اسرائیلی انتخابات میں غیرملکی فنڈنگ کا شبہ، شن بیٹ کو تحقیقات کا حکم
قطر اور ترکی سے ممکنہ مالی مداخلت کے الزامات، لیکوڈ اور عرب جماعتوں کے درمیان سیاسی محاذ آرائی
اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن کے چیئرمین نے شن بیٹ (Shin Bet) کو حکم دیا ہے کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کرے جن کے مطابق غیرملکی مفادات رکھنے والے عناصر، جن میں ممکنہ طور پر قطر اور ترکی بھی شامل ہو سکتے ہیں، نے منگل کے پارلیمانی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے اسرائیل میں رقوم منتقل کیں۔ اس معاملے نے انتخابات کی شفافیت اور نتائج کی قانونی حیثیت پر ایک نئی سیاسی کشمکش کو جنم دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے نائب صدر اور مرکزی انتخابی کمیٹی کے چیئرمین جسٹس نوعم سولبرگ نے شن بیٹ کے سربراہ ڈیوڈ زینی کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیرقانونی غیرملکی مالی معاونت اور ووٹوں پر اثرانداز ہونے کے لیے رشوت کے شبہات کا جائزہ لیں۔ یہ اقدام انٹیلی جنس رپورٹس کے بعد کیا گیا جن میں امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم عرب آبادی والے علاقوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھانے کے لیے استعمال ہوئی ہوں۔
قطر اور ترکی سے مالی منتقلی کی تحقیقات
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، تفتیش کار ممکنہ مالی منتقلیوں کا جائزہ لے رہے ہیں جن کا تعلق قطر اور ترکی سے ہو سکتا ہے۔ ان اطلاعات میں ایسے مالی ذرائع اور نیٹ ورکس کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہیں مبینہ طور پر ماضی میں دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
تاہم، حکام نے اب تک عوامی سطح پر ایسا کوئی حتمی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے ثابت ہو کہ قطر یا ترکی کی حکومتوں نے براہِ راست اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کی۔ اس لیے غیرملکی فنڈنگ سے متعلق الزامات اور کسی ریاست کے باضابطہ کردار کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
لیکوڈ کے دھاندلی کے الزامات، عرب جماعتوں کا ردعمل
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے عرب سیاسی جماعتوں پر انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان الزامات میں ووٹ خریدنے، ووٹرز کو دھمکانے اور جعلی ووٹنگ جیسے دعوے شامل ہیں۔
جوائنٹ لسٹ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ جماعت کے رہنما سامی ابو شہادہ نے لیکوڈ کے مؤقف کو ’’نسل پرستانہ خونی الزام‘‘ قرار دیتے ہوئے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ انتخابی نتائج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کی دوٹوک تردید کی ہے۔
پولیس کو وسیع پیمانے پر دھاندلی کے شواہد نہیں ملے
دوسری جانب، اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ اسے لیکوڈ کی جانب سے عائد کردہ وسیع پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے الزامات کی حمایت میں کوئی تفتیشی یا انٹیلی جنس ثبوت نہیں ملا۔
شن بیٹ نے جمعرات کو واضح کیا کہ اس کی تحقیقات آزادانہ طور پر جمع کی گئی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا کہ تحقیقات کے دوران کسی پوری ووٹر کمیونٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔
یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ انتخابی بے ضابطگیوں کے مخصوص الزامات کی تحقیقات اور کسی پوری آبادی یا ووٹر گروہ کو مشتبہ قرار دینا دو الگ معاملات ہیں۔ حکام کے مطابق، تحقیقات کا مقصد دستیاب معلومات کی جانچ کرنا ہے، نہ کہ کسی کمیونٹی کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرانا۔
حکومت سازی پر ممکنہ اثرات
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو کے دائیں بازو کے سیاسی اتحاد کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ عرب جماعتوں کے پاس نئی حکومت کی تشکیل کے عمل میں اہم سیاسی اثرورسوخ ہو سکتا ہے، جس کے باعث ان جماعتوں کے کردار اور انتخابی نتائج کی ساکھ پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
قطری یا دیگر غیرملکی مالی معاونت کے الزامات کی تحقیقات کے نتائج حکومت سازی کے مذاکرات کے سیاسی ماحول پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ابھی یہ واضح نہیں کہ تحقیقات سے کوئی ایسی خلاف ورزی سامنے آئے گی جو انتخابی نتائج یا پارلیمانی نمائندگی کی قانونی حیثیت کو تبدیل کر سکے۔
انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر نہیں ہوگی
انتخابی حکام نے واضح کیا ہے کہ شن بیٹ کی تحقیقات کے باعث حتمی انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر نہیں ہوگی اور نہ ہی حکومت سازی کا عمل روکا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ تحقیقات اور سیاسی مذاکرات بیک وقت جاری رہیں گے۔
اس مرحلے پر بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا تحقیقات میں غیرملکی مالی مداخلت یا انتخابی رشوت کے ٹھوس شواہد سامنے آتے ہیں یا نہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہوگا کہ حکام مخصوص الزامات کی جانچ کرتے ہوئے تمام شہریوں کے ووٹ کے حق اور انتخابی عمل کی غیرجانبداری کو کس طرح یقینی بناتے ہیں۔
