آمریت کے خلاف ہرا سائیں کی گدھا گاڑی:وفا اور مزاحمت کی داستان
آوا پہاڑی کا درویش صفت جیالا
لاہور کے تاریخی علاقے مزنگ میں پرانی چونگی کے قریب ایک گلی تھی جسے آوا پہاڑی کہا جاتا تھا۔ اسی گلی کے ایک شکستہ حال، خستہ حال کوارٹر کے ٹوٹے ہوئے دروازے کے پیچھے ایک درویش صفت انسان بستا تھا، جسے اہلِ علاقہ محبت سے ’’ہرا سائیں‘‘ پکارتے تھے۔ اس مردِ درویش کا اصل نام محمد صدیق تھا اور اس کی روزی روٹی کا سارا دارومدار ایک گدھا گاڑی پر گٹے(بھٹے/چھلیاں)بیچنے پر تھا۔
یہ گدھا گاڑی محض اس کی روزی کا ذریعہ ہی نہ تھی بلکہ اس کے نظریے اور جرات کی علانیہ گواہی بھی تھی۔ گاڑی پر ہر وقت پاکستان پیپلز پارٹی کا پرچم لہراتا رہتا اور ایک چھوٹے سے اسپیکر پر پارٹی کے انقلابی ترانے گونجتے، جن کی صداؤں کے ساتھ وہ شہر کی سڑکوں پر مٹر گشت کرتا۔
مارشل لا کا عہد اور مزاحمت کا پرچم
سنہ1977ء میں جب ایک فوجی آمر نے اقتدار پر شب خون مارا اور ملک بھر میں قید خانوں، کوڑوں اور پھانسی گھاٹوں کا بازار گرم کر دیا، تب بھی ہرا سائیں کی گدھا گاڑی اسی طرح رواں دواں رہی اور اس کا پرچم جرات کے ساتھ فضا میں لہراتا رہا۔
غالباً1978ء کا ذکر ہے۔ ایک عینی شاہد کی یادداشت کے مطابق، لاہور کے معروف لیبر لیڈر چوہدری نذیر احمد مسجدِ شہداء کے قریب نمودار ہوئے اور انہوں نے مارشل لا کے خلاف نعرۂ بغاوت بلند کیا۔ وہ تقریر کے لیے ہرا سائیں ہی کی گدھا گاڑی پر سوار ہو گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دو تین درجن لوگ جمع ہو گئے۔ چوہدری نذیر اور ان کے چند ساتھی موقع پر ہی گرفتار کر لیے گئے، مگر ہرا سائیں بچ نکلے۔
اس واقعے کے بعد بھی ان کے قدم نہ ڈگمگائے۔ مارشل لا کے پورے گیارہ سال کے سیاہ دور میں نہ تو ان کی گاڑی سے وہ پرچم اترا اور نہ ہی اسپیکر پر ترانوں کی آواز خاموش ہوئی۔
ہال روڈ چوک:آمریت کے منہ پر ایک طمانچہ
اسی دہائی میں، جب لاہور کا ہال روڈ چوک احتجاجوں اور سیاسی تحرک کا ایک اہم مرکز ہوا کرتا تھا، وہاں موجود عینی شاہدین نے اپنی آنکھوں سے ہرا سائیں کو پولیس اور مارشل لا کے خوف سے بے نیاز، اپنی گدھا گاڑی پر لہراتے پرچم اور بجتے ترانوں کے ساتھ نڈر انداز میں گزرتے دیکھا۔
ہال روڈ جیسے مصروف اور حساس چوک میں یہ منظر آمریت کے منہ پر ایک طمانچہ تھا۔ ایک طرف ریاستی جبر اور خوف کی فضا تھی تو دوسری طرف ایک عام محنت کش تھا جو اپنی روزمرہ زندگی کے ساتھ اپنے سیاسی نظریے کا اظہار بھی جاری رکھے ہوئے تھا۔
10 اپریل1986ء: بے نظیر بھٹو کا تاریخی استقبال
پھر وہ تاریخی دن آیا،10اپریل1986ء، جب محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی ختم کر کے لاہور کی زمین پر اتریں۔ ایئرپورٹ سے لے کر مینارِ پاکستان تک انسانوں کا سمندر تھا۔
