جب بینائی جرم ٹھہری:افغانستان میں قرنیہ کی پیوند کاری کا التوا
ایک خاموش حکم، ایک سنگین خاموشی
کابل اور جلال آباد میں آنکھوں کے مفت آپریشن کا وہ درخشاں سلسلہ دم توڑ چکا ہے جو افغان نوجوانوں کی تاریک دنیا میں روشنی بکھیر رہا تھا۔ معالجین کا کہنا ہے کہ طالبان حکام نے زبانی احکامات کے ذریعے ہسپتالوں کو قرنیہ(Cornea)کی پیوند کاری سے روک دیا ہے اور اس عمل کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔
کابل کے نور آئی ہسپتال کے ڈاکٹر نور زمان ہاشم کے مطابق، اس حکمِ امتناعی سے قبل ان کی ٹیم تقریباً90کامیاب پیوند کاریاں کر چکی تھی۔ امریکہ میں قائم تنظیم ’اپنا‘ (APPNA)، جو عطیہ کردہ قرنیے فراہم کرتی تھی، کے مطابق اگست میں یہ سلسلہ بند ہونے سے قبل تقریباً چار ماہ کے مختصر عرصے میں150سے زائد مریضوں کا علاج کیا جا چکا تھا۔
تاہم افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان کی وزارتِ صحتِ عامہ کے اندرونی ذرائع کسی بھی قسم کی سرکاری پابندی کی تردید کرتے ہیں، اور اب تک کوئی تحریری فرمان بھی منظرِ عام پر نہیں آیا۔ لیکن عملی حقیقت یہی ہے کہ آپریشن رک چکے ہیں اور معالجین اسے حکومتی ہدایات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ آیا یہ فیصلہ پورے ملک کے لیے ہے یا کسی مقامی سطح کا حکم، یہ امر فی الوقت واضح نہیں۔
منتظرینِ سحر کون ہیں؟
شفایابی کے منتظرین میں بیشتر وہ نوجوان ہیں جو بم دھماکوں، کارخانوں کے حادثات، ویلڈنگ کے واقعات اور دیگر سانحات میں اپنی بینائی گنوا بیٹھے۔ یہ چار دہائیوں پر محیط معرکہ آرائیوں کا وہ تلخ ترکہ ہے جو اب بھی نسلوں کو متاثر کر رہا ہے۔
ان کے لیے قرنیے کی پیوند کاری ہی روشنی کی جانب لوٹنے کا واحد ذریعہ تھی۔ عطیہ کردہ قرنیے بلا معاوضہ مہیا کیے گئے تھے اور مقامی سرجنز کو اس نازک طبی عمل کی جدید ترین تربیت دی جا چکی تھی۔ چنانچہ اس سلسلے کا رک جانا محض ایک علاج کا خاتمہ نہیں، بلکہ اس طبی صلاحیت اور استعداد کا زوال بھی ہے جو ابھی پروان چڑھ ہی رہی تھی۔
پیش کردہ جواز
اس التوا کے پیچھے مذہبی دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔ حالانکہ اعضا کی پیوند کاری کے باب میں اسلامی فقہا کی آرا یکساں نہیں ہیں۔ ماضی میں افغان علماء خود بھی قرنیہ کی پیوند کاری کے جواز میں فتویٰ دے چکے ہیں تاکہ ایسا ہی ایک طبی مشن کامیابی سے جاری رہ سکے۔
مزید برآں، قرنیہ عموماً وفات کے بعد عطیہ کیا جاتا ہے، اس لیے اس میں کسی زندہ انسان کے جسمانی عضو کو نقصان پہنچانے کا معاملہ شامل نہیں ہوتا۔
ایک قرینِ قیاس، اگرچہ غیر مصدقہ، پس منظر طالبان کا اعضا کی پیوند کاری سے متعلق عمومی موقف ہو سکتا ہے۔ ’ریڈیو فری یورپ‘ کی رپورٹس کے مطابق حکام نے حیاتیاتی اعضا کی پیوند کاری کو غیر اسلامی قرار دیا تھا۔ اس قدم کو عموماً افغانستان میں غیر قانونی اعضا کی تجارت، بالخصوص گردوں کی فروخت، کی روک تھام سے تعبیر کیا گیا، جسے غربت و افلاس نے ہوا دی تھی۔
