لندن میں ابراہیمی تحریک کا قیام:انتہا پسندی کے مقابلے میں مختلف برادریوں کا مشترکہ اتحاد
یہودی، ایرانی، صومالی لینڈی، کرد، عرب اور دیگر برادریوں کے رہنماؤں نے برطانیہ میں امن، تحفظ، باہمی احترام اور ابراہیمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے نئے پلیٹ فارم کا اعلان کردیا۔
برطانیہ میں مختلف مذہبی، نسلی اور علاقائی برادریوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کے ایک نئے پلیٹ فارم، ابراہیمی تحریک برطانیہ (Abrahamic Movement UK) کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد انتہا پسندانہ نظریات اور تشدد کے مقابلے میں ایک معتدل، متحد اور مشترکہ آواز کو مضبوط بنانا ہے۔
لندن میں منعقدہ ایک اجلاس میں یہودی، ایرانی، صومالی لینڈی اور کرد برادریوں کے مقامی رہنماؤں کے علاوہ ابراہیمی معاہدوں کے عرب حامیوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس نئے اتحاد کو برطانیہ میں انتہا پسند تحریکوں کے مقابلے میں ایک مقامی اور متبادل آواز کے طور پر پیش کیا گیا۔
انتہا پسندی کے سائے میں برادریوں کے تحفظ کا مسئلہ
ٹام ویگنر کے مطابق برطانیہ میں مختلف برادریاں انتہا پسند تحریکوں سے وابستہ تشدد اور دھمکیوں کے باعث اپنے تحفظ کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کا خوف صرف یہودی برادری تک محدود نہیں رہا بلکہ ایرانی اپوزیشن سے وابستہ افراد، صومالی لینڈی برادری، معتدل مسلمان، کرد اور دیگر اقلیتی گروہ بھی اس صورت حال سے متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر دروز اور علوی جیسی اقلیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیزی سے متاثر انتہا پسند عناصر کی جانب سے انہیں بھی ہراسانی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق مسیحی برادریاں بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں ہیں۔
ٹام ویگنر کا مؤقف ہے کہ اس صورت حال میں مختلف برادریوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ انتہا پسندی کا خطرہ کسی ایک مذہب، قوم یا کمیونٹی تک محدود نہیں۔ ان کے نزدیک مشترکہ تحفظ اور باہمی حمایت ہی اس چیلنج کا مؤثر جواب بن سکتے ہیں۔
ابراہیمی تحریک برطانیہ:ایک نئی معتدل آواز
ٹام ویگنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ابراہیمی تحریک برطانیہ کا قیام ابراہیمی برادریوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا معتدل اتحاد ہوگا جو برطانیہ میں ایک نئی، متحد اور باوقار آواز بلند کرے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ تحریک مشرق وسطیٰ سے جنم لینے والی ایک مستند اور مثبت آواز کو برطانیہ میں متعارف کرانے کی کوشش کرے گی، جس کا پیغام ابراہیمی امن، مشترکہ اقدار اور ایسا مستقبل ہوگا جس میں ہر مذہب، برادری اور شناخت کے لیے جگہ موجود ہو۔
اس تصور کی بنیاد یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود مختلف مذہبی اور سماجی گروہ مشترکہ انسانی اقدار، آزادی، وقار، انصاف اور پرامن بقائے باہمی کے لیے مل کر کام کرسکتے ہیں۔
برادریوں کے درمیان برادری:تنہائی کے خاتمے کی کوشش
ٹام ویگنر کے بیان کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ابراہیمی تحریک محض ایک سیاسی یا مذہبی اتحاد نہیں بلکہ مختلف برادریوں کے درمیان ایک وسیع تر سماجی رابطے کا پلیٹ فارم بننے کی کوشش کرے گی۔ ان کے مطابق اس کا مقصد ایک ایسی ’’برادریوں کی برادری‘‘ تشکیل دینا ہے جہاں مختلف گروہ ایک دوسرے کے تجربات، مشکلات اور تحفظات کو سمجھ سکیں۔
اس اتحاد کے ذریعے وہ برادریاں جو خود کو انتہا پسند اور تشدد پسند عناصر کے مقابلے میں تنہا محسوس کرتی ہیں، ایک دوسرے کی حمایت حاصل کرسکیں گی۔ اس طرح باہمی رابطے، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔
ابراہیمی معاہدوں کے تصور سے آگے
ابراہیمی معاہدوں نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کی بنیاد رکھی تھی۔ ابراہیمی تحریک برطانیہ کا اعلان اسی وسیع تر تصور کو سماجی سطح پر آگے بڑھانے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں مختلف مذہبی اور نسلی برادریاں مشترکہ مفادات اور امن کے لیے تعاون کریں۔
لندن میں ہونے والے اجلاس میں یہودی، ایرانی، صومالی لینڈ اور کرد نمائندوں کے ساتھ عرب حامیوں کی موجودگی اس بات کی علامت قرار دی گئی کہ اس پلیٹ فارم کا دائرہ کسی ایک مذہب یا قوم تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف برادریوں کو ساتھ لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امن، تحفظ اور مشترکہ مستقبل کا پیغام
ابراہیمی تحریک برطانیہ کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ اور برطانیہ میں مذہبی و نسلی شناخت کی بنیاد پر نفرت، دھمکیوں اور انتہا پسندی کے بارے میں خدشات مسلسل زیر بحث ہیں۔ اس تناظر میں مختلف برادریوں کا مشترکہ پلیٹ فارم بنانے کا تصور ایک اہم سماجی پیغام رکھتا ہے۔
اس تحریک کے حامیوں کے مطابق برطانیہ میں ایسا ماحول تشکیل دینا ضروری ہے جہاں یہودی، مسلمان، مسیحی، ایرانی، کرد، صومالی لینڈی، دروز، علوی اور دیگر اقلیتیں خوف کے بغیر اپنی شناخت اور عقائد کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
ابراہیمی تحریک برطانیہ کے قیام سے متعلق توم ویغنر کی پوسٹ
لندن میں یومِ سائرس اور بین البرادری یکجہتی سے متعلق توم ویغنر کی پوسٹ
