غزہ امن منصوبہ مشکلات کا شکار؟ امریکی سفیر کا عملے، وسائل اور سکیورٹی انتظامات پر تحفظات
پولیٹیکو کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے افرادی قوت، مالی وسائل اور انتظامی تیاریوں کی کمی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ حماس کو غیر مسلح کرنے، بین الاقوامی سکیورٹی انتظامات اور غزہ کی تعمیرِ نو کے معاملات اب بھی اہم چیلنج ہیں۔
امریکی سفیر کا امن منصوبے کی تیاریوں پر سوال
اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی نے نجی طور پر خبردار کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ عملی مرحلے میں سنگین مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔ ان خدشات کی وجوہات میں عملے کی ناکافی تعداد، وسائل کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال اور امریکی فوجی کردار کم کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ یہ بات پولیٹیکو (Politico) کی ایک خصوصی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ہکابی نے جمعرات کو امریکی محکمۂ خارجہ کے اعلیٰ حکام کو ایک سفارتی مراسلہ بھیجا، جس میں سوال اٹھایا گیا کہ آیا امریکہ کی قیادت میں قائم ہونے والا بورڈ آف پیس اور یروشلم میں امریکی سفارت خانہ حماس کو غیر مسلح کرنے، بین الاقوامی سکیورٹی انتظامات میں رابطہ کاری اور غزہ کی تعمیرِ نو کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے مناسب طور پر تیار ہیں۔
یہ مراسلہ، جسے ”حساس مگر غیر خفیہ“ (Sensitive but Unclassified) قرار دیا گیا، انٹرنیشنل غزہ سپورٹ سینٹر(IGSC)پر مرکوز تھا۔ یہ اسرائیل میں قائم امریکہ کی قیادت میں کام کرنے والا رابطہ مرکز ہے، جس کا مقصد واشنگٹن، یروشلم اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان تعاون کو ممکن بنانا ہے۔
فوجی اہلکاروں کی جگہ سویلین عملہ لانے کا منصوبہ
رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کا ارادہ ہے کہ آئندہ سال کے دوران اس مرکز میں تعینات اپنے اہلکاروں کی تعداد بتدریج کم کی جائے اور ان کی بعض ذمہ داریاں سویلین حکام کو منتقل کر دی جائیں۔
تاہم، ہکابی نے خبردار کیا کہ فی الحال نہ امریکی سفارت خانے کے پاس اور نہ ہی بورڈ آف پیس کے پاس اتنا عملہ موجود ہے کہ وہ اس منتقلی کو کامیاب بنانے کی ضمانت دے سکے۔
— مائیک ہکابی کے مراسلے سے، پولیٹیکو کے مطابق
سفیر نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ فوجی اہلکاروں کی جگہ سویلین عملے کی تعیناتی سے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اسرائیلی دفاعی افواج(IDF)کے ساتھ عملی رابطہ کاری پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
عملی چیلنج کیا ہے؟
فوجی سے سویلین انتظامی نظام کی طرف منتقلی کے لیے صرف ذمہ داریوں کی تقسیم کافی نہیں۔ اس کے لیے تربیت یافتہ عملہ، واضح اختیارات، مالی وسائل، لاجسٹک معاونت اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری بھی درکار ہوتی ہے۔
حماس کو غیر مسلح کرنا بدستور بنیادی رکاوٹ
امریکی سفیر کے خدشات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ کا وسیع تر غزہ امن منصوبہ اپنی مشکل ترین شرائط پر پیش رفت میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان میں حماس کو غیر مسلح کرنا اور ایک مؤثر بین الاقوامی سکیورٹی فورس قائم کرنا نمایاں ہیں۔
رائٹرز کے مطابق، اکتوبر2025میں ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالیوں اور سیکڑوں فلسطینی قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کی رہائی ممکن ہوئی۔ تاہم، اس کے بعد حماس کو غیر مسلح کرنے، غزہ کے لیے نیا انتظامی نظام قائم کرنے اور اسرائیلی فوج کے انخلا سے متعلق کوششیں تعطل کا شکار رہی ہیں۔
حماس نے جولائی میں اشارہ دیا تھا کہ وہ اپنے ہتھیار امریکہ کی حمایت یافتہ فلسطینی انتظامیہ کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل نے اپنے فوجی انخلا سے پہلے مکمل غیر مسلح ہونے کی شرط پر زور دیا ہے۔
اس اختلاف نے امن منصوبے کے ایک بنیادی سوال کو برقرار رکھا ہے:غزہ میں مستقبل کی سکیورٹی کا انتظام کس کے پاس ہوگا، اور حماس کے ہتھیاروں کے بارے میں قابلِ قبول اور قابلِ عمل حل کس طرح طے کیا جائے گا؟
