• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » فیفا کے اربوں ڈالر کا حساب کون دیگا؟
خصوصی رپورٹ

فیفا کے اربوں ڈالر کا حساب کون دیگا؟

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 18, 2026Updated:اکتوبر 18, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔15 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp
نیویارک اُردو⁦|⁩کھیل، احتساب اور ترقی

فیفا کے اربوں ڈالر کے ترقیاتی فنڈز اور پاکستان فٹبال کا امتحان

دس سالہ مالیاتی معاملات، گول پروجیکٹس کی نامکمل کہانی اور نئے فنڈز کی شفافیت پر اہم سوالات

تحریر و رپورٹ
اسحاق بلوچ
کھیلوں کے معاملات، ترقیاتی منصوبے اور مالیاتی جواب دہی

اسحاق بلوچ

بنیادی سوال

پاکستان فٹبال کو آئندہ برسوں میں عالمی ترقیاتی فنڈز سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ ان وسائل سے کتنے گراؤنڈ آباد ہوتے ہیں، کتنے نوجوان کھلاڑی تیار ہوتے ہیں اور ماضی کے منصوبوں کا حساب کس طرح سامنے آتا ہے۔

پاکستان فٹبال کے لیے ایک بار پھر اربوں ڈالر کے عالمی ترقیاتی منصوبے سے فائدہ اٹھانے کا موقع پیدا ہو رہا ہے، لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کو آئندہ چار برسوں میں کتنے ڈالر ملیں گے، بلکہ یہ ہے کہ ان وسائل سے ملک میں فٹبال کی ترقی کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے اور ماضی کے منصوبوں کا حساب کون دے گا؟

فیفا نے⁦2027⁩سے⁦2030⁩کے دورانیے کے لیے عالمی فٹبال کی ترقی پر⁦6⁩ارب⁦35⁩کروڑ امریکی ڈالر خرچ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت فیفا کی⁦211⁩رکن فٹبال ایسوسی ایشنز کے لیے فنڈنگ بڑھا کر فی ایسوسی ایشن⁦2⁩کروڑ⁦50⁩لاکھ ڈالر تک کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم اس منصوبے کی حتمی منظوری فیفا کے متعلقہ فورمز اور مارچ⁦2027⁩میں ہونے والی کانگریس کے فیصلے سے مشروط ہے۔

6.35 ارب
امریکی ڈالر کی مجوزہ عالمی سرمایہ کاری

2027–2030
مجوزہ پروگرام کا دورانیہ

2.5 کروڑ
فی رکن ایسوسی ایشن مجوزہ فنڈنگ، امریکی ڈالر

فیفا کے مطابق اس سرمایہ کاری کا مقصد خواتین اور نوجوانوں کی فٹبال، طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں اور کھیل کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینا ہے۔ بظاہر پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہے، جہاں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں، لیکن معیاری گراؤنڈز، تربیتی مراکز، مستقل قومی لیگ اور مضبوط ضلعی فٹبال نظام کی شدید ضرورت ہے۔

تاہم پاکستان فٹبال کی گزشتہ برسوں کی صورت حال دیکھتے ہوئے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ نئی مالی معاونت سے واقعی کھیل کی بنیادیں مضبوط ہوں گی یا ماضی کی طرح منصوبوں کی تکمیل، اخراجات اور مالیاتی جواب دہی پر سوالات اٹھتے رہیں گے؟

پاکستان فٹبال اور ترقیاتی منصوبے

فیفا کی فنڈنگ میں اضافہ، پاکستان کے لیے کتنی اہمیت؟

فیفا کا ترقیاتی پروگرام دنیا بھر میں فٹبال کی غیر مساوی ترقی کو کم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ اس کے تحت رکن ایسوسی ایشنز کو بنیادی ڈھانچے، کوچنگ، قومی ٹیموں، مقابلوں اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

پاکستان میں ان وسائل کی ضرورت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ قومی ٹیموں کو بین الاقوامی مقابلوں کی تیاری کے لیے بہتر سہولتیں درکار ہیں، نوجوان کھلاڑیوں کے لیے باقاعدہ مقابلوں کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے اور ملک کے مختلف اضلاع میں فٹبال گراؤنڈز اور تربیتی مراکز کی صورت حال بھی یکساں نہیں۔