دسمبر2024ء میں طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف نے بھی انسانی اعضا، بشمول آنکھوں، کی خرید و فروخت کو ممنوع قرار دیا۔ انسانی اعضا کی اسمگلنگ کا سدِباب بلاشبہ ایک قابلِ تحسین اور درست مقصد ہے، لیکن مطلق پابندی بدعنوانی کی روک تھام کے بجائے مریضوں کے لیے سزا بن جاتی ہے۔ یہ سمجھنا دشوار ہے کہ وفات کے بعد عطیہ کیے گئے قرنیے پر پابندی سے اعضا کی بلیک مارکیٹ پر کیسے بند باندھا جا سکتا ہے۔
ایک عمل، نہ کہ کوئی استثنا
اگر اس معاملے کو تنہا دیکھا جائے تو یہ کسی ایک شعبے میں حد سے تجاوز معلوم ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ماضی کے ریکارڈ کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو یہ ایک مسلسل طرزِ عمل کا حصہ نظر آتا ہے، جہاں مذہبی تعبیرات اور سیاسی اقتدار کو عملی نتائج پر ترجیح دی جاتی ہے اور عوامی صحت و بہبود کے نتائج ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔
ٹیلی ویژن، موسیقی اور عکاسی پر پابندی عائد کی گئی، اور2001ء میں بین الاقوامی اپیلوں کے باوجود بامیان کے تاریخی بدھ مجسمے مسمار کر دیے گئے۔ خواتین کی طبی دیکھ بھال تک رسائی بھی سخت محدود کر دی گئی۔
گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلانے کی مہمات پر پابندی کے باعث تخمیناً34لاکھ بچے اس حفاظت سے محروم رہے، اور2019ء سے2020ء کے درمیان پولیو کے کیسز دو گنا ہو گئے۔
لڑکیوں کی ثانوی تعلیم اور خواتین کی یونیورسٹی تعلیم پر قدغن لگا دی گئی۔ دسمبر2023ء کے ایک حکم کے تحت خواتین کے نرسنگ اور مڈوائفری کی تربیت حاصل کرنے پر مبینہ طور پر پابندی عائد کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً40,000نرسیں اور مڈوائفز اس تربیت سے محروم رہ گئیں۔
سیکیورٹی خدشات اور پولیو مہم میں خواتین کی شمولیت پر اعتراض کے باعث یہ مہمات معطل کر دی گئیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق2024ء میں افغانستان میں پولیو کے25کیسز سامنے آئے، جو چار سالوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
ان تمام واقعات میں تین قدریں مشترک ہیں:خدمات، بالخصوص غیر ملکی مالی اعانت سے چلنے والی اور خواتین پر مشتمل خدمات، پر اس وقت پابندی لگا دی جاتی ہے جب وہ قیادت کے طے کردہ معیار یا سیکیورٹی خدشات سے ٹکراتی ہیں؛ باقاعدہ تنظیم و ضوابط کے بجائے مکمل پابندی کا سہارا لیا جاتا ہے؛ اور یہ فیصلے طبی ماہرین کی مشاورت کے بغیر کیے جاتے ہیں، جنہیں اس معاملے میں بھی صرف کام روک دینے کا حکم صادر کر دیا گیا۔
انسانی قیمت
