عبدالسید کی معاون کے جو بائیڈن سے متعلق متنازع بیانات سامنے آگئے
واشنگٹن فری بیکن کے مطابق، روکسی رِچنر کی حذف شدہ سوشل میڈیا پوسٹس میں سابق امریکی صدر پر سنگین الزامات، سرمایہ داری پر تنقید اور یومِ آزادی کے موقع پر امریکہ کے بارے میں طنزیہ تبصرہ شامل تھا۔
واشنگٹن فری بیکن کی جانب سے حذف شدہ سوشل میڈیا پوسٹس کے جائزے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عبدالسید کی ایک اعلیٰ معاون روکسی رِچنر نے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے لیے سخت توہین آمیز الفاظ استعمال کیے اور ان پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، رِچنر نے4جولائی کو امریکہ کے یومِ آزادی کے موقع پر ملک کو ’’شرم ناک‘‘ اور ’’بے ذوق‘‘ قرار دینے والا طنزیہ تبصرہ بھی کیا تھا۔ یہ پوسٹس اب حذف ہو چکی ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض بیانات پہلے رپورٹ نہیں کیے گئے تھے۔
رِچنر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی سیاسی کارکن ہیں اور عبدالسید کی ڈائریکٹر برائے مواصلات کے طور پر کام کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، جب السید صحافیوں سے گفتگو کرتے ہیں تو رِچنر اکثر ان کے قریب موجود ہوتی ہیں۔ ان کے سخت سیاسی بیانات پر مشتمل ایکس اکاؤنٹ اس سے پہلے بھی توجہ حاصل کر چکا ہے۔
جو بائیڈن پر طارا ریڈ کے الزامات اور رِچنر کا ردِعمل
مئی2020میں، جب صدارتی امیدوار جو بائیڈن کو کانگریس کی ایک سابق معاون طارا ریڈ کی جانب سے جنسی زیادتی کے الزام کا سامنا تھا، رِچنر نے ایکس پر لکھا:
’’#IBelieveBiden raped tara reade and needs to be held accountable‘‘
واشنگٹن فری بیکن کے مطابق، رِچنر کی مئی2020کی پوسٹ کا متن۔
اس بیان میں رِچنر نے کہا تھا کہ وہ طارا ریڈ کے الزام پر یقین کرتی ہیں اور بائیڈن کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ اخبار کے مطابق، جب ایک ڈیموکریٹک کارکن نے پارٹی پر زور دیا کہ وہ عام انتخابات کے لیے بائیڈن کے گرد متحد ہو، تو رِچنر نے جواب دیا: ’’وہ ایک جنسی زیادتی کرنے والا ہے۔‘‘
یہ الزامات اس وقت امریکی سیاست میں ایک حساس تنازع بن گئے تھے۔ یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ رِچنر کے سوشل میڈیا بیانات، طارا ریڈ کے الزام اور اس الزام کی قانونی حیثیت الگ الگ امور ہیں؛ پوسٹس بذاتِ خود کسی الزام کو ثابت نہیں کرتیں۔
بائیڈن کے نائب صدر کے انتخاب پر بھی تنقید
رپورٹ کے مطابق، اپریل2020میں رِچنر نے بائیڈن کی جانب سے خاتون کو نائب صدر کے عہدے کے لیے منتخب کیے جانے کے تناظر میں سوال اٹھایا کہ اگر بائیڈن پر جنسی زیادتی کا الزام ہے تو نائب صدر کا خاتون ہونا کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔
مارچ2020میں طارا ریڈ کے الزامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے رِچنر نے کہا تھا کہ وہ یہ سن کر رو پڑی تھیں۔ ان کے مطابق:
’’مجھے ان کے لیے دکھ ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی کہانی سنانے کی کوشش کی اور کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔‘‘
رِچنر کے بیان کا اردو ترجمہ، جیسا کہ رپورٹ میں نقل کیا گیا۔
اسی ماہ انہوں نے بائیڈن کو مخاطب کرتے ہوئے نسلی تعصب سے متعلق ان کے ماضی کے بیانات پر بھی تنقید کی اور لکھا کہ الفاظ کی اہمیت کی بات کرنے والے بائیڈن کو اپنے مبینہ نسلی تعصب پر وضاحت دینی چاہیے۔
گرین نیو ڈیل، میڈیکیئر اور انتخابی مؤقف
اپریل2020میں رِچنر نے کہا تھا کہ وہ بائیڈن کو ووٹ نہیں دیں گی، جب تک وہ گرین نیو ڈیل اور سب کے لیے میڈیکیئر کی حمایت کا وعدہ نہیں کرتے۔ تاہم، بعد میں ان کا انتخابی مؤقف تبدیل ہوگیا۔
ستمبر2020میں انہوں نے سوشل میڈیا پر سخت زبان استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اپنے بنیادی جسمانی خودمختاری کے حق اور اپنی پسند کے شخص سے شادی کے حق کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے بائیڈن کو ووٹ دیں گی، چاہے وہ انہیں ناپسند ہی کیوں نہ ہوں۔
