کولمبیا کا یہود دشمنی کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا اعلان
یروشلم میں کولمبیا کے سفارت خانے کا افتتاح، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی اور یہود دشمنی کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات کا اعلان
کولمبیا کے وزیر خارجہ عمر بولا ایسکوبار نے14اکتوبر کو یروشلم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر کے ساتھ شرکت کی۔ اس اقدام کو اسرائیل کے ساتھ کولمبیا کے تعلقات میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ سابقہ کولمبیائی حکومت کی اسرائیل سے متعلق پالیسی خاصی کشیدہ رہی تھی۔
اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی
سابق صدر گستاوو پیٹرو کے دورِ حکومت میں کولمبیا نے غزہ جنگ کے باعث2024میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔ تاہم، خبر کے مطابق، نئے منتخب صدر ابیلاردو دے لا ایسپریلا نے اگست2026میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کر دیے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ بھی دوبارہ فعال کر دیا گیا۔
یروشلم میں سفارت خانے کا افتتاح اس سفارتی بحالی کی ایک نمایاں علامت ہے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی روابط کو نئی بنیاد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کی راہ بھی ہموار ہونے کی توقع ہے۔
یہود دشمنی کے خلاف حکومتی اقدام
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کولمبیا کے وزیر خارجہ عمر بولا ایسکوبار نے اعلان کیا کہ کولمبیا کی وزارت خارجہ، حکومت کے دیگر اداروں اور ملک کی یہودی برادری کے ساتھ مل کر یہود دشمنی کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔
’’یہ حکومت اور یہ وزیر خارجہ خاموش نہیں رہیں گے۔ ہم اس لعنت کو ملک بھر میں بے روک ٹوک پھیلنے اور بغیر کسی چیلنج کے جاری رہنے نہیں دیں گے۔‘‘
ایسکوبار کے بیان کے مطابق، حکومت یہود دشمنی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے خاموش تماشائی بننے کے بجائے سرکاری اداروں اور یہودی برادری کے اشتراک سے کام کرے گی۔ اس اعلان کے ساتھ کولمبیا کی نئی حکومت نے اس مسئلے کو اپنی پالیسی میں اہمیت دینے کا عندیہ دیا ہے۔
زلزلے کے بعد اسرائیلی امداد پر اظہارِ تشکر
کولمبیا کے وزیر خارجہ نے اگست میں ملک میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد اسرائیل کی جانب سے فراہم کی گئی انسانی امداد پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔ خبر کے مطابق، اس زلزلے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔
قدرتی آفت کے بعد امدادی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے ایسکوبار نے دونوں ممالک کے درمیان انسانی بنیادوں پر روابط کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ سفارتی تعلقات کی بحالی اور سفارت خانے کے افتتاح کے پس منظر میں یہ تعاون دونوں حکومتوں کے درمیان رابطوں کا ایک اور پہلو ہے۔
یروشلم میں سفارتی موجودگی
کولمبیا کا سفارت خانہ کھلنے کے بعد یروشلم میں سفارتی مشن رکھنے والے ممالک کی تعداد دس ہو گئی ہے۔ ان ممالک میں امریکہ بھی شامل ہے۔ اس پیش رفت سے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے والے ممالک کی سفارتی موجودگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے کولمبیا کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔
دفاع، ٹیکنالوجی اور تجارت میں تعاون کی توقع
سفارتی پیش رفت کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان دفاع، انٹیلی جنس، سائبر سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کی تجدید کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ خبر کے مطابق، یہ شراکت داری تقریباً سات دہائیوں پر محیط ہے۔
یروشلم میں کولمبیا کے سفارت خانے کا افتتاح محض ایک سفارتی تقریب نہیں بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت میں تبدیلی کا اشارہ بھی ہے۔ تاہم، اس تعاون کے عملی نتائج کا انحصار آئندہ حکومتی اقدامات، دوطرفہ معاہدوں اور مختلف شعبوں میں طے پانے والی ترجیحات پر ہوگا۔
