انڈونیشی پائلٹ کی وجہ سے اسرائیل جانے والی ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز واپس
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، پائلٹ کی شہریت سامنے آنے کے بعد طیارے کو ایتھوپیا واپس بھیجا گیا؛ عملے میں تبدیلی کے بعد پرواز دوبارہ اسرائیل روانہ ہوئی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیل جانے والی ایتھوپین ایئرلائنز کی ایک کارگو پرواز کو اس وقت ایتھوپیا واپس لوٹنا پڑا جب اسرائیلی سکیورٹی حکام کو معلوم ہوا کہ اس کے پائلٹوں میں سے ایک انڈونیشیا کا شہری ہے۔ اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل12کی نیوز سروس، جسےN12کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے مطابق طیارے کو اتوار اور پیر کی درمیانی شب، ایتھوپیا کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران واپس مڑنے کا حکم دیا گیا۔
انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے اور اس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے فضائی سلامتی کے ضوابط سخت کیے جانے کے بعد انڈونیشی شہریوں کو اسرائیل میں داخل ہونے والی پروازوں کے عملے میں شامل کرنے پر پابندی عائد ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، طیارہ ادیس ابابا سے روانہ ہو چکا تھا جب عملے کی فہرست اسرائیلی حکام تک پہنچی۔ پائلٹ کی شہریت معلوم ہونے پر حکام نے طیارے کو اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
رپورٹس کے مطابق، طیارہ ایتھوپیا واپس لوٹا اور ادیس ابابا میں اترنے سے پہلے سمندر کے اوپر ایندھن خارج کیا، جہاں انڈونیشی پائلٹ کی جگہ دوسرے پائلٹ کو شامل کیا گیا۔ اس کے بعد طیارہ دوبارہ روانہ ہوا اور بحفاظت اسرائیل پہنچ گیا۔ ایتھوپین ایئرلائنز نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے پائلٹ پر لاگو پابندی کے بارے میں علم نہیں تھا۔
واقعے کے اہم نکات
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، پائلٹ کی شہریت سامنے آنے پر طیارے کو ایتھوپیا واپس لوٹنے کا حکم دیا گیا۔
ادیس ابابا میں انڈونیشی پائلٹ کی جگہ دوسرے پائلٹ کو شامل کیا گیا۔
تبدیلی کے بعد طیارہ دوبارہ روانہ ہوا اور اسرائیل میں بحفاظت اتر گیا۔
واقعے نے اسرائیل جانے والی بین الاقوامی پروازوں کے عملے کی جانچ پڑتال پر توجہ بڑھا دی۔
فضائی سلامتی سے متعلق خدشات
یہ واقعہ30ستمبر کو دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی مسافر پرواز سے متعلق اغوا کی مبینہ کوشش کے بعد پیش آیا۔ اس واقعے میں عمانی معاون پائلٹ پر الزام ہے کہ اس نے کپتان پر حملہ کیا اور طیارے کو تل ابیب کے بین گوریون ایئرپورٹ سے ٹکرانے کی کوشش کی۔ متحدہ عرب امارات کے استغاثہ نے اس واقعے کو ایک منصوبہ بند دہشت گرد حملہ قرار دیا، تاہم ان نتائج کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی اور تحقیقات جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔
اس واقعے نے فضائی سلامتی کے طریقہ کار، بالخصوص علاقائی کشیدگی کے دوران اسرائیل جانے والے روٹس پر کام کرنے والے عملے کی جانچ پڑتال کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے۔ اسرائیلی میڈیا نے پارلیمانی انٹیلی جنس ذیلی کمیٹی میں پیش کی گئی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ایسے ممالک کے1,200سے زیادہ فضائی عملے کے ارکان، جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں، ماضی میں اسرائیل میں داخل ہو چکے ہو سکتے ہیں۔ ان ممالک میں ایران کا نام بھی شامل کیا گیا۔
فلائی دبئی کے واقعے کے بعد اسرائیلی حکام نے غیر ملکی ایئرلائنز کے لیے پابندیاں سخت کر دیں اور ان سے تقاضا کیا کہ وہ یقینی بنائیں کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ رکھنے والے ممالک کے پائلٹ اور دیگر عملے کے ارکان اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہونے والی پروازوں پر تعینات نہ ہوں۔
نوٹ:یہ چارٹ خبر میں بیان کردہ موضوعات کی وضاحتی بصری ترتیب ہے، کسی سرکاری اعداد و شمار یا خطرے کی مقداری درجہ بندی کی نمائندگی نہیں کرتا۔
اغوا کی مبینہ کوشش کے بارے میں تفصیلات
متحدہ عرب امارات کے استغاثہ کے مطابق،30ستمبر کے واقعے میں عمانی معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر ہنگامی حالات میں استعمال ہونے والی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کیا۔ اس وقت طیارے میں مسافروں اور عملے سمیت174افراد سوار تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص کا ارادہ طیارے کو اسرائیل کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ٹکرانے کا تھا اور یہ منصوبہ امریکہ میں11ستمبر2001کے دہشت گرد حملوں سے متاثر تھا۔
زخمی ہونے کے باوجود کپتان دیگر افراد کو خبردار کرنے میں کامیاب رہا، جس کے بعد مسافروں اور عملے نے مبینہ حملہ آور کو قابو کر لیا۔ دو اضافی پائلٹوں کی مدد سے طیارے کا رخ تبدیل کیا گیا اور وہ سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتر گیا۔ متحدہ عرب امارات کے استغاثہ نے کہا کہ مشتبہ شخص فلائی دبئی میں ملازمت شروع کرنے سے پہلے پیشہ ورانہ اور سکیورٹی جانچ کے مراحل سے گزرا تھا۔ ان نتائج نے فضائی سلامتی کے جانچ کے نظام کی مؤثریت کے بارے میں خدشات بڑھا دیے، جبکہ فوجداری تحقیقات جاری رہیں۔
انڈونیشیا کا مؤقف اور اسرائیل سے تعلقات
تاہم، ایتھوپین ایئرلائنز کے اس واقعے میں طیارے پر قبضے کی کوشش یا مسافروں کو نقصان پہنچانے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں جس تشویش کا ذکر کیا گیا، اس کا تعلق انڈونیشی پائلٹ کی شہریت سے تھا، نہ کہ اس فرد کے خلاف کسی غلط اقدام کے الزام سے۔
انڈونیشیا طویل عرصے سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے انکار کرتا آیا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور اسرائیل فلسطین تنازع کے مذاکراتی حل سے منسلک ہونا چاہیے۔ تاہم، انڈونیشیا کا سرکاری مؤقف لازماً اس کے تمام شہریوں کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا، جن میں ملک کی قابلِ ذکر مسیحی اقلیت بھی شامل ہے۔
انڈونیشی مسیحیوں اور اعتدال پسند مسلمانوں نے نیویارک اردو کو بتایا ہے کہ وہ اپنی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہ کرنے کے فیصلے پر افسوس محسوس کرتے ہیں اور یہودی قوم کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ ان کے خیالات انڈونیشیا کے اندر مذہبی اور سیاسی تنوع کو نمایاں کرتے ہیں، جہاں مسیحی ایک مسلم اکثریتی معاشرے میں اقلیت ہیں اور بعض ایونجیلیکل مسیحی اجتماعات اسرائیل کے ساتھ مضبوط روحانی تعلق محسوس کرتے ہیں۔ ان افراد کے لیے اسرائیل کی حمایت جزوی طور پر بائبل کے بارے میں ان کی مذہبی تفہیم اور مسیحیت و یہودی قوم کے تاریخی تعلق سے جڑی ہوئی ہے۔