رِچنر کی پوسٹس میں بائیڈن پر شدید تنقید بھی دکھائی دیتی ہے اور بعد میں انہیں ووٹ دینے کی حمایت بھی۔ رپورٹ کے مطابق، ان کا مؤقف اس وقت تبدیل ہوا جب انتخابی مقابلہ اور ان کے نزدیک شہری حقوق کے تحفظ کا سوال زیادہ اہم ہوگیا۔
یومِ آزادی پر امریکہ کو ’’کرنج‘‘ قرار دیا
4 جولائی2020کو، جب بیشتر امریکی یومِ آزادی منا رہے تھے، رِچنر نے ایکس پر لکھا: ’’america is cringe‘‘۔ اس فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ امریکہ کا طرزِ عمل شرمندگی یا بے ذوقی کا باعث ہے۔
واشنگٹن فری بیکن نے رِچنر کی دیگر پوسٹس بھی نقل کیں۔ ایک میں انہوں نے سرمایہ داری کے حق میں تالیاں بجانے والوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناپسندیدگی سے دیکھا۔ جولائی2020میں انہوں نے لکھا، ’’مجھے مردوں سے نفرت ہے‘‘، جبکہ اگست میں ایک اور پوسٹ میں کہا کہ انہیں امید ہے ان کے بچے ہم جنس پرست ہوں گے۔
یہ تبصرے ذاتی اور سیاسی نوعیت کے تھے، تاہم ان کے سامنے آنے سے رِچنر کے عوامی بیانات اور سیاسی شناخت پر نئی بحث شروع ہو سکتی ہے۔
عبدالسید اور سیاہ فام ووٹرز کی حمایت کا معاملہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن کے بارے میں رِچنر کے بیانات اس وقت خاص سیاسی اہمیت رکھتے ہیں جب عبدالسید سیاہ فام ووٹرز اور عرب نژاد امریکی ووٹرز دونوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اخبار کے تجزیے کے مطابق، سیاہ فام ووٹرز میں بائیڈن کی حمایت اہم رہی ہے، جبکہ السید کے عرب نژاد حامیوں میں سے بہت سے افراد7اکتوبر کے بعد اسرائیل کے لیے امریکی مالی معاونت پر بائیڈن سے ناراض ہیں۔
اس صورتِ حال میں السید کے لیے ایک مشکل توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہیں غزہ کے معاملے پر اپنے عرب حامیوں کے تحفظات کو جگہ دینی ہے، لیکن ساتھ ہی ان ووٹرز سے بھی رابطہ قائم رکھنا ہے جن کے لیے بائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت اہم ہے۔
اخبار کے مطابق، السید نے بائیڈن پر اپنی عوامی تنقید زیادہ تر غزہ کے معاملے تک محدود رکھی ہے، جبکہ رِچنر کی پرانی پوسٹس میں زیادہ سخت اور براہِ راست زبان استعمال کی گئی۔
باراک اوباما پر السید کی سابقہ تنقید
رپورٹ میں السید کے سابقہ بیانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں انہوں نے امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر باراک اوباما پر تنقید کی تھی۔2012میں ہفنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک تحریر میں السید نے اوباما کی پالیسیوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے جنگوں کے تسلسل، شہری آزادیوں کی خلاف ورزیوں اور ملک بدریوں پر اعتراض کیا تھا۔
اس تحریر میں السید نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اوباما نے جنگوں کو جاری رکھا، شہری آزادیوں کی خلاف ورزی کی اور اپنے سے پہلے کسی بھی صدر کے مقابلے میں زیادہ افراد کو ملک بدر کیا۔ رپورٹ کے مطابق، السید بعد میں ان تبصروں سے لاتعلقی یا ان سے رجوع کر چکے ہیں۔
واشنگٹن فری بیکن کے مطابق، اوباما نے ہفتے کے روز ڈیٹرائٹ میں السید کے ساتھ انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ دوسری جانب، رپورٹ میں کہا گیا کہ خراب ہوتی صحت کے باعث جو بائیڈن انتخابی مہم کے دوران عوامی طور پر دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
رِچنر کے ماضی کے دیگر متنازع بیانات
رِچنر کو ماضی کے دیگر بیانات پر بھی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ واشنگٹن فری بیکن نے اپریل میں رپورٹ کیا تھا کہ انہوں نے سفید فام خواتین کو ’’پالیسی کی ناکامی‘‘ قرار دیا تھا اور بلیک لائیوز میٹر کی ہنگامہ آرائی کے دوران لوٹ مار کا دفاع کیا تھا۔
حالیہ رپورٹ میں سامنے آنے والی پوسٹس کے بعد رِچنر کے سابقہ بیانات، ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر نظریاتی اختلافات اور عبدالسید کی انتخابی حکمتِ عملی پر بحث مزید تیز ہو سکتی ہے۔