عینی شاہدین کی گواہی کے مطابق، اس تاریخی استقبال کے بیچوں بیچ مزنگ کا یہ غریب جیالا ہرا سائیں اپنی اسی گدھا گاڑی، پیپلز پارٹی کے پرچم اور ترانوں سمیت محترمہ کے استقبال کے لیے صفِ اول میں موجود تھا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کے موقع پر لاہور میں ہونے والے عظیم الشان استقبال میں ہرا سائیں کی شرکت ان کی سیاسی وابستگی اور دیرینہ وفاداری کی یادگار کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔
1993ء:وزیراعظم کا حکم اور ہرا سائیں کی تلاش
وقت گزرتا گیا۔ بھٹو کو تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا اور ان کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ ملک کی وزیراعظم بنیں۔1993ء کے آخری ایام تھے۔ اسلام آباد میں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی(CEC)کا اہم اجلاس جاری تھا۔
وزیراعظم کے سامنے اخبارات کی تراشوں کی ایک فائل رکھی گئی۔ خبر پر نظر پڑتے ہی محترمہ نے میٹنگ وہیں روک دی۔ انہوں نے پارٹی کے سیکرٹری جنرل رفیق احمد شیخ کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر پہلی فلائٹ سے لاہور جائیں اور ہرا سائیں کو تلاش کر کے پارٹی میں واپس لائیں۔
ایک روایت کے مطابق اخبار میں یہ خبر چھپی تھی کہ وہ پارٹی چھوڑ چکے ہیں، جبکہ دوسری روایت اسے ایک افواہ نما خبر قرار دیتی ہے۔ تاہم کسی بھی تحریر میں یہ صراحت نہیں ملتی کہ اخبار میں عین کیا الفاظ شائع ہوئے تھے۔
ہنگامی بنیادوں پر لاہور جانے والے جہاز میں دو نشستیں بک کروائی گئیں۔ اس دور میں موبائل فون کا وجود نہ تھا، چنانچہ انہوں نے ایئرپورٹ سے ہی لاہور کے دوستوں کو فون کر دیے۔ کارکنان گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور پیدل ہی ہرا سائیں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
جب وہ ان کے گھر پہنچے تو منظر ویسا ہی تھا جیسا ہمیشہ سے تھا۔ گھر کے باہر پیپلز پارٹی کے پرچموں کی لڑیاں سجی ہوئی تھیں۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل جب وہاں پہنچے تو آدھے گھنٹے بعد آوا پہاڑی کے عقب سے ہرا سائیں کی گدھا گاڑی اپنے پرچم اور ترانوں کے ساتھ نمودار ہوئی۔
انہیں قریب ہی واقع ایک پی سی او(PCO)کے ذریعے براہِ راست وزیراعظم سے بات کروائی گئی۔
وہ ایک جملہ جس نے تمام شکوک ختم کر دیے
ہرا سائیں نے اپنے بارے میں اٹھنے والے تمام شکوک و شبہات کا جواب صرف ایک جملے میں دے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو اپنی وصیت میں یہ لکھ چکے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کا کفن پیپلز پارٹی کا پرچم ہونا چاہیے۔
جس انسان نے اپنی تدفین ہی پرچم میں کروانے کی وصیت کر رکھی ہو، وہ بھلا پارٹی کیسے چھوڑ سکتا ہے!
تاریخ کی کتابوں سے باہر ایک زندہ داستان
ہرا سائیں تاریخ کی رسمی کتابوں کے صفحات میں درج نہیں ہیں۔ وہ پارٹی کی زبانی روایتوں،1986ء کے استقبال کی یادوں، ہال روڈ اور آوا پہاڑی کی گلیوں میں گھومتی ایک گدھا گاڑی، ایک پرچم، ایک اسپیکر اور ایک وصیت کی شکل میں زندہ ہیں۔
شاید سچی وفاداری اور نظریاتی محبت یوں ہی بقا پاتی ہے—ایک ایسی داستان کی صورت میں جسے دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آگے بیان کر دیا۔
