نیوزی لینڈ نے حماس سے مبینہ روابط پر یو این آر ڈبلیو اے کی فنڈنگ روک دی
نیوزی لینڈ نے فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے(UNRWA)کی مالی معاونت معطل کر دی ہے، جس کے ساتھ وہ امریکہ، سویڈن اور فن لینڈ جیسے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ادارے کے بعض ملازمین کے حماس سے مبینہ روابط اور اس کے نگرانی و غیر جانبداری کے نظام میں سنگین خامیوں کے الزامات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے حکومت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس بات کی ٹھوس ضمانت چاہتا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی رقم صرف جائز مقاصد کے لیے استعمال ہو اور اسے دہشت گردانہ سرگرمیوں کی جانب منتقل نہ کیا جائے۔
’’ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہماری رقم کسی جائز مقصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اور یہ سمجھنے کے لیے کوئی غیر معمولی ذہانت درکار نہیں کہ ایسا یقیناً نہیں ہو رہا تھا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’ہم ایسے معاملات کی مالی معاونت نہیں کر رہے جہاں وہ درحقیقت دہشت گردوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوں۔‘‘
یو این آر ڈبلیو اے کے نگرانی اور غیر جانبداری کے نظام پر اعتراضات
یو این آر ڈبلیو اے کو طویل عرصے سے اپنے اندرونی نظام، انتظامی نگرانی اور غیر جانبداری کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ یہود دشمنی اور اسرائیل مخالف سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والی تنظیم یو این واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہلیل نیور نے ادارے کے حوالے سے متعدد ایسے معاملات کی نشاندہی کی ہے جنہیں ناقدین اس کے احتساب اور نگرانی کے نظام کی کمزوریوں کی مثال قرار دیتے ہیں۔
ان میں حماس کے ایک کمانڈر کے اہلِ خانہ کو اس کی ہلاکت کے بعد مالی مراعات کی ادائیگی کا معاملہ اور فلسطینی مہاجرین کی حیثیت کو نسل در نسل منتقل کرتے ہوئے رجسٹر کرنے کا ادارہ جاتی طریقہ شامل ہے۔ ناقدین کے مطابق مہاجرین کی اس طرح نسل در نسل رجسٹریشن مسئلے کے حل میں مدد دینے کے بجائے اسے برقرار رکھتی ہے اور انحصار و محرومی کے ایک مسلسل سلسلے کو تقویت دیتی ہے۔
اس کے علاوہ یو این آر ڈبلیو اے کے بعض ملازمین کی حماس کی کارروائیوں میں مبینہ شمولیت یا حمایت، تعلیمی مواد میں قابلِ اعتراض پہلوؤں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ناکافی انتظامات پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں کہ ادارے میں عسکریت پسند عناصر رسائی حاصل نہ کر سکیں یا اسے اپنی سرگرمیوں کے لیے پردے کے طور پر استعمال نہ کریں۔
غیر جانبداری
ملازمین کے مبینہ سیاسی و تنظیمی روابط
مالی نگرانی
امدادی رقوم کے استعمال اور احتساب پر سوالات
ادارہ جاتی تحفظ
عسکریت پسند عناصر کی مبینہ رسائی اور اثراندازی
نیوزی لینڈ کی مالی معاونت اور سابقہ فنڈنگ کی تفصیلات
نیوزی لینڈ اور یو این آر ڈبلیو اے کے درمیان کئی سال پر محیط بنیادی مالی معاونت کا معاہدہ پہلے ہی اپنی مدت پوری کر چکا ہے۔ ادارے کو نیوزی لینڈ کی جانب سے حالیہ تصدیق شدہ سالانہ امداد تقریباً10لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر تھی، جو غیر مختص بنیادی فنڈنگ کی صورت میں فراہم کی جاتی تھی۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نیوزی لینڈ کی مجموعی مالی معاونت تقریباً2کروڑ80لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر رہی ہے۔
