لاہور کی گلیوں میں یہودی ماضی کے نقوش
ایک بھولی بسری تاریخ، مشترکہ ثقافتی ورثہ اور لاہور کی گلیوں میں محفوظ یہودی خاندانوں کی یادیں
عالیہ شاہ
صحافی، مصنفہ، ولاگر اور امن کی کارکن
زندگی میں بہت بعد جا کر مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ پاکستان کی تاریخ یہودی ورثے سے کتنی گہرائی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اور اس سے اسرائیل کی تاریخ سے بھی وابستہ ہے۔
بچپن سے لے کر جوانی تک ہمارے سامنے جو بیانیہ پیش کیا جاتا رہا، وہ یہ تھا کہ ایک فلسطینی لڑکا اپنے ہاتھ میں پتھر لیے اسرائیل کے ٹینک کے سامنے کھڑا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی پڑھایا جاتا کہ ہٹلر نے یہودیوں کو کس طرح گیس چیمبروں میں ہلاک کیا اور ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں پر کس پیمانے پر ظلم ڈھائے گئے۔ اس یک رخی تعلیم نے ہمیں یہ سوچنے کا موقع ہی نہ دیا کہ کبھی لاہور بھی یہودیوں کا مسکن رہا ہے۔ اسرائیل کے لیے دل میں رنجش رکھنے والے ہزاروں، بلکہ شاید لاکھوں پاکستانی آج بھی اس حقیقت سے ناواقف ہوں گے کہ یہودی شخصیات نے پاکستان کے تعمیراتی اور ثقافتی ورثے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اسی طرح اسرائیل میں بسنے والے لاکھوں یہودی بھی اس غیرمعمولی تاریخی تعلق سے بے خبر ہوں گے۔ کراچی، پشاور، راولپنڈی اور لاہور جیسے شہروں کے تعمیراتی حسن اور دیرپا تشخص کا ایک حصہ یہودی معماروں، ڈیزائنروں اور ہنرمندوں کی بصیرت، مہارت اور فنی کمال کا مرہونِ منت ہے۔ ان کی شاندار تخلیقات ایسی یادگاریں بن گئیں جو آج بھی ان شہروں کی شناخت کا حصہ ہیں۔
اگرچہ بعض لوگ جانتے ہیں کہ کراچی میں کبھی ایک یہودی برادری آباد تھی، لیکن بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ یہودی لاہور میں بھی رہتے تھے، جہاں وہ اپنی موجودگی کے نقوش اور ایک ایسا ورثہ چھوڑ گئے جو آج بڑی حد تک فراموش کیا جا چکا ہے۔
جس لاہور کو میں اپنے گمان میں اتنی گہرائی سے جانتی تھی، وہ خاموشی سے ایک ایسا یہودی ماضی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے تھا جسے پہچاننا مجھے کبھی سکھایا ہی نہیں گیا تھا۔
لاہور:میرا شہر، ایک انجان ماضی
لاہور میرا جنم استھان ہے؛ وہ شہر جہاں میں پلی بڑھی اور جس نے میری زندگی کو شکل دی۔ میں نے اس کی گلیوں کی خاک چھانی، اس کے تاریخی محلوں کو کھوجا اور نوآبادیاتی دور کی عمارتوں کو دیکھا، مگر اس کے باوجود اس حقیقت سے بالکل بے خبر رہی کہ لاہور کبھی یہودی باشندوں کا گھر بھی تھا۔ جس لاہور کو میں اپنے گمان میں اتنی گہرائی سے جانتی تھی، وہ خاموشی سے ایک ایسا یہودی ماضی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے تھا جسے پہچاننا مجھے کبھی سکھایا ہی نہیں گیا تھا۔
55 لارنس روڈ کی یادیں
لاہور میں پچپن لارنس روڈ کی کوٹھی ایک یہودی خاتون ہیزل سیزلر کاہان کی حسین یادوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ہیزل سیزلر نے ان یادوں کو کتاب کی صورت میں قلمبند بھی کیا۔ اس کتاب کا نام A House in Lahore ہے۔
جرمنی میں ہٹلر کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے ہیزل کے خاندان نے پناہ کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑ دیا تھا۔ ان کا سفر پہلے انہیں بمبئی لے گیا، جہاں سے وہ امریکہ جانے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن بالآخر لاہور آ پہنچے۔ اسی تاریخی شہر کے ایک گھر،55لارنس روڈ، میں1939ء میں ہیزل کی پیدائش ہوئی۔ لارنس گارڈن کی نسبت سے یہ سڑک لارنس گارڈن روڈ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ لارنس کا نام پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر اور بعدازاں ہندوستان کے وائسرائے رہنے والی شخصیت سے منسوب ہے۔ آج ہیزل سیزلر کاہان کا یہ گھر،55لارنس روڈ، پاکستان کے ایک بااثر سیاسی خاندان کی ملکیت ہے۔