ایسے میں فیفا کی مجوزہ فنڈنگ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے لیے ایک اہم موقع بن سکتی ہے۔ لیکن رقم میں اضافہ اور کھیل میں بہتری ایک ہی چیز نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب فنڈز سے بننے والے منصوبے مکمل ہوں، سہولتیں کھلاڑیوں کو دستیاب ہوں اور ان کے نتائج میدان میں نظر آئیں۔

پاکستان فٹبال میں اصل ضرورت محض نئے منصوبوں کے اعلانات کی نہیں بلکہ ایسے نظام کی ہے جو ہر ڈالر کے استعمال، منصوبے کی تکمیل اور حاصل ہونے والے نتائج کا حساب دے سکے۔

گزشتہ دس برسوں کے فنڈز⁦:⁩حساب کتاب کہاں ہے؟

پاکستان فٹبال فیڈریشن کے مالیاتی معاملات پر بحث کرتے ہوئے گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے ترقیاتی اور انتظامی اخراجات کا جائزہ ناگزیر ہے۔

فٹبال حلقوں میں فیفا کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فنڈز کے استعمال، مختلف منصوبوں کی تکمیل اور مالیاتی شفافیت کے حوالے سے متعدد سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ان سوالات کا جواب قیاس آرائیوں یا بیانات سے نہیں بلکہ متعلقہ مالیاتی ریکارڈ، آڈٹ رپورٹس اور منصوبوں کی دستاویزی تفصیلات سے ملنا چاہیے۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ⁦2016⁩سے⁦2026⁩تک پاکستان فٹبال فیڈریشن کو مختلف ترقیاتی پروگراموں کے تحت کتنی رقم مختص ہوئی، کتنی رقم جاری کی گئی، کن منصوبوں پر خرچ ہوئی اور ان منصوبوں سے پاکستانی فٹبال کو کیا فائدہ پہنچا۔

اسی طرح یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ متعلقہ مالیاتی برسوں کے آڈٹ مکمل ہوئے یا نہیں، فیفا کو مطلوبہ دستاویزات جمع کرائی گئیں یا نہیں، اور اگر آڈٹ میں کوئی اعتراض سامنے آیا تو اس کے ازالے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔

شفافیت کے لیے پانچ بنیادی سوالات

  1. کتنی رقم مختص ہوئی اور کتنی حقیقتاً جاری کی گئی؟
  2. رقوم کن ترقیاتی اور انتظامی منصوبوں پر خرچ ہوئیں؟
  3. کون سے منصوبے مکمل، فعال یا نامکمل ہیں؟
  4. آڈٹ رپورٹس اور مالیاتی اعتراضات کی کیا صورت حال ہے؟
  5. کھلاڑیوں اور فٹبال کے نظام کو ان اخراجات سے کیا فائدہ پہنچا؟

یہاں یہ فرق بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ کسی رپورٹ کا عوامی سطح پر دستیاب نہ ہونا بذاتِ خود مالی بے ضابطگی کا ثبوت نہیں۔ تاہم اتنے بڑے مالیاتی پروگراموں کے حوالے سے معلومات کی عدم دستیابی شفافیت اور جواب دہی کے تقاضوں کو ضرور اہم بنا دیتی ہے۔

پاکستان فٹبال فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ گزشتہ دس برسوں کے فنڈز اور منصوبوں کی تفصیلات مرتب کرکے سامنے لائے، تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ عالمی ادارے کی جانب سے فراہم کردہ وسائل نے ملک میں فٹبال کی ترقی میں کتنا کردار ادا کیا۔

فٹبال کے بنیادی ڈھانچے اور سہولتوں کا جائزہ

فیفا گول پروجیکٹ⁦:⁩کروڑوں روپے کے منصوبے، مگر فٹبال کہاں ہے؟

پاکستان فٹبال کے بنیادی ڈھانچے کی بات ہو اور فیفا کے سابقہ گول پروجیکٹ کا ذکر نہ آئے، ایسا ممکن نہیں۔

فیفا گول پروگرام کے تحت پاکستان میں فٹبال کے بنیادی ڈھانچے، تکنیکی مراکز اور تربیتی سہولتوں کے قیام کے لیے متعدد منصوبے منظور کیے گئے تھے۔ ان منصوبوں کا مقصد ملک میں فٹبال کے لیے ایسی سہولتیں فراہم کرنا تھا جو قومی کھیل کے فروغ، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور انتظامی سرگرمیوں میں مدد دے سکیں۔

