دریائے سندھ کا معاہدہ:پاکستان کے آبی حقوق، قومی سلامتی اور مشترکہ حکمتِ عملی کا امتحان
پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں، بلکہ پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ، معیشت اور قومی سلامتی کی بنیاد ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کے اقدام نے اس بنیادی حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے کہ پاکستان کے آبی حقوق کا تحفظ اب صرف تکنیکی یا سفارتی معاملہ نہیں رہا، بلکہ قومی بقا سے جڑا سوال بن چکا ہے۔
31 اکتوبر2026کو یونیورسٹی آف لاہور میں منعقدہ قومی مکالمے میں ملک کی سیاسی، پارلیمانی، صحافتی، قانونی اور علمی شخصیات نے سندھ طاس معاہدے کے تاریخی پس منظر، قانونی حیثیت، سفارتی پہلوؤں، موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور پاکستان کی آبی ضروریات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ اس گفتگو کا مرکزی پیغام واضح تھا:پاکستان کو اپنے آبی حقوق کے دفاع کے لیے مؤثر سفارت کاری، قانونی حکمتِ عملی، بین الصوبائی ہم آہنگی اور اپنے آبی وسائل کے بہتر انتظام کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔
اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان، پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر اور سینیٹر نثار احمد کھوڑو، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل(ر) مزمل حسین، انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ، سینیٹر محسن لغاری، ارسا کے رکن پنجاب امجد سعید، سینئر صحافی سہیل وڑائچ، سندھ کے صوبائی وزیر برائے جامعات محمد اسماعیل راہو، سابق وفاقی سیکریٹری عرفان علی، واپڈا کے مشیر شاہد حامد اور دیگر ماہرین نے شرکت کی۔
یونیورسٹیوں کو قومی مکالمے کا مرکز بنانے کی ضرورت
یونیورسٹی آف لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین اویس رؤف نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے قومی اہمیت کے معاملات پر یونیورسٹی کی سطح پر مکالمے کا تصور آگے بڑھایا۔ ان کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران قومی موضوعات پر مسلسل ساتویں سیمینار کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ جامعات قومی پالیسی اور عوامی مباحثے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ سلسلہ یونیورسٹی کے سینٹر آف پالیسی اینڈ نیشن بلڈنگ(CPNB)نے منیر اے خان کی سربراہی میں ممکن بنایا۔
یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ پانی جیسے بنیادی قومی مسئلے پر بحث صرف سرکاری دفاتر یا بند کمروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ پارلیمان، صوبائی اسمبلیوں، جامعات، ماہرین اور عوامی نمائندوں کے درمیان مسلسل مکالمہ ہی قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ملک محمد احمد خان:پاکستان کے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے یونیورسٹی آف لاہور کو قومی اہمیت کے موضوع پر مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کرنے پر سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مباحث بنیادی طور پر پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں ہونے چاہییں، تاہم جامعات پارلیمانی سطح پر پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے آگے آ رہی ہیں۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے خلاف یک طرفہ اقدام کو حالات میں بنیادی تبدیلی قرار دیا۔ ان کے مطابق پانی کے معاملے پر دونوں صوبوں کے خدشات حقیقی ہیں۔ سندھ کو خدشہ ہے کہ اس کے حصے کے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالی جا سکتی ہے اور زیریں علاقوں کو ان کے جائز پانی سے محروم کیا جا سکتا ہے، جبکہ پنجاب کو پانی کی دستیابی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
اسپیکر نے دونوں صوبوں کے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ مسلسل مکالمے کے ذریعے غلط فہمیاں دور کریں اور پانی کے معاملے پر مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کے سوال پر تمام متعلقہ فریقوں سے سنجیدہ مشاورت ضروری ہے۔
یہ مؤقف پاکستان کے لیے ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے:تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے، مگر قومی حقوق اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم میں کوئی ابہام نہ ہو۔
نثار کھوڑو:زیریں علاقوں کے خدشات نظرانداز نہیں کیے جا سکتے
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے قومی مسائل پر مکالمے کے لیے یونیورسٹی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کو خطے کا زیریں دریائی ملک اور سندھ کو پاکستان کا زیریں دریائی صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کی تقسیم کے کسی بھی نظام میں زیریں علاقوں کے مفادات اور خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق پانی کا مسئلہ تقریباً ایک صدی سے جاری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب سندھ نے سمندر کی پیش قدمی روکنے کے لیے بارش کے پانی کو استعمال کرنے کی تجویز پیش کی تھی تو اس کا مذاق اڑایا گیا، حالانکہ اس تجویز کا مقصد سمندر کو آگے بڑھنے سے روکنا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ کو اس پانی کی مقررہ مقدار بھی نہیں مل سکی جس کا اس سے وعدہ کیا گیا تھا۔
