• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » یہودی برطانیہ چھوڑنے لگے
تازہ ترین

یہودی برطانیہ چھوڑنے لگے

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 27, 2026Updated:اکتوبر 27, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

برطانیہ⁦|⁩اسرائیل⁦|⁩عالمی خبریں

برطانیہ میں یہود دشمنی کے خدشات⁦:⁩اسرائیل منتقل ہونے میں یہودی خاندانوں کی دلچسپی بڑھ گئی

لندن میں امیگریشن میلے میں⁦1,200⁩سے زائد برطانوی یہودیوں کی شرکت، جبکہ⁦130⁩یہودی ڈاکٹروں نے اسرائیل کے طبی شعبے میں ملازمتوں کے مواقع کا جائزہ لیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، ممکنہ تارکینِ وطن میں اسرائیل منتقل ہونے کی غیر معمولی عجلت دیکھی جا رہی ہے۔

اہم پیش رفت: اسرائیلی حکام کے مطابق، برطانیہ سے اسرائیل منتقل ہونے میں دلچسپی رکھنے والے یہودیوں کی تعداد اور عجلت کے احساس نے توجہ حاصل کی ہے۔ یہود دشمنی کے خدشات کے ساتھ روزگار، قومی شناخت اور اسرائیل میں مستقبل تعمیر کرنے کی خواہش بھی اس رجحان کے عوامل بتائے گئے ہیں۔

لندن میں امیگریشن میلے میں⁦1,200⁩سے زائد برطانوی یہودی شریک

برطانیہ میں بڑھتی ہوئی یہود دشمنی کے خدشات کے باعث یہودی خاندانوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اسرائیل منتقل ہونے پر غور کر رہی ہے۔ اسرائیلی امیگریشن حکام کے مطابق، ممکنہ تارکینِ وطن میں اسرائیل جانے کے حوالے سے غیر معمولی عجلت کا احساس پایا جا رہا ہے۔

وائی نیٹ نیوز (Ynet News) کے مطابق، اتوار کو لندن میں منعقد ہونے والے ایک امیگریشن میلے میں⁦1,200⁩سے زائد برطانوی یہودیوں نے شرکت کی۔ شرکا نے اسرائیل منتقل ہونے کے امکانات اور وہاں نئی زندگی شروع کرنے کے طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

1,200+
لندن کے امیگریشن میلے میں شرکت کرنے والے برطانوی یہودی
130
ایک علیحدہ تقریب میں اسرائیل کے طبی شعبے میں روزگار کے مواقع کا جائزہ لینے والے یہودی ڈاکٹر

اسی رپورٹ کے مطابق،⁦130⁩یہودی ڈاکٹروں نے ایک علیحدہ تقریب میں شرکت کی، جہاں اسرائیل کے صحت کے نظام میں ملازمت کے مواقع اور پیشہ ورانہ امکانات پر غور کیا گیا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، صورتِ حال میں نمایاں تبدیلی

اسرائیل کی وزارتِ علیا و انضمام کی ڈائریکٹر جنرل دیگنیت سانکر⁦-⁩لینج نے کہا کہ برطانوی یہودیوں میں اسرائیل منتقل ہونے کے لیے بڑھتا ہوا عزم ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

”میں کئی، کئی برسوں سے علیا کے شعبے میں کام کر رہی ہوں، لیکن اس وقت جو عجلت کا احساس ہم دیکھ رہے ہیں، وہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ بنیادی طور پر، یہ ایک زلزلے جیسی تبدیلی ہے۔“
— دیگنیت سانکر⁦-⁩لینج، اسرائیلی وزارتِ علیا و انضمام کی ڈائریکٹر جنرل، وائی نیٹ نیوز کے مطابق

اسرائیلی اصطلاح میں ”علیا“ (Aliyah) سے مراد یہودیوں کی اسرائیل ہجرت ہے۔ سانکر⁦-⁩لینج کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکام برطانیہ سے آنے والی دلچسپی کو معمول کی نقل مکانی سے زیادہ فوری نوعیت کی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

امیگریشن تقریبات کے باہر مظاہرے اور سکیورٹی انتظامات

یہ امیگریشن تقریبات سخت سکیورٹی انتظامات کے ماحول میں منعقد ہوئیں۔ ان کے باہر فلسطین کے حامی مظاہرین جمع ہوئے اور اسرائیل مخالف لٹریچر تقسیم کیا۔