لیکن ان منصوبوں کی عملی صورت حال نے وقتاً فوقتاً سوالات کو جنم دیا۔

ستمبر⁦2015⁩میں یورونیوز نے رائٹرز کی ایک رپورٹ شائع کی، جس میں پاکستان میں فیفا گول پروجیکٹس کے تحت تعمیر ہونے والے مراکز کی حالت، نامکمل سہولتوں اور بعض مقامات پر ان کے غیر مؤثر استعمال کی نشان دہی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے آٹھ گول پروجیکٹس مختص کیے گئے تھے، تاہم اس وقت لاہور میں پی ایف ایف ہیڈکوارٹر ہی مکمل اور فعال منصوبے کے طور پر نمایاں تھا، جبکہ دیگر مراکز کی حالت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

بعد ازاں جون⁦2020⁩میں روزنامہ ڈان نے بھی پاکستان کے گول پروجیکٹس کی صورت حال پر رپورٹ شائع کی۔ اس رپورٹ کے مطابق آٹھ منصوبوں میں سے صرف لاہور کا پی ایف ایف ہاؤس مکمل اور فعال تھا، چھ دیگر مراکز جلد بازی میں تعمیر کیے گئے دکھائی دیتے تھے اور ان کا استعمال محدود تھا، جبکہ پشاور کا منصوبہ منسوخ کردیا گیا تھا۔

گول پروجیکٹس کا بنیادی امتحان

عمارت کی تعمیر منصوبے کا صرف ایک مرحلہ ہے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ مرکز فعال ہے یا نہیں، وہاں تربیت ہوتی ہے یا نہیں، اور نوجوان کھلاڑیوں کو مستقل بنیادوں پر سہولتیں میسر ہیں یا نہیں۔

یہ رپورٹیں پاکستان میں فیفا کے سابقہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور افادیت سے متعلق اہم دستاویزی حوالہ فراہم کرتی ہیں۔ تاہم ہر منصوبے کے مالیاتی نتائج، اخراجات اور ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لیے متعلقہ معاہدوں، ادائیگیوں اور آڈٹ ریکارڈ کا الگ جائزہ ضروری ہے۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جن منصوبوں پر رقم خرچ کی گئی، کیا ان سے مطلوبہ سہولتیں مستقل طور پر فراہم ہوئیں؟ کیا تعمیر ہونے والے مراکز میں باقاعدہ تربیتی سرگرمیاں جاری رہیں؟ اور کیا ان منصوبوں کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کو وہ مواقع ملے جن کے لیے یہ منصوبے شروع کیے گئے تھے؟

اگر کسی مرکز کی عمارت تعمیر ہوجائے لیکن وہاں کھلاڑیوں کی تربیت، کوچنگ اور مقابلوں کا مؤثر نظام قائم نہ ہو تو اس منصوبے کے بنیادی مقصد پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

فٹبال کے ترقیاتی مراکز اور منصوبوں کی صورت حال

پشاور گول پروجیکٹ⁦:⁩مالیاتی جواب دہی کا اہم معاملہ

پشاور گول پروجیکٹ کا معاملہ محض ایک نامکمل منصوبے کی مثال نہیں رہا بلکہ اس سے متعلق مالیاتی اور انتظامی ذمہ داریوں پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔

پاکستان فٹبال فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی کے⁦2025⁩میں جاری کردہ ایک فیصلے میں پشاور گول پروجیکٹ کے حوالے سے تقریباً⁦5⁩کروڑ روپے حکومتی معاونت اور فیفا کی جانب سے⁦3⁩کروڑ⁦90⁩لاکھ روپے سے زائد سرمایہ کاری کا ذکر کیا گیا۔ فیصلے میں منصوبے کے نامکمل رہ جانے اور ترک کیے جانے پر تشویش ظاہر کی گئی اور متعلقہ عہدے داروں کی نگرانی و انتظامی ذمہ داریوں پر بھی تبصرہ کیا گیا۔

تقریباً⁦5⁩کروڑ
روپے، حکومتی معاونت کا ذکر

3.9 کروڑ سے زائد
روپے، فیفا کی سرمایہ کاری کا ذکر

یہ ایک اہم دستاویزی پیش رفت ہے، کیونکہ یہاں معاملہ محض صحافتی تنقید تک محدود نہیں رہتا بلکہ پی ایف ایف کے اپنے ادارہ جاتی فیصلے میں بھی منصوبے کے مالیاتی حجم اور نامکمل رہ جانے کا ذکر موجود ہے۔