نثار کھوڑو کے مطابق اس مسئلے کے حل میں کوئی ناقابلِ عبور رکاوٹ موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت نے اس معاملے پر مضبوط اور واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔
یہ نکتہ قومی آبی پالیسی کے لیے نہایت اہم ہے۔ پاکستان کو بھارت کے ساتھ آبی تنازعے کا سامنا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بھی پانی کی منصفانہ تقسیم اور صوبوں کے درمیان اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔
قانونی محاذ اور سفارتی دباؤ
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سندھ طاس معاہدے کی قانونی بنیادوں کی وضاحت کرتے ہوئے موجودہ صورتِ حال کے لیے مستقبل پر نظر رکھنے والی حکمتِ عملی پیش کی۔ انہوں نے مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ نے خطے میں تیزی سے تبدیل ہوتے ماحولیاتی حالات کی جانب توجہ دلائی۔ ان کے مطابق بھارت کی جانب سے معاہدہ ختم کرنے کی یک طرفہ کوشش نے پاکستان کے لیے ایک نیا سفارتی اور سیاسی موقع بھی پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو خطے میں پانی کی تقسیم کے مستحکم نظام پر دانستہ حملہ قرار دیا اور کہا کہ بھارت کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر آمادہ کرنے کے لیے ٹھوس سفارتی اور قانونی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے زیرِ آبپاشی رقبے میں توسیع کے بنیادی فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔ اس پہلو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کو اپنے پانی کے حقوق کے دفاع کے ساتھ ساتھ اپنی زرعی ضروریات اور مستقبل کی آبی منصوبہ بندی کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔
معاہدے کی تاریخ اور پاکستان کی آبی سلامتی
سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل(ر) مزمل حسین نے کہا کہ بھارت2025میں یک طرفہ اقدام سے پہلے بھی مختلف طریقوں سے سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق2025کی جنگ کے بعد پاکستان اپنا مؤقف واضح کر چکا ہے کہ اس کے پانی کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بیرونی دباؤ کے مقابلے کے لیے پاکستان کو اندرونِ ملک بھی پانی کے مؤثر استعمال، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور انتظامی نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ صرف بیرونی تنازعے پر توجہ دینا کافی نہیں؛ پانی کے ضیاع کو روکنا اور دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنا بھی قومی سلامتی کا حصہ ہے۔
سہیل وڑائچ:مذاکرات اور تجارت کے راستے بند نہیں ہونے چاہییں
سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے سندھ طاس معاہدے کو1947کی تقسیم کے بعد برصغیر کے لیے دوسری اہم ترین مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق اس معاہدے نے خطے میں پانی کی تقسیم کے لیے ایک قابلِ پیش گوئی نظام فراہم کیا۔ انہوں نے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور مکالمے کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے خطرات اور دھمکیوں نے پاکستان کو ایک سکیورٹی ریاست میں تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا، جس کے جمہوری عمل پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے پرویز مشرف کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت اور پانی کے راستے کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ مؤقف اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ قومی سلامتی اور سفارت کاری کو ایک دوسرے کی ضد نہیں بننا چاہیے۔ مضبوط دفاعی اور قانونی مؤقف کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا بھی دانش مندی ہے۔
سندھ کا ساحل، سمندر کی پیش قدمی اور پانی کی کمی
سندھ کے صوبائی وزیر برائے جامعات اور بورڈز محمد اسماعیل راہو نے سندھ کے ساحلی علاقوں کو درپیش سنگین خطرے پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق سمندر کی پیش قدمی کے باعث مختلف اضلاع میں ہزاروں ایکڑ زمین پہلے ہی سمندر برد ہو چکی ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں زیریں علاقوں تک پانی کے بہاؤ میں کمی شامل ہے۔
انہوں نے پانی کی قلت کے باعث سندھ کی اہم فصل گنے کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ذکر کیا۔ ان کا انتباہ تھا کہ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو مستقبل میں کراچی بھی سمندر کی پیش قدمی کے خطرے سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
یہ مسئلہ صرف ساحلی زمین کے کٹاؤ تک محدود نہیں۔ دریائے سندھ کے زیریں بہاؤ میں کمی زراعت، مقامی معیشت، ماحولیاتی نظام اور آبادیوں کے مستقبل پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ اس لیے پانی کی تقسیم کے قومی فیصلوں میں ڈیلٹا اور ساحلی علاقوں کی ماحولیاتی ضروریات کو بھی بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔
پانی کی منصفانہ تقسیم اور دریائی نظام کی حقیقت
ارسا کے رکن پنجاب امجد سعید نے پاکستان کے دریائی نظام اور انڈس بیسن کی ساخت پر شرکا کو بریفنگ دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ملک میں پانی کس طرح تقسیم کیا جاتا ہے اور آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم کیوں ضروری ہے۔