تاہم، دستیاب رپورٹ میں ان مظاہروں کے شرکا کی تعداد یا ان کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مطالبات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس لیے مظاہروں کی نوعیت اور دائرے کے بارے میں مزید نتائج اخذ کرنے کے لیے اضافی معلومات درکار ہوں گی۔

یہود دشمنی کے علاوہ روزگار اور قومی شناخت بھی اہم عوامل

سانکر⁦-⁩لینج نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ یہود دشمنی کے خدشات اسرائیل منتقل ہونے کے فیصلے میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے۔

پیشہ ورانہ مواقع، قومی شناخت سے وابستگی اور اسرائیل میں اپنا مستقبل تعمیر کرنے کی خواہش بھی ممکنہ تارکینِ وطن کو متاثر کر رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے لیے منعقدہ علیحدہ تقریب اس بات کی مثال ہے کہ روزگار اور پیشہ ورانہ ترقی بھی اس عمل کا حصہ ہیں۔

اسرائیل منتقل ہونے کے رپورٹ میں بیان کردہ اہم عوامل

سماجی تحفظ: برطانیہ میں یہود دشمنی کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات۔

پیشہ ورانہ مواقع: خصوصاً طبی شعبے میں ملازمتوں اور کیریئر کے امکانات۔

قومی شناخت: اسرائیل سے وابستگی اور وہاں زندگی گزارنے کی خواہش۔

مستقبل کی منصوبہ بندی: اسرائیل میں مستقل رہائش اور نئی زندگی کی تعمیر۔

برطانیہ اور فرانس سے یہودی ہجرت پر اسرائیل کی توجہ

رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے برطانیہ اور فرانس سے یہودی ہجرت کو اپنی ترجیحات میں زیادہ اہمیت دی ہے۔ ان دونوں ممالک میں یہود دشمنی کے خدشات نے بعض یہودی خاندانوں کے اندر نقل مکانی میں دلچسپی بڑھائی ہے۔

لندن میں منعقدہ تقریبات اس رجحان کی ایک جھلک پیش کرتی ہیں، جہاں ممکنہ تارکینِ وطن نے اسرائیل میں رہائش، روزگار اور مستقبل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

تاہم، امیگریشن میلے میں شرکت یا معلومات حاصل کرنے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ ہر شریک نے اسرائیل منتقل ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس رجحان کے حجم اور طویل مدتی اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے باقاعدہ ہجرت کے اعداد و شمار اور مزید شواہد درکار ہوں گے۔

یہودی ہجرت کے رجحان پر بڑھتی ہوئی توجہ

برطانیہ میں یہود دشمنی کے خدشات اور اسرائیل منتقل ہونے کے امکانات کے بارے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی نے امیگریشن کے معاملے کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ لندن کے میلے میں بڑی تعداد میں شرکت اور ڈاکٹروں کے لیے الگ تقریب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض ممکنہ تارکینِ وطن سماجی تحفظ کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ اور ذاتی مستقبل کو بھی اپنے فیصلوں میں شامل کر رہے ہیں۔

اس رجحان کی حقیقی وسعت جاننے کے لیے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کتنے افراد معلومات حاصل کرنے سے آگے بڑھ کر مستقل ہجرت کرتے ہیں، اور ان کے فیصلوں پر سماجی حالات، روزگار اور ذاتی ترجیحات کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔

برطانیہ، یہود دشمنی، اسرائیل، یہودی ہجرت، علیا، لندن، وائی نیٹ نیوز، اسرائیلی وزارتِ علیا، یہودی ڈاکٹر، فرانس، مشرق وسطیٰ
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleغزہ امن منصوبہ مشکلات کا شکار؟
Next Article عبدالسید کی ٹیم تنازعے کی زد میں
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

یورپ

لندن میں یومِ سائرس

نومبر 1, 2026
اسرائیل

اسرائیلی انتخابات میں غیرملکی فنڈنگ کی تحقیقات

اکتوبر 30, 2026
امریکہ

امریکہ، ایران پھر بڑی جنگ کے دہانے پر

اکتوبر 30, 2026
Add A Comment
Leave A Reply Cancel Reply

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.