تاہم اس فیصلے کے تمام قانونی نتائج، متعلقہ افراد کے خلاف حتمی ذمہ داریوں اور کسی ممکنہ مزید کارروائی کو بیان کرتے وقت فیصلے کے مکمل متن اور متعلقہ اپیل یا کارروائی کی موجودہ حیثیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

اس معاملے سے ایک بنیادی سوال ضرور جنم لیتا ہے⁦:⁩اگر کسی منصوبے پر قومی خزانے اور عالمی فٹبال کے وسائل خرچ ہوں، لیکن مطلوبہ سہولتیں مکمل نہ ہوں تو اس نقصان کا حساب کون دے گا؟

پاکستان فٹبال فیڈریشن اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ گول پروجیکٹس کی مجموعی صورت حال، ہر منصوبے پر خرچ ہونے والی رقم، تکمیل کی حیثیت اور موجودہ استعمال کی تفصیلات سامنے لائیں۔ صرف عمارتوں کی تعداد بتانا کافی نہیں، ان عمارتوں سے فٹبال کو حاصل ہونے والے فائدے کا جائزہ بھی ضروری ہے۔

پاکستان میں فٹبال کے منصوبوں کی نگرانی اور جواب دہی

فٹسال اور بیچ فٹبال⁦:⁩نظرانداز شعبوں کی کہانی

پاکستان فٹبال کے ترقیاتی منصوبوں میں فٹسال اور بیچ فٹبال کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

فٹسال کھلاڑیوں کی تکنیکی مہارت، تیز رفتار فیصلوں، قریبی کنٹرول اور پاسنگ کی صلاحیت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح بیچ فٹبال ساحلی علاقوں میں کھیل کو فروغ دینے اور نئے کھلاڑیوں کو مقابلوں میں شامل کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

پاکستان کے ساحلی علاقوں، خصوصاً بلوچستان اور سندھ میں بیچ فٹبال کے فروغ کے امکانات موجود ہیں۔ اسی طرح ملک کے شہری مراکز اور تعلیمی اداروں میں فٹسال کے لیے منظم مقابلوں اور تربیتی سرگرمیوں کا دائرہ بڑھایا جاسکتا ہے۔

لیکن ان دونوں شعبوں میں ترقی کے لیے محض بجٹ مختص کرنے یا منصوبوں کا اعلان کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ ضروری ہے کہ متعلقہ فنڈز کی منظوری، اخراجات، مقابلوں کے انعقاد، تربیتی سہولتوں اور حاصل شدہ نتائج کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔

فٹبال حلقوں میں ان شعبوں کے لیے مختص وسائل کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ان سوالات کی تصدیق کے لیے پی ایف ایف کو واضح کرنا چاہیے کہ گزشتہ دس برسوں میں فٹسال اور بیچ فٹبال کے لیے کتنے منصوبے منظور کیے گئے، کتنی رقم مختص ہوئی، کتنی خرچ ہوئی اور ان سے کتنے کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچا۔

اگر کسی منصوبے پر مختص رقم خرچ نہیں ہوئی، یا منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تو اس کی وجوہات اور مالیاتی صورت حال بھی واضح کی جانی چاہیے۔

پاکستان میں فٹبال کے ان شعبوں کو مستقل قومی مقابلوں، تربیت یافتہ کوچز، عمر کے مختلف گروپس کی ٹیموں اور واضح ترقیاتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ نئے فنڈز کی تقسیم میں ان شعبوں کو مناسب اہمیت دیے بغیر کھیل کی مجموعی ترقی کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

پاکستان میں فٹبال کی تربیت اور متبادل فارمیٹس

کیا فیفا پاکستان فٹبال فیڈریشن سے بازپرس کرے گی؟

فیفا کے ترقیاتی فنڈز کے ساتھ نگرانی اور آڈٹ کے تقاضے بھی منسلک ہیں۔ فنڈز کے مقررہ مقاصد کے مطابق استعمال، مالیاتی دستاویزات کی فراہمی اور منصوبوں کی نگرانی اس نظام کا اہم حصہ ہیں۔