سالانہ امداد
حالیہ تصدیق شدہ سالانہ بنیادی معاونت
مجموعی امداد
گزشتہ تقریباً20برس کے دوران
مستقبل کی فنڈنگ
مزید ادائیگیوں کے لیے شرائط عائد
نیوزی لینڈ کے حکام نے عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی ادائیگی کے لیے ضروری ہوگا کہ یو این آر ڈبلیو اے اپنی غیر جانبداری اور جواب دہی کے بنیادی معیارات پر پورا اترنے کا واضح ثبوت فراہم کرے۔ حکام کے مطابق مختلف ادوار میں ہونے والے جائزوں اور انٹیلی جنس رپورٹس میں بارہا ان معیارات کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
دہشت گردی سے مبینہ روابط اور مالی وسائل کے استعمال پر تشویش
نیوزی لینڈ کا یہ فیصلہ اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ویلنگٹن حکومت ایسے ادارے کی مالی ذمہ داری اٹھانے سے گریز کرنا چاہتی ہے جس کے بارے میں بارہا یہ خدشات سامنے آئے ہیں کہ اس کے پاس دہشت گردی سے مبینہ روابط رکھنے والے عناصر کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی انتظامات موجود نہیں۔
تاہم نیوزی لینڈ فلسطینی عوام کے لیے اپنی الگ انسانی امداد جاری رکھے گا، جسے دیگر ایسے ذرائع اور اداروں کے ذریعے فراہم کیا جائے گا جنہیں حکومت زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتی ہے۔ اس طرح یو این آر ڈبلیو اے کی فنڈنگ معطل کرنے کا فیصلہ فلسطینی شہریوں کے لیے انسانی امداد کی مکمل بندش کے مترادف نہیں ہے، بلکہ امداد کی فراہمی کے ذرائع میں تبدیلی کی پالیسی کا حصہ ہے۔
یو این آر ڈبلیو اے کو مزید مالی معاونت اس وقت تک فراہم نہیں کی جائے گی جب تک وہ یہ ثابت نہیں کر دیتا کہ اس کے فنڈز دہشت گرد نیٹ ورکس کی حمایت، معاونت یا ان کی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح استعمال نہیں ہو رہے۔
انسانی امداد اور ادارہ جاتی جواب دہی کا سوال
نیوزی لینڈ کی جانب سے فنڈنگ کی معطلی نے ایک مرتبہ پھر اس بنیادی سوال کو نمایاں کیا ہے کہ بین الاقوامی امدادی اداروں کو انسانی خدمات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مالی شفافیت، غیر جانبداری اور مؤثر نگرانی کے تقاضے کس طرح پورے کرنے چاہییں۔ فلسطینی مہاجرین کی ضروریات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن امداد فراہم کرنے والے ممالک کے لیے یہ اطمینان بھی ضروری ہے کہ ان کی مالی معاونت اپنے مقررہ انسانی مقاصد ہی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
اس پالیسی کے تحت نیوزی لینڈ نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی شہریوں کے لیے انسانی امداد جاری رکھنے اور یو این آر ڈبلیو اے کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کرنے کو دو الگ معاملات کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ادارے کے لیے مستقبل کی فنڈنگ کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنے انتظامی، مالی اور حفاظتی نظام میں مطلوبہ اصلاحات اور جواب دہی کا قابلِ اعتماد ثبوت پیش کرتا ہے یا نہیں۔
اہم نکات
- نیوزی لینڈ نے یو این آر ڈبلیو اے کی مالی معاونت معطل کر دی ہے۔
- حکومت نے ٹیکس دہندگان کی رقم کے جائز استعمال کی ضمانت طلب کی ہے۔
- ادارے کے بعض ملازمین کے حماس سے مبینہ روابط اور نگرانی کے نظام پر اعتراضات اس فیصلے کے پس منظر میں شامل ہیں۔
- گزشتہ دو دہائیوں میں نیوزی لینڈ کی مجموعی امداد تقریباً28ملین نیوزی لینڈ ڈالر رہی ہے۔
- فلسطینی عوام کے لیے الگ انسانی امداد دیگر ذرائع سے جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