میرا کئی مرتبہ55لارنس روڈ سے گزر ہوا اور اس جگہ جانا بھی ہوا، مگر مجھے کیا خبر تھی کہ یہ مانوس پتہ کبھی ایک یہودی خاندان کا گھر رہا ہے۔ ہیزل سیزلر کاہان، ان کے والدین اور چھوٹے بھائی نے لاہور کے اس گھر میں کئی پُرسکون برس گزارے۔ وہ ایک بالکل ہی مختلف لاہور تھا؛ ایسا شہر جس کی باہمی رواداری، برداشت اور ثقافتی رنگارنگی کا تصور آج کے پاکستان میں تقریباً ناممکن سا محسوس ہوتا ہے۔
وہ موڑ جب یہودی خاندان لاہور چھوڑنے لگے
1967ء کی عرب اسرائیل جنگ ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ یہودیوں کے خلاف جذبات شدت اختیار کرنے لگے اور رفتہ رفتہ یہودی خاندان ایک ایک کر کے اس شہر کو الوداع کہنے لگے۔ بالآخر1971ء میں ہیزل اور ان کا خاندان بھی لاہور چھوڑ کر امریکہ آنے پر مجبور ہو گیا۔
برطانوی نوآبادیاتی عہد اور1947ء میں پاکستان کے قیام سے پہلے کی دہائیوں میں یہودی برادریاں اس خطے کے متنوع سماجی اور ثقافتی تانے بانے کا حصہ تھیں۔ بالخصوص تجارت، شہری زندگی اور فنِ تعمیر میں ان کی خدمات اس سرزمین کی تاریخ کا ایک دل چسپ، مگر اکثر نظرانداز کیا جانے والا باب ہیں۔
کراچی کی عمارتوں میں یہودی معماروں کے نقوش
اس کی ایک نمایاں مثال تاریخی فلیگ اسٹاف ہاؤس ہے، جو آج قائداعظم ہاؤس میوزیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہزاروں پاکستانی جناح سے نسبت کی وجہ سے اس عمارت کو دیکھنے آتے ہیں، لیکن ان میں سے کتنے جانتے ہیں کہ اس کا تعلق ایک یہودی معمار سے بھی ہے؟ اس معمار کا نام موسیٰ سومیک تھا، جو1875ء میں لاہور میں پیدا ہوئے اور جن کا تعمیراتی ورثہ بالخصوص کراچی میں نمایاں ہوا۔ ان کے کام نے شہر کے نوآبادیاتی دور کے فنِ تعمیر کو ایک منفرد شناخت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
فنِ تعمیر کی ایک اور یادگار میولز مینشن ہے، جسے ممتاز پارسی تاجر فقیر جی کاوس جی نے تعمیر کروایا تھا۔ یہ عمارت اس دور کی نمائندگی کرتی ہے جب کراچی ایک پھلتی پھولتی تجارتی بندرگاہ کے طور پر ابھر رہا تھا۔ ایک عرصے تک میولز مینشن پاکستان بحریہ کے صدر دفتر کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی۔
پھر ایڈورڈ ہاؤس بھی ہے، جو اسی یہودی معمار موسیٰ سومیک کی ایک اور تعمیراتی تخلیق ہے۔ اس عمارت کا نام ان کے بیٹے ایلس ایڈورڈ کے نام پر رکھا گیا تھا، اور یہ آج بھی کراچی کے کثیرالثقافتی ماضی کی ایک اہم یادگار ہے۔ کبھی اس کی نچلی منزل پر مشہور گرینڈ کیفے ہوا کرتا تھا؛ میل جول کا ایک مقبول مرکز، جو پرانے کراچی کی معاشرتی نفاست اور شہری رکھ رکھاؤ کی عکاسی کرتا تھا۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی معاشرہ ایک برادری سے اتنا کچھ ورثے میں پائے، اور پھر اسی برادری کی خدمات کو پہچاننے سے قاصر رہے؟
مشترکہ ورثے کو پہچاننے کی ضرورت
لاہور کے ایک گھر سے شروع ہونے والی یہ یادیں دراصل پاکستان کے ایک وسیع تر تاریخی تجربے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ شہروں کی عمارتیں، گلیاں اور تاریخی مقامات صرف اینٹ، پتھر اور طرزِ تعمیر کا مجموعہ نہیں ہوتے؛ ان میں ان لوگوں کی زندگیاں، یادیں اور ثقافتی اثرات بھی محفوظ ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی ان شہروں کو اپنا گھر کہا تھا۔
کسی برادری کی تاریخ کو فراموش کر دینا اس کے ماضی کو ہی نہیں، اپنے معاشرے کی تاریخ کے ایک حصے کو بھی نظروں سے اوجھل کر دینا ہے۔ پاکستان کے یہودی ورثے کو سمجھنا ماضی کی طرف محض ایک نظر ڈالنا نہیں، بلکہ اس تہذیبی تنوع کو تسلیم کرنا ہے جس نے ہمارے شہروں کو ان کی منفرد شناخت عطا کی۔
تاریخ کو اس کی تمام پیچیدگیوں اور تنوع کے ساتھ پڑھنا ہی ہمیں اپنے ماضی کو بہتر طور پر سمجھنے اور مختلف برادریوں کے درمیان مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کے امکانات تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
مصنفہ کا تعارف
عالیہ شاہ ایک صحافی، مصنفہ، ولاگر اور امن کی کارکن ہیں۔ ان کے کالم امریکہ، اسرائیل اور پاکستان کے اخبارات اور جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