اگر کسی منصوبے میں مالیاتی بے ضابطگی کے شواہد سامنے آئیں، رقم منظور شدہ مقصد کے بجائے کسی دوسرے مصرف میں استعمال ہونے کی تصدیق ہو یا مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کی جائیں تو فیفا اپنے قواعد کے تحت معاملے کا جائزہ لے سکتی ہے۔ حالات اور متعلقہ قواعد کے مطابق مزید فنڈز کے اجرا کو شرائط سے مشروط کرنے یا دیگر اقدامات کی گنجائش بھی ہوسکتی ہے۔

لیکن پاکستان فٹبال فیڈریشن کے تمام ترقیاتی فنڈز کے بارے میں کسی ایک عمومی نتیجے پر پہنچنے کے لیے مکمل مالیاتی ریکارڈ ضروری ہے۔ کسی منصوبے کے نامکمل ہونے اور کسی مخصوص شخص کے خلاف مالیاتی بے ضابطگی ثابت ہونے میں فرق ہے۔

اسی لیے اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ فیفا نے پاکستان کے گول پروجیکٹس اور بعد کے ترقیاتی پروگراموں کا کیا جائزہ لیا، کن منصوبوں پر اعتراضات سامنے آئے، ان اعتراضات کا ازالہ کیسے کیا گیا اور آیا کسی معاملے میں رقم کی واپسی، ذمہ داری کے تعین یا مزید کارروائی کی ضرورت محسوس ہوئی۔

پاکستان فٹبال کے شائقین، کلبوں اور کھلاڑیوں کے لیے یہ معلومات اس لیے اہم ہیں کہ ان کے کھیل کی ترقی کے لیے مختص وسائل کا اصل فائدہ میدان میں نظر آنا چاہیے۔

پاکستان فٹبال میں ادارہ جاتی نگرانی اور کھیل کی ترقی

نئے فنڈز سے پہلے پرانے منصوبوں کا حساب

فیفا کی مجوزہ نئی فنڈنگ پاکستان فٹبال کے لیے ایک اہم موقع ضرور ہے، لیکن اس موقع کو حقیقی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے گزشتہ منصوبوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔

پاکستان فٹبال فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ گزشتہ دس برسوں کے ترقیاتی اور انتظامی اخراجات کا قابلِ فہم خلاصہ جاری کرے۔ اس میں فیفا سے موصول ہونے والی رقوم، منظور شدہ منصوبے، ان پر کیے گئے اخراجات، نامکمل منصوبوں کی وجوہات اور آڈٹ کی صورت حال شامل ہونی چاہیے۔

گول پروجیکٹس کے حوالے سے بھی ہر مرکز کی موجودہ حیثیت واضح کی جائے۔ کون سا منصوبہ مکمل ہے؟ کون سا فعال ہے؟ کہاں تربیتی سرگرمیاں جاری ہیں؟ اور کن مراکز کو بحالی یا اضافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے؟

نئے منصوبوں کے لیے بھی واضح اہداف مقرر ہونے چاہئیں۔ اگر کسی شہر میں اکیڈمی قائم کی جاتی ہے تو اس کی کامیابی صرف عمارت کی تعمیر سے نہیں ناپی جانی چاہیے، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ کتنے کھلاڑی تربیت حاصل کررہے ہیں، کتنے کوچز دستیاب ہیں، کتنے مقابلے منعقد ہوتے ہیں اور وہاں سے قومی سطح کے کھلاڑی تیار کرنے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔

اسی طرح فٹسال، بیچ فٹبال، خواتین کی فٹبال اور نوجوانوں کے مقابلوں کے لیے الگ اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج مقرر کیے جائیں۔

یہی طریقہ ہے جس سے عالمی مالی معاونت اخراجات کی ایک فہرست کے بجائے کھیل کی حقیقی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

نوجوان کھلاڑیوں کے لیے فٹبال کی سہولتیں

پاکستان فٹبال کی اصل ضرورت کیا ہے؟

پاکستان میں فٹبال کی ترقی کے لیے چند بنیادی ترجیحات ناگزیر ہیں۔

01۔ بنیادی ڈھانچہ

ملک بھر میں معیاری گراؤنڈز اور تربیتی مراکز قائم کیے جائیں اور پہلے سے موجود سہولتوں کو فعال بنایا جائے۔

02۔ نوجوان کھلاڑی

اسکولوں، کالجوں، کلبوں اور ضلعی ایسوسی ایشنز کے درمیان مربوط نظام قائم کیا جائے تاکہ مسلسل تربیت اور مقابلوں کے مواقع میسر ہوں۔