مجوزہ بین الاقوامی سکیورٹی فورس ابھی مکمل طور پر فعال نہیں
غزہ کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (International Stabilization Force) کے منصوبے میں بالآخر تقریباً20ہزار فوجیوں کی تعیناتی اور12ہزار فلسطینی پولیس اہلکاروں کی تربیت کا تصور شامل ہے۔ تاہم، فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، یہ فورس ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکی۔
مجوزہ بین الاقوامی سکیورٹی فورس کے لیے فوجیوں کی متوقع تعداد
منصوبے کے تحت تربیت دیے جانے والے فلسطینی پولیس اہلکاروں کی تعداد
اس فورس کی عملی تشکیل، اس کے اختیارات، اہلکاروں کی دستیابی اور غزہ میں اس کے کردار سے متعلق معاملات امن منصوبے کی کامیابی کے لیے اہم ہوں گے۔
بعد ازاں، ہکابی نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ بورڈ آف پیس پیش رفت جاری رکھ سکتا ہے، تاہم انہوں نے تاخیر کی بنیادی وجہ حماس کو قرار دیا اور کہا کہ وہ غیر مسلح ہونے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی۔
غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے بھاری مالی وسائل درکار
سکیورٹی کے مسائل کے علاوہ، غزہ کی تعمیرِ نو بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ طویل جنگ کے بعد تباہ ہونے والے مکانات، بنیادی ڈھانچے، عوامی سہولتوں اور ضروری خدمات کی بحالی کے لیے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
بورڈ آف پیس نے ستمبر میں تعمیرِ نو کے لیے2.45ارب ڈالر کے ابتدائی اقدام کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، بین الاقوامی تخمینوں کے مطابق، جنگ سے تباہ شدہ غزہ کی تعمیرِ نو پر آئندہ ایک دہائی کے دوران71ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آ سکتی ہے۔
ستمبر میں بورڈ آف پیس کی جانب سے اعلان کردہ ابتدائی تعمیرِ نو اقدام
غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے آئندہ دس سال میں درکار رقم کا بین الاقوامی تخمینہ
پولیٹیکو کو جواب دیتے ہوئے بورڈ آف پیس نے اپنی تیاریوں کا دفاع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس کے نظام اور عملی منصوبے انسانی امداد، سکیورٹی، حکمرانی اور تعمیرِ نو میں معاونت کے لیے تیار ہیں۔
تاہم، تعمیرِ نو کے لیے مالی وعدوں کے ساتھ ساتھ زمین پر سکیورٹی، امداد کی محفوظ ترسیل، مؤثر انتظامیہ اور طویل مدتی سیاسی استحکام بھی اہم ہوں گے۔
جنگ بندی کو مستقل سیاسی اور سکیورٹی انتظام میں بدلنے کا امتحان
ہکابی کا مبینہ سفارتی مراسلہ واشنگٹن کو درپیش ان عملی مشکلات کی نشاندہی کرتا ہے جن کا سامنا ایک نازک جنگ بندی کو مستقل سیاسی اور سکیورٹی انتظام میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں ہو سکتا ہے۔
حماس کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ حل طلب ہے، اسرائیلی فوج غزہ کے بڑے حصوں پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور بین الاقوامی تعمیرِ نو کی کوششیں مؤثر سکیورٹی ضمانتوں کی منتظر ہیں۔ ان حالات میں ٹرمپ کے امن منصوبے کے نتائج کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے۔
اسرائیل کے لیے مرکزی سوال یہ ہے کہ آیا مجوزہ بین الاقوامی انتظامات حماس کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کر سکیں گے اور ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنا سکیں گے کہ غزہ دوبارہ اسرائیل پر دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہونے والا مرکز نہ بنے۔
امن منصوبے کی کامیابی کا انحصار کن عوامل پر ہوگا؟
غزہ کے مستقبل کا انحصار صرف جنگ بندی برقرار رکھنے پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ سکیورٹی کی ذمہ داریاں کس طرح تقسیم ہوتی ہیں، حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاملہ کیسے حل کیا جاتا ہے، فلسطینی انتظامیہ کس حد تک مؤثر کردار ادا کرتی ہے اور تعمیرِ نو کے لیے درکار وسائل کیسے فراہم کیے جاتے ہیں۔
امریکی سفیر کے مبینہ خدشات اس بحث کو نمایاں کرتے ہیں کہ امن منصوبے کے سیاسی مقاصد کو عملی شکل دینے کے لیے مناسب عملہ، مالی معاونت، واضح اختیارات اور مربوط سکیورٹی انتظامات کتنے ضروری ہیں۔
