ایران پر ممکنہ امریکی حملہ:ٹرمپ کی منظوری کے96گھنٹوں میں کارروائی کی تیاری، اسرائیل کا مشترکہ آپریشن پر زور
امریکی حکام کے مطابق فوجی تیاریوں کو اس مرحلے تک پہنچا دیا گیا ہے کہ صدارتی اجازت ملنے پر چار دن کے اندر کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ اسرائیل تہران کی فوجی صلاحیتوں کو فیصلہ کن نقصان پہنچانے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ مشترکہ آپریشن کا خواہاں ہے، جبکہ علاقائی ممالک جنگ روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
امریکی فوج چار دن کے اندر کارروائی کے لیے تیار؟
امریکی حکام کے مطابق، امریکہ کی فوج ایران کے خلاف ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہی ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری ملنے کے96گھنٹوں کے اندر شروع کیا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل واشنگٹن پر زور دے رہا ہے کہ وہ تہران کی فوجی صلاحیتوں کو فیصلہ کن نقصان پہنچانے کے لیے ایک مربوط فوجی آپریشن میں شریک ہو۔
سی این این (CNN) کو دو امریکی حکام نے بتایا کہ فوجی تیاریاں اس حد تک آگے بڑھ چکی ہیں کہ صدر کی جانب سے حکم جاری ہونے کے بعد امریکی افواج چار دن کے اندر کارروائی شروع کر سکتی ہیں۔ دی یروشلم پوسٹ نے بھی ان اطلاعات کی رپورٹنگ کی ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا، حکام کے مطابق کسی نئی فوجی مہم کا دائرہ گزشتہ حملوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔ ممکنہ اہداف میں صرف میزائل داغنے کے مراکز اور ریڈار تنصیبات ہی نہیں بلکہ ایران کا وسیع تر فوجی بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہو سکتا ہے، جسے تہران نسبتاً تیزی سے دوبارہ تعمیر یا بحال کر سکتا ہے۔
ممکنہ فوجی حکمتِ عملی میں کیا تبدیلی ہو سکتی ہے؟
رپورٹ کے مطابق، ممکنہ کارروائی کا مقصد ان اہداف تک پہنچنا ہو سکتا ہے جو محض میزائل لانچروں یا ریڈار نظام کو نشانہ بنانے سے آگے ہوں۔ تاہم، مجوزہ اہداف اور آپریشن کے حتمی دائرے کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اسرائیل مشترکہ کارروائی کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے
اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی حکام اپنی ممکنہ فوجی کارروائیوں کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور واشنگٹن کو مشترکہ آپریشن میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فوجی کارروائی مؤخر کرے۔ یہ تاخیر ممکنہ طور پر امریکہ میں3نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد تک جاری رہ سکتی ہے۔
اس صورتِ حال میں واشنگٹن کو ایک جانب ایران کے خلاف ممکنہ فوجی حکمتِ عملی اور اسرائیل کے سکیورٹی خدشات پر غور کرنا ہے، جبکہ دوسری جانب علاقائی کشیدگی اور امریکی انتخابی ماحول کے ممکنہ اثرات بھی فیصلہ سازی کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
انتخابات نے فوجی فیصلوں کو پیچیدہ بنا دیا
نئے تصادم کا بڑھتا ہوا خطرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور امریکہ دونوں اہم انتخابات کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیلی شہری منگل،27اکتوبر کو ووٹ ڈال رہے ہیں، جبکہ امریکی شہری اس کے اگلے ہفتے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں حصہ لیں گے۔
اسرائیل ہیوم (Israel Hayom) نے دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو انتخابی شکست کی صورت میں بھی ایران پر ایک اور حملے کا حکم دینے پر غور کر سکتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے جانشین کے لیے اس نوعیت کی کارروائی کا فیصلہ کرنا زیادہ مشکل ہوگا۔
تاہم، نیتن یاہو کے دفتر نے ان الگ الگ اطلاعات کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی انتخابات سے عین پہلے فوجی کارروائی کی کوشش کی تھی۔
اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی اس دعوے کی تردید کی کہ اسرائیل ووٹنگ سے پہلے حملہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے کسی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اسرائیل میں انتخابات؛ ممکنہ فوجی فیصلوں پر سیاسی دباؤ بھی اہم عامل ہے۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات؛ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل سے کارروائی مؤخر کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
جنگ کے خدشات کے درمیان علاقائی سفارت کاری تیز
دوسری جانب، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے پیر کے روز اپنے اعلیٰ حکام تہران بھیجے تاکہ خطے میں ایک اور جنگ کو روکنے کی کوشش کی جا سکے۔
رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اس سفارتی اقدام کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانا اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنا ہے۔
ایران نے اشارہ دیا ہے کہ سفارتی رابطوں کے راستے اب بھی کھلے ہیں۔ تاہم، امریکہ کے مطالبات اور آبنائے ہرمز کے مستقبل سمیت کئی اہم امور پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والا ایک اہم بحری راستہ ہے۔ اس کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کی سلامتی، عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
28 فروری کی امریکی-اسرائیلی فوجی مہم کے بعد نئی کشیدگی
موجودہ کشیدگی اس امریکی-اسرائیلی فوجی مہم کے بعد سامنے آئی ہے جو28فروری کو شروع ہوئی تھی۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ایران کے فوجی بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، تاہم کوئی دیرپا تصفیہ حاصل نہیں ہو سکا۔
اب جبکہ امریکی افواج ایک اور بڑے حملے کے لیے تیار بتائی جا رہی ہیں، اسرائیلی فوجی منصوبہ ساز ممکنہ نئے تصادم کی تیاری کر رہے ہیں اور خطے کی حکومتیں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
آنے والے ہفتے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں
امریکی فوج کی ممکنہ بڑی کارروائی، اسرائیل کی جانب سے دوبارہ تصادم کی تیاری اور سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی سفارتی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نہایت حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔
اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات بحال نہ ہو سکے اور فوجی آپشن کو ترجیح دی گئی تو خطہ ایک بار پھر وسیع پیمانے کی جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، حتمی صورتِ حال کا انحصار امریکی صدر کے فیصلے، اسرائیل کے اگلے اقدامات اور جاری سفارتی کوششوں کے نتائج پر ہوگا۔