03۔ باقاعدہ لیگز

قومی اور صوبائی سطح پر لیگز اور عمر کے مختلف گروپس کے مقابلوں کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔

04۔ نئے شعبے

خواتین کی فٹبال، فٹسال اور بیچ فٹبال کے لیے الگ ترقیاتی پروگرام تشکیل دیے جائیں۔

05۔ مالیاتی شفافیت

ترقیاتی فنڈز کے استعمال، منصوبوں کی تکمیل اور آڈٹ کے نتائج کے حوالے سے شفافیت اور جواب دہی کو لازمی بنایا جائے۔

06۔ پرانے مراکز کا جائزہ

فیفا گول پروجیکٹ کے تحت قائم ہونے والے مراکز کا عملی جائزہ لیا جائے تاکہ کارآمد سہولتوں اور اضافی توجہ کے محتاج منصوبوں کی نشان دہی ہوسکے۔

مسلسل میچ پریکٹس کے بغیر قومی ٹیموں کی کارکردگی میں پائیدار بہتری کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ پاکستان کو اب ایسے منصوبوں کی ضرورت ہے جو کاغذوں اور عمارتوں سے آگے بڑھ کر کھلاڑیوں کی تربیت، قومی مقابلوں اور بین الاقوامی کارکردگی میں بہتری کا باعث بنیں۔

پاکستان فٹبال کی ترقی اور مستقبل کے امکانات

نتیجہ⁦:⁩پاکستان کو صرف ڈالر نہیں، جواب دہ نظام بھی چاہیے

فیفا کی جانب سے⁦2027⁩سے⁦2030⁩کے لیے⁦6⁩ارب⁦35⁩کروڑ ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری عالمی فٹبال کی ترقی کے لیے ایک بڑا منصوبہ ہے۔ پاکستان بھی اس سے فائدہ اٹھانے کی امید رکھتا ہے، لیکن اس مالی معاونت کی اصل افادیت کا فیصلہ رقم کی مقدار نہیں بلکہ اس کے استعمال کے نتائج کریں گے۔

گزشتہ برسوں کے گول پروجیکٹس، خصوصاً پشاور کے نامکمل منصوبے سے متعلق دستاویزی سوالات، پاکستان فٹبال کے لیے ایک واضح سبق ہیں⁦:⁩ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کے ساتھ منصوبہ بندی، نگرانی، بروقت تکمیل اور مالیاتی جواب دہی بھی ضروری ہے۔

فیفا کو اپنے قواعد کے مطابق نگرانی اور آڈٹ کے نظام کو مؤثر بنانا ہوگا، جبکہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماضی کے منصوبوں اور اخراجات کے بارے میں شفاف معلومات فراہم کرے۔ فٹسال اور بیچ فٹبال سمیت ان شعبوں کی صورت حال بھی واضح ہونی چاہیے جنہیں قومی فٹبال کی ترقی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

پاکستان فٹبال کو صرف مزید ڈالرز نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں ہر منصوبے کا مقصد واضح ہو، ہر خرچ کا حساب موجود ہو، ہر مرکز کھلاڑیوں کے لیے کارآمد ہو اور ہر ترقیاتی پروگرام کے نتائج کا جائزہ لیا جاسکے۔

اصل امتحان

اصل امتحان یہ نہیں کہ فیفا پاکستان فٹبال کے لیے کتنی رقم مختص کرتی ہے؛ اصل امتحان یہ ہے کہ اس رقم سے کتنے گراؤنڈ آباد ہوتے ہیں، کتنے نوجوان کھلاڑی تیار ہوتے ہیں اور پاکستان فٹبال کتنی حقیقی ترقی کرتا ہے۔

تحریر و رپورٹ
اسحاق بلوچ
نیویارک اُردو

اسحاق بلوچ

اسحاق بلوچ پاکستان فٹبال، فیفا، پاکستان فٹبال فیڈریشن، FIFA Development Funds، FIFA Forward، گول پروجیکٹ، پشاور گول پروجیکٹ، فٹبال فنڈز، مالیاتی شفافیت، اسحاق بلوچ، فٹسال، بیچ فٹبال
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleانڈونیشی پائلٹ کے باعث اسرائیل جانے والی پرواز واپس
Next Article لاہور کی گلیوں میں یہودی ماضی کے نقوش
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

ہیلے اسٹیونز نے مائیک راجرز کی حمایت کر دی

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.