اقوامِ متحدہ کے اداروں کے مطابق طالبان کے100سے زائد فرامین کے مجموعی اثرات افغان خواتین اور لڑکیوں کے لیے انتہائی سنگین ہیں۔ تقریباً24لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں، اور افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول اور خواتین کی یونیورسٹی تعلیم پر مکمل پابندی ہے۔
’یو این ویمن‘ کے مطابق آدھی سے زیادہ افغان خواتین مہینے میں صرف دو بار یا اس سے بھی کم گھر سے باہر نکلتی ہیں، اور دس میں سے سات خواتین اپنی نفسیاتی صحت کو انتہائی ابتر قرار دیتی ہیں۔
یونیسیف کا خبردار کرنا ہے کہ اگر یہ پابندیاں برقرار رہیں تو2030ء تک ملک کو25,000سے زائد خاتون اساتذہ اور طبی کارکنوں کی شدید قلت کا سامنا ہو گا۔
تاہم یہ بھی ذہن نشین رہے کہ افلاس، خشک سالی، غیر ملکی امداد میں کمی اور دہائیوں کی جنگ بھی ان بحرانوں کی ذمہ دار ہیں۔ مگر پالیسیوں کی سمت اور ان کے غیر متوازن اثرات کے بارے میں کوئی شبہ نہیں۔
طالبان کا اپنا موقف
انصاف کا تقاضا ہے کہ طالبان کا نقطۂ نظر بھی پیش کیا جائے۔ طالبان حکام اپنی پالیسیوں کو اسلامی شریعت کی پاسداری، استحصال کی روک تھام اور قومی خودمختاری کے دفاع سے تعبیر کرتے ہیں، اور وہ اقوامِ متحدہ کی اکثر تنقیدوں کو رد کرتے ہیں۔
اس بیانیے کی کچھ بنیادیں حقیقی ہیں، جیسے اعضا کی غیر قانونی تجارت کا سدِباب۔ لیکن اصل الجھن طریقۂ کار کی ہے۔ وہ قانون جو غیر قانونی طور پر فروخت کیے گئے گردے اور عطیہ کیے گئے قرنیے میں فرق نہ کر سکے، وہ بالآخر انہی لوگوں کو نقصان پہنچائے گا جن کی فلاح کا وہ مدعی ہے۔
آگے کا راستہ کیا ہونا چاہیے؟
فوری ضرورت ایک واضح پالیسی کی ہے۔ طالبان حکام کو علانیہ وضاحت کرنی چاہیے کہ آیا کوئی باقاعدہ پابندی عائد کی گئی ہے یا نہیں۔ اگر مقصد اعضا کی غیر قانونی تجارت کو روکنا ہے تو انہیں طبی نگرانی میں وفات کے بعد قرنیہ عطیہ کرنے کی اجازت دینی چاہیے، جیسا کہ اکثر مسلم اکثریتی ممالک میں معمول ہے۔
انہیں ان افغان علماء سے بھی دوبارہ رجوع کرنا چاہیے جنہوں نے ماضی میں ان پیوند کاریوں کو جائز قرار دیا تھا۔ کابل اور جلال آباد میں شفایابی کے منتظر مریضوں کے لیے تاخیر کا ہر ایک مہینہ تاریکی میں گزرنے والا ایک نیا مہینہ ہے۔
اصل سوال:ریاستی اختیار یا انسانی زندگی؟
اس کا بڑا سبق یہ ہے کہ کوئی ریاست فیصلے کیسے کرتی ہے۔ جو طرزِ حکمرانی کسی حکم کے نتائج کی پروا کیے بغیر اسے لاگو کرے، وہ ناگزیر طور پر تباہی لاتا ہے۔
اور افغانستان میں اس کی قیمت وہ لوگ ادا کر رہے ہیں جن کا فیصلہ سازی میں کوئی اختیار نہیں:نابینا، بیمار، کم سن بچے اور وہ خواتین جو کبھی اس ملک کی ڈاکٹرز، اساتذہ اور معالجین ہوا کرتی تھیں۔
نیو یارک اردو|آزاد اردو زبان کی خبروں اور رائے کا پلیٹ فارم
