی

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.