سابق سینیٹر اور پنجاب کے سابق وزیر برائے آبپاشی و خزانہ محسن لغاری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں پانی کی آلودگی روکنے سے متعلق شقیں موجود ہیں، تاہم پاکستان اور بھارت دونوں مختلف طریقوں سے ان کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس معاہدے نے آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والی زرعی زمین کو پانی کی فراہمی میں ایک حد تک تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت فراہم کی، جو زراعت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ آبی سلامتی صرف پانی کی مقدار کا نام نہیں۔ پانی کا معیار، آلودگی پر قابو، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور زرعی ضروریات کے مطابق اس کی فراہمی بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔
دریائے چناب:پاکستان کا حساس آبی محاذ
واپڈا کے مشیر برائے ہائیڈرولوجی اور واٹر مینجمنٹ شاہد حامد نے دریائے چناب کو ممکنہ بھارتی آبی اقدامات کے حوالے سے پاکستان کا سب سے زیادہ حساس دریا قرار دیا۔ ان کے مطابق اس دریا کا تمام پانی بھارت سے آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بھارتی آبی مداخلت کے ممکنہ اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے دریائے چناب پر چار ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
دریائے چناب کی حساسیت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کو اپنے دریاؤں کے بہاؤ، پانی کے ذخیرے اور ہنگامی منصوبہ بندی کے بارے میں تکنیکی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔ تاہم ڈیموں کی تعمیر کے فیصلے ماحولیاتی اثرات، مقامی آبادیوں، مالی وسائل اور صوبائی مفادات کو سامنے رکھ کر کیے جانے چاہییں۔
چین کے ساتھ علاقائی سفارت کاری کی اہمیت
وزارتِ آبی وسائل کے سابق وفاقی سیکریٹری عرفان علی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کے وقت عالمی بینک کا جھکاؤ بھارت کی طرف تھا۔ تاہم موجودہ حالات میں پاکستان محض معاہدے سے الگ ہو کر مسئلے سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ لاہور سے گزرنے والا دریائے راوی معاہدے کے تحت بھارت کے حصے میں آیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان کو چین کے ساتھ مل کر علاقائی سطح پر سفارتی دباؤ میں اضافہ کرنا چاہیے۔
یہ تجویز اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان کو اپنے آبی حقوق کے دفاع میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی سفارت کاری، عالمی اداروں اور متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔
قومی اتفاقِ رائے کے بغیر آبی سلامتی ممکن نہیں
یونیورسٹی آف لاہور کے اس مکالمے کا اختتام ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہوا۔ اس حکمتِ عملی کے بنیادی ستون مؤثر سفارت کاری، قانونی کارروائی، بین الصوبائی ہم آہنگی، آبی ذخائر کی تعمیر، ماحولیات کا تحفظ اور پانی کا بہتر انتظام قرار دیے گئے۔
اس مکالمے میں سامنے آنے والے خیالات سے ایک بنیادی حقیقت واضح ہوتی ہے:پاکستان کو بھارت کے یک طرفہ اقدامات کے خلاف قانونی اور سفارتی محاذ پر مضبوطی سے کھڑا ہونا ہوگا، لیکن اسی کے ساتھ اپنے اندرونی آبی نظام کی کمزوریوں کو بھی دور کرنا ہوگا۔ سندھ اور پنجاب کے خدشات کو سیاسی اختلاف کا عنوان بنانے کے بجائے قومی مشاورت کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔
سندھ کے زیریں علاقوں تک پانی کی فراہمی، پنجاب کی زرعی ضروریات، ساحلی علاقوں کا تحفظ، دریاؤں میں آلودگی کی روک تھام اور نئے آبی ذخائر کی تعمیر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو نظرانداز کرکے پائیدار آبی پالیسی تشکیل نہیں دی جا سکتی۔
- سندھ طاس معاہدے کے تحت قانونی اور سفارتی حقوق کا مؤثر دفاع۔
- پانی کی منصفانہ تقسیم پر وفاق اور صوبوں کے درمیان مستقل مکالمہ۔
- ڈیموں اور آبی ذخائر سمیت پانی محفوظ کرنے کے منصوبوں پر ذمہ دارانہ پیش رفت۔
- سندھ ڈیلٹا، ساحلی پٹی اور دریائی ماحول کا تحفظ۔
- زرعی، شہری اور صنعتی شعبوں میں پانی کے ضیاع کی روک تھام اور بہتر انتظام۔
پانی کا تحفظ، دراصل پاکستان کے مستقبل کا تحفظ ہے
پاکستان کی زرعی معیشت، غذائی سلامتی اور مستقبل کے معاشی و قومی مفادات کا انحصار اس بات پر ہے کہ ملک اپنے آبی وسائل کو کتنی دانش مندی سے استعمال اور کتنی منصفانہ انداز میں تقسیم کرتا ہے۔ بھارت کے ساتھ آبی تنازعے کی سنگینی اپنی جگہ، مگر قومی سطح پر پانی کے انتظام میں ناکامی بھی ایک ایسا خطرہ ہے جسے مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان ایک طرف بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کے تحت اپنے حقوق کا دفاع کرے، دوسری طرف اپنے دریاؤں، ڈیموں، نہروں، زرعی نظام اور ساحلی ماحول کے تحفظ کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کرے۔ اس عمل میں کسی صوبے کے خدشات کو دوسرے صوبے کے مفادات کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے مشترکہ قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔
پانی پر قومی اتفاقِ رائے محض ایک پالیسی انتخاب نہیں، پاکستان کی بقا، غذائی سلامتی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضرورت ہے